خیبر پختون خواہ میں ڈارون حملوں کیخلاف ایک شہری نے مقدمہ کے اندارج کی درخواست دی وہ 3 دن غائب رہا چوتھے دن آکر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں باپ کی بھی توبہ اب مقدمہ کا اندراج نہیں کرواؤں گا، سہیل آفریدی
عظمی بخاری نے لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے اگے بین ڈال کر کہا کہ جی فلاں فلاں نے میری فیک ویڈیو لیک کر دی جس پر ایک ورکر شفیق نے 20 ماہ قید کاٹی فلک کو تقریباً 11 ماہ ہو گئے ایک ورکر علی حسن نے چھ ماہ قید کاٹی ایک ورکر سعودی عرب سے پکڑ کے لے کے ائے وہ بھی پچھلے تین ماہ سے جیل میں ہے میں نے 10 دن جیل کاٹی اور دو لوگ پری ریسٹ پہ ہیں ٹوٹل سات لوگوں پر ٹرائل چل رہا ہے اور یہ محترمہ ایک دن بھی ٹرائل کا حصہ نہیں بنی اور بار بار غیر حاضریوں پر جب اس کو نوٹس کیا گیا تو اس نے ویڈیو لنک کی درخواست دے دی کہ میری جان کو خطرہ ہے جو دو مہینے کاروائی کے بعد ضلع کچہری میں مسترد ہوئی تو پھر اس نے اس ارڈر کو سیشن کورٹ میں چیلنج کر دیا اب چھ مہینے کے بعد اج وہ سیشن کورٹ سے بھی مسترد ہو گئی ہے اب یہ بی بی ٹرائل کا حصہ بنے گی یا نہیں دیکھتے ہیں اور اس کا شوہر بھی فارم 47 پر شاہدرہ سے یاسر گیلانی صاحب سے جیتا جس کے یاسر گیلانی صاحب نے کئی بار مکمل ثبوت دی فراہم کیے
آپ نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی اگر لانگ مارچ کا اعلان کیا تو 5 دنوں میں فارغ کر دئیے جاؤ گے،، کون ہے دھمکی دینے والا،، سہیل آفریدی سے زیشان عزیز کا سوال
سیکٹر کمانڈر نے دھمکی دی تھی، سہیل آفریدی
مکمل وی لاگ لنک میں
https://t.co/8KlMidGnVV
اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔
جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن کو لاوارث حالت میں ملا تھا۔6 سال عمر تھی۔
جاوید کی مادری زبان پشتو ہے۔ اس کے بقول وہ گھر سے نکل کر سمندر کے قریب کہیں پہنچا تھا تو وہاں سے پولیس کو ملا تھا۔
خاندان کے افراد میں سے کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
جاوید نے زندگی میں بہت ہی مشکل حالات دیکھے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اس وقت بے یار و مددگار زندگی بسر کررہا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھے اور اذیت ناک زندگی سے نکل کر سکون میں آجائے۔
ان شاءاللہ فیملی ملنے کے بعد ہم جاوید کی زندگی پر لکھیں گے آپ پڑھ کر اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پائیں گے۔ فی الحال اسکی تکلیف کا احساس کرکے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 Aug 2026
#waliullahmaroof
تمام قارئین
ٹاؤٹس یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو بطور ملک یا قوم کوئی بھی کامیابی ملے تو اسے ظالموں کے اقتدار کے لیے جواز بنایا جائے۔
یہ معاہدہ بہت اچھا ہے، مگر اس سے حکومت جعلی سے اصلی نہیں بن جائے گی۔
یہ معاہدہ شاندار ہے، مگر 45 اور 47 والا فرق ختم نہیں کر سکتا۔
یہ معاہدہ تاریخی ہے، مگر یہ آئین کی خلاف ورزیوں اور حلف توڑنے کو جسٹیفائی نہیں کرتا۔
یہ معاہدہ کمال ہے، مگر یہ انسانی حقوق کی پامالیوں اور بار بار ریاستی قتل عام پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔
یہ معاہدہ جتنا بھی اچھا ہو، یہ جبری گمشدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اس معاہدے کو سونے سے لکھیے، مگر یہ جیلوں میں پڑی بے گناہ خواتین کو گناہ گار یا مجرم نہیں بنا سکتا۔
یہ معاہدہ فریم کروا کر ہر پاکستانی کے گھر میں لگوانا چاہیے، مگر یہ معاہدہ 9 مئی، 26 نومبر، مریدکے اور راولہ کوٹ جیسے قتل عام کو جائز نہیں کر سکتا۔
لوگ اس معاہدے سے کتنے بھی خوش ہوں، یہ ان کی زندگیوں کو نہیں بدل سکتا۔ جو تلخ حقیقتیں ہمارے سامنے ہیں، انہیں تبدیل نہیں کرے گا۔
کیا اس شاندار معاہدے میں یہ لکھا ہے کہ آج کے بعد کوئی بنگالی، مہاجر، پٹھان، بلوچ، کشمیری، پنجابی یا سندھی غدار نہیں کہلائے گا؟ یہ آگ تو جلتی رہے گی۔
قوم خود تو خوش ہے مگر وہ خود پر زبردستی مسلط ظالم رجیم کے ساتھ ناچنا گانا نہیں چاہتی۔ بس یہی فرق ہے جو ٹاؤٹس کو سمجھ نہیں آرہا۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔
@ImranRiaz__Fan بیرسٹر گوہر موجود تھا سمجھیں کہ کنفرم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہے ،
میرا یہ ٹویٹ محفوظ کر لیں ،ٹرک کی بتی نہ ہوئی تو جو شرط لگانی ہے میں تیار ہوں
محسن نقوی جب نگران وزیراعلیٰ بنائے گئے تو انہوں نے پی ٹی آئی کو توڑنے، گرانے اور ظلم و ستم ڈھانے میں وہ کردار ادا کیا جو ایک نگران کو زیب نہیں دیتا۔۔انہوں نے یہ اسلئے کیا کیونکہ انکا سیاسی مستقبل پی ٹی آئی کی ہار سے جڑا ہوا تھا۔۔انہوں نے یقینی بنایا تھا کہ پی ٹی آئی ہار جائے۔۔اب وہی محسن نقوی اصولوں کی بات کرینگے؟انکے منہ سے اصولوں کی بات اچھی لگتی ہے کہ سسٹم نہیں چل رہا؟۔۔سسٹم تو واقعی نہیں چل رہالیکن یہ بات کہنے کیلئے بھی تو کوئی منہ ہونا چاہیئے۔۔کوئی کریڈیبل چہرہ ہونا چاہیئے:اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
@RahmatKhanKundi ہم بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہیں ، جنھوں نے نکلنا ہوتا ہے انکے پاس ایسے بہانے نہیں ہوتے ، گنڈا پور کی وفاداری شکوک و شبہات کی ہر حد پار کر چکی ہے اور اس میں اور باقی لوٹوں میں فرق نہیں رہا ،خان کے باہر آنے کی دیر ہے انشاللہ فارغ ہوگا یہ مچھڑ
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥