ہرن کی خوبصورتی کسی جنگلی شیر کو مہربان نہیں بنا سکتی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کتنے ہی خوبصورت، محبت کرنے والے، یا مہربان ہیں، آپ کسی
ایسے شخص کو تبدیل نہیں کر سکتے
https://t.co/1ddc2n4f9Y
لاہور ہائی کورٹ میں رضوی برداران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت، جسٹس جواد ظفر نے بغیر کسی کارروائی کے 49 دن بعد کی تاریخ دے کر سماعت ملتوی کردی۔
Welcome To "International Family Flowers Space Gain 1000 Flowers Adil Khan" Space.
Say hi 👋
Must Follow
@SIA_VIBES
If You want to gain more and more flowers Daily
https://t.co/QwBTyuP8Ty
مجھ کو نہیں قبول یہ دستور معذرت
جب کہہ دیا تو مت کریں مجبور معذرت
میری انا کو اپ کے حکموں سے بیر ہے
دیکھیں جناب اپ سے بھرپور معذرت
ان ،، لفظوں ،، کی ادائیگی ،، دشوار ،، ہے مجھے
،،تسلیم ،، جی ،، بجا ،، صحیح ،، منظور ،، معذرت
https://t.co/8UWEi6jgQA
لاہور ہائیکورٹ رضوی برداران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت
جسٹس جواد ظفر نے بغیر کسی کارروائی کے 49 دن بعد کی تاریخ دے کر سماعت ملتوی کردی
چھٹی مرتبہ جج کی تبدیلی کے بعد یہ اہم نوعیت کا کیس ایک بار پھر جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں منتقل ہوا تھا
دورانِ سماعت جسٹس جواد ظفر نے کیس میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا اور کہا کہ فی الحال تعطیلات ہیں، سماعت نہیں کرسکتا
جسٹس جواد ظفر نے کہا کہ ستمبر میں دستیاب نہیں ہوں، آئندہ سماعت کی تاریخ اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں دے سکتا ہوں
ٹی ایل پی وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور وہ 318 دن سے جبری گمشدہ ہیں
ٹی ایل پی کے وکلاء نے جسٹس جواد ظفر پر زور دیا کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر فوری کارروائی کی جائے
جسٹس جواد ظفر نے معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 15 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی
حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کو ریاستی اداروں نے 13 اکتوبر 2025، سانحہ مریدکے کے روز گرفتار کرکے جبری گمشدہ کردیا تھا
اب 15 اکتوبر 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت تک اُن کی جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہوگا
کیا ہم اسلامی مملکت میں رہتے ہیں؟
چلو سعد رضوی سے تمہاری دشمنی سمجھ آتی ہے
لیکن تاجدارِ ختم نبوت،خلفائے راشدین اور
فلسطینی پرچم مٹانے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
قادیانیت نوازی✔️
رافضیت نوازی ✔️
کفر نوازی ✔️
لاہور ہائیکورٹ رضوی برداران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت
جسٹس جواد ظفر نے بغیر کسی کارروائی کے 49 دن بعد کی تاریخ دے کر سماعت ملتوی کردی
چھٹی مرتبہ جج کی تبدیلی کے بعد یہ اہم نوعیت کا کیس ایک بار پھر جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں منتقل ہوا تھا
دورانِ سماعت جسٹس جواد ظفر نے کیس میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا اور کہا کہ فی الحال تعطیلات ہیں، سماعت نہیں کرسکتا
جسٹس جواد ظفر نے کہا کہ ستمبر میں دستیاب نہیں ہوں، آئندہ سماعت کی تاریخ اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں دے سکتا ہوں
ٹی ایل پی وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور وہ 318 دن سے جبری گمشدہ ہیں
ٹی ایل پی کے وکلاء نے جسٹس جواد ظفر پر زور دیا کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر فوری کارروائی کی جائے
جسٹس جواد ظفر نے معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 15 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی
حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کو ریاستی اداروں نے 13 اکتوبر 2025، سانحہ مریدکے کے روز گرفتار کرکے جبری گمشدہ کردیا تھا
اب 15 اکتوبر 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت تک اُن کی جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہوگا
یرغمال عدالتی نظام سے اور کوئی توقع نہیں !
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں
ہمیں انصاف کیا دیں گے؟
لکّھا ہے اِن کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے
اُٹھائیں لاکھ دِیواریں ، طلوعِ مہر تو ہو گا
یہ شب کے پاسبان کب تک نہ ہم کو راستہ دیں گے
یہاں اب انصاف محض سراب ہے اور اس سراب کے پیچھے تحریک کے وکلاء کی جدوجہد روز ٹوٹ کے بکھرتی ہے،ریاستی اداروں کی مداخلت نے انصاف کے پورے تصور کو مجروح کر دیا ہے، سوال کیجیے کہ انصاف کے تقاضے سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟
🚨 لاہور ہائی کورٹ: رضوی برداران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں افسوس ناک پیشرفت؛ جسٹس جواد ظفر نے بغیر کسی کارروائی کے 49 دن بعد کی تاریخ دے کر سماعت ملتوی کردی
اب 15 اکتوبر 2026 کو ہونے والی آئندہ سماعت تک اُن کی جبری گمشدگی کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہوگا
مذہبی تقریب کے تشہیری بینر پر خادم حسین رضوی کی تصویر لگانے پر منتظم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تفصیل: https://t.co/aouEfo1OA4
پولیس کی ہٹ دھرمی جاری رہی
کس طرح پنجاب میں آج میلاد کے جلوس پر بھی پابندیاں لگائ جا رہی ہیں
ہارڈ اسٹیٹ نے فیصلہ کر لیا ہے اس ملک میں اہلسنت کو کوئ جگہ نہیں دی جاۓ گی