ڈاکٹر یاسمین راشد کا لاہور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس کے نام کھلا خط
ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ خواتین سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر فوری توجہ دی جائے، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ایک آزاد عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین قیدیوں کے مقدمات دباؤ اور خوف سے آزاد ہو کر صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر سنے جائیں۔
خواتین، بزرگ، بیمار اور کمزور قیدیوں کو قانون کے تحت حاصل خصوصی تحفظات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت خواتین اور کمزور افراد کے لیے ضمانتی رعایتوں کا اطلاق یکساں طور پر نہیں ہو رہا۔
اقوام متحدہ کے بینکاک رولز اور نیلسن منڈیلا جیسے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے خواتین قیدیوں کے ساتھ انسانی، باوقار اور صنفی لحاظ سے حساس سلوک ضروری ہے مگر ان اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بشریٰ بی بی، عالیہ حمزہ ملک، صنم جاوید خان، فلک جاوید خان اور رائے فردوس سمیت متعدد خواتین کو طویل قید، بار بار گرفتاریوں اور قانونی ریلیف سے ��حرومی کا سامنا ہے۔
وہ خود 76 سالہ کینسر سے صحت یاب مریضہ ہیں اور تقریباً تین سال سے قید میں ہیں جبکہ ان کا جرم صرف سیاسی وابستگی اور ضمیر پر سمجھوتہ نہ کرنا ہے۔
چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی ہوئی، خواتین اور اہل خانہ کی تذلیل کی گئی اور بچوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
پنجاب میں پی ٹی آئی خواتین کارکنوں کے مقدمات اور مسلسل حراست سنگین سوالیہ نشان ہیں جنہیں فوری عدالتی توجہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کو سزا کے طور پر استعمال نہ کرنے اور کسی کو سزا سے پہلے سزا نہ دینے کا مطالبہ کیا۔
ایک آزاد عدالتی کمیشن کے قیام کی ضرورت ہے جو گرفتاریوں، بار بار گرفتاریوں، ضمانت سے محرومی، ناروا سلوک، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور قانونی عمل کے غلط استعمال کی مکمل جانچ کرے۔ خواتین سیاسی قیدیوں کے مقدمات فوری اور ترجیحی بنیاد پر صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر سنے جائیں۔
ایک عورت کو انصاف سے محروم کرنا درحقیقت تمام خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ سے اپیل ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے اور کوئی خاتون قیدی انصاف کی پکار کے ساتھ جیل کی دیواروں کے پیچھے فراموش نہ کی جائے۔
ڈالٹر یاسمین راشد
@Dr_YasminRashid
ضمیر کی قیدی
کوٹ لکھ پت جیل
یہ ڈرامے بازیاں کرتے ہیں محسن نقوی آئے گا ان کو ہاتھ سے یا کان سے پکڑ کر لائے گا اور آپ ووٹ دے دیں گے اب یہ ڈرامے بازیاں بند ہونی چاہئیں ۔
جنید اکبر کی پیپلز پارٹی پر ��نقید