احمد الشرع اپنے شہزادے یمن بھیجنے پر غور کر رہا ہے جسے پراکسیوں کا صفایا کرنا آتا ہے ❤️
اونچا اونچا رونا شروع کرو “ ماتم کرو “ بال نوچ ڈالو “ انشااللہ تمام مسلمان ممالک سے تمھاری پلید پراکسیوں کا صفایا ہوگا اُمّہ چُمہ کے نام پر جہاد کے نام پر یمن تباہ کرنے والوں کا انجام قریب ہے
حوثیوں کو پیش قدمی کا موقعہ دے کر پہلے ایران سے اقرار کروایا کہ اس کا حوثیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اب حوثیوں کو بری طرح کچلتا دیکھ کر ایران کی شدید خواہش ہے کہ سعودی اور چوتیوں کے درمیان ثالثی ہو جائے۔ اسے کہتے ہیں تھیلے سے کتے (ایران) کو باہر نکالنا۔
1/2👇🏻
باغ فدک کی وہ بستی جہاں حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرا کرتے تھے۔
کاش مجھے وہ راستہ مل جائے جہاں سے رسول اللہ گزرے ہوں۔ میں اس راستے کی خاک اپنے چہرے پر لگاؤں ۔۔ کاش میں آپکا چہرہ مبارک دیکھ سکتا❤️
🚩سید نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میرے شیعہ میں کوئی ممتاز وصف ہےتو وہ یہی ہے کہ میں نے جب اپنے شیعہ کا امتحان لیا،اِن کو مرتدہی پایا،تو ہزار میں سے ایک بھی مخلص نہیں تھا۔ روضۃ الکافی جلد صفحہ124
حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں:
اُن حضرات سے زیادہ، جن پر رسول اللہ ﷺ مرتے دم تک خوش رہے، اس امرِ خلافت کا کوئی شخص حق دار نہیں، اُنہوں نے نام گنوائے:
علیؓ،
عثمانؓ،
زبیرؓ،
طلحہؓ،
سعدؓ، اور
عبد الرحمٰنؓ.
مشکوٰۃ 6108
(بخاری 3700، 1392)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کیالبدایۃ والنھایۃ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی"الاصاب" کے مطابق سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ سے باہر "عقیق" نامی مقام پر ہوا، اور ان کاجنازہ ، مدینہ لایا گیا، یہیں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور بقیع میں تدفین ہوئی، مشہور قول کے مطابق یہ واقعہ سنہ ۵۵ ہجری میں اور دوسرے قول کے مطابق ۵۸ ہجری میں پیش آیا۔
ابن سعد کی الطبقات الکبریٰ کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور ان کا نسب بنو زہرہ سے تھا۔ امام ابن جریر طبری نے تاریخ الرسل والملوک تاریخ طبری میں حضرت سعد کی عسکری صلاحیتوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے، جہاں وہ خلافتِ فاروقی میں فاتحِ ایران اور امیرِ لشکر کی حیثیت سے ابھرتے ہیں اور معرکہ قادسیہ کے سچے تاریخی حقائق اسی کتاب کی زینت ہیں۔
حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کے قبولِ اسلام کا وہ واقعہ نقل کیا ہے جب ان کی والدہ نے اسلام چھوڑنے کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی اور اسی پس منظر میں سورہ لقمان کی پندرہویں آیت نازل ہوئی؛ اسی کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ وہ بقیع میں دفن ہونے والے آخری مہاجر صحابی تھے۔ اسماء الرجال کی مستند ترین کتاب الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے ان کے مستجاب الدعوات (جن کی دعا رد نہیں ہوتی) ہونے کے تاریخی واقعات درج کیے ہیں، جن کی تصدیق صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جہاں غزوۂ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ان سے یہ فرمانا ثابت ہے کہ "تیر چلاؤ سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں"۔
📍 The House of Fāṭimah (رضي الله عنها) – Inside the Sacred Chamber, al-Masjid an-Nabawī, Madinah
This spot lies within the golden grilles that surround the Prophet's ﷺ resting place, and it is all that remains of the home of his youngest daughter, Fāṭimah az-Zahrāʾ (رضي الله عنها), and her husband ʿAlī ibn Abī Ṭālib (رضي الله عنه).
Their home stood directly north of the room of ʿĀʾishah رضي الله عنها, where the Prophet ﷺ is buried. The two homes were separated only by a wall, so the Prophet ﷺ was always within a few steps of his daughter.
In 88–91 AH / 707–710 CE, ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz (رحمه الله) rebuilt the mosque on the orders of the caliph al-Walīd, and the Prophet's ﷺ wives' apartments were brought into the building. Part of Fāṭimah's (رضي الله عنها) house went inside the new five-sided wall around the Prophet's ﷺ resting place.
Today the site is inside the grille enclosure put up by the Mamluk Sultan Qāytbāy after the great fire of 886 AH / 1481 CE. The door on the eastern side of the enclosure is still called Bāb Fāṭimah, the Door of Fāṭimah.
Behind the house, on its northern side, the Prophet ﷺ is reported to have spread a mat at night and prayed Tahajjud. That spot was later marked as the Miḥrāb at-Tahajjud.
The cloth-draped structure is known as Sarīr Fāṭimah, "the Bed of Fāṭimah". It is not a grave. It is a raised, box-like structure dressed in the same green-and-red kiswah style used inside the Sacred Chamber.
For centuries it served a practical purpose. Gifts sent to the Prophet's ﷺ Mosque by sultans, royal women and dignitaries (lamps, silver and gold) were stored in chests beneath it. Much of this treasury was taken to Istanbul in the Ottoman era and is now in the Topkapı Palace collections.
اتنے دن تک فسادیوں نے گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو دینے کے حوالے سے پروپیگنڈہ کیا... اور کل اقوام متحدہ میں احمد الشرع نے وہ پہاڑیاں چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا.
اور اس کے بعد یہ دو پرچم اکٹھے دیکھ کر آگ کہاں کہاں لگی... دھوئیں سے پتا چلے گا #اليوم_الوطني_السعودي_٩٦ #اليوم_الوطني_٩٦ #خليجي٢٧ #ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
شامی صدر احمد الشرع نے ٹرمپ سے ملاقات کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا
کہتے ہیں، جب وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے کہا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی ہیں تو میں نے ازراہِ مذاق کہا
’’پھر نیو جرسی اسرائیل کو کیوں نہیں دے دیتے؟ گولان کی پہاڑیاں تو آپ کی ملکیت ہی نہیں کہ کسی کو دے سکیں، البتہ نیو جرسی تو آپ کی اپنی ہے!‘‘
پھر انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے نیو جرسی میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے اور وہ ٹرمپ کو ووٹ بھی نہیں دیتے، اس لیے شاید اسے اسرائیل کے حوالے کرنا ہی اچھا رہے گا، کم از کم یہ ایسی چیز تو ہے جس کے مالک آپ واقعی ہیں گولان کی پہاڑیاں تو ٹرمپ کی ملکیت نہیں
اور پھر مذاق سے ہٹ کر سیریسلی کہا کہ
گولان کی پہاڑیاں وہاں کے اپنے لوگوں کی ہیں، نہ شامی صدر کو یہ حق ہے کہ انہیں کسی کے حوالے کرے، نہ امریکی صدر کو، نہ کسی اور شخص کو کہ وہ ان سے دست بردار ہو یا انہیں کسی دوسرے کے حوالے کردے
عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے سنی ممالک میں اپنی پراکسیز کے ذریعے برسوں گندا کھیل کھیلنے کے بعد بھی اتنی ڈھٹائی سے یہ کہنا کہ ’’ہم نے تو کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا‘‘ایسا دوہرا چہرہ اور اتنا حوصلہ شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے
آپ وہی ہیں نا کہ 2003ء میں جب عراق جنگ کی آگ میں جل رہا تھا، بدر کور اور مہدی ملیشیا میدان میں اتری ہوئی تھیں، تو دوسری طرف آپ کے وزیرِ خارجہ کمال خرازی یہ کہتے رہے کہ ایران کا عراق جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں، اور اسی دوران آپ کی جانب سے مقتدیٰ الصدر کے دھڑے کو ہتھیار اور میزائل فراہم کیے جانے کے ثبوت بھی سامنے آتے رہے
آپ نے بشار الاسد کی رجیم کے ساتھ کھڑے ہوکر شام میں جو کردار ادا کیا، وہ بھی دنیا کے سامنے ہے، قدس فورس، حزب اللہ، فاطمیون، زینبیون اور دیگر ایران نواز جنگجوؤں کے ذریعے بشار رجیم کو سہارا دیا گیا، جبکہ شام کی جنگ نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لیں اور لاکھوں کو بے گھر کیا
کاش کہ شرم نام کی کوئ چیز ہوتی
کسی آپ اس فورم پر دنیا کو بتاسکتے ہیں کہ
قدس فورس کیا ہے؟
حزب اللہ کیا ہے؟
حشد الشعبی کیا ہے؟
بدر آرگنائزیشن کیا ہے؟
مہدی آرمی کیا ہے؟
کتائب حزب اللہ کیا ہے؟
عصائب اہل الحق کیا ہے؟
حرکت حزب اللہ النجباء کیا ہے؟
کتائب سید الشہداء کیا ہے؟
کتائب امام علی کیا ہے؟
سرایا الخراسانی کیا ہے؟
حرکت انصار اللہ الاوفیاء کیا ہے؟
حرکت الابدال کیا ہے؟
سرایا الجہاد کیا ہے؟
لواء الطفوف کیا ہے؟
فاطمیون کیا ہے؟
زینبیون کیا ہے؟
لواء ابو الفضل العباس کیا ہے؟
قوات الرضا کیا ہے؟
لواء امام الحسین کیا ہے؟
لواء ذوالفقار کیا ہے؟
لواء الباقر کیا ہے؟
حسینیون کیا ہے؟
آپ کا تو پاکستان جیسا پڑوسی بھی آپ کی پراکسی سرگرمیوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے متعدد مواقع پر ایسے افراد کو گرفتار کیا جن کے بارے میں ریاستی اداروں کا مؤقف رہا کہ وہ ایران میں تربیت حاصل کرکے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لیے بھیجے گئے تھے
لیکن کمال دیکھیے!
اتنے سارے گروہ، اتنی ساری جنگیں، اتنی ساری مداخلتیں، اتنی ساری ہلاکتیں اور اتنی ساری تباہی کے باوجود آپ اطمینان سے بیٹھ کر کہتے ہیں کہ ہم نے تو کچھ نہیں کیا، واہ !!!!!
ارے سب چھوڑیں تازہ ترین یمن اور انصار اللہ کا معاملہ تو آج دنیا کے سامنے ہے
حوثیوں کو ہتھیار اور معاونت فراہم کرنے کے الزامات نہیں ثبوت ہیں ،حوثیوں نے آپکی مدد اور آپکے اشارے پر سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، سعودی تنصیبات اور جہاز رانی کو نشانہ بنایا، اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ G7 کے وزرائے خارجہ بھی ایران سے حوثیوں کو مسلح کرنے اور ان کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں
یعنی ایک طرف انصار اللہ کے ساتھ تعلق اور معاونت کے ثبوت اور دوسری طرف خطے میں حملے، اور تیسری طرف دنیا کے سامنے معصومیت کا ڈھنڈورا کہ
’’ہم نے تو کسی پر حملہ نہیں کیا!‘‘
اللہ کی قسم!
آپ کو سیاست نہیں، ایکٹنگ میں آسکر ملنا چاہیے!
اتنی بڑی پراکسی مشینری کھڑی کرکے، عراق سے شام اور لبنان سے یمن تک مسلح گروہوں کی سرپرستی کے کھلے ثبوتوں کے باوجود، ہر بار ہاتھ جھاڑ کر معصوم بن جانے کا فن واقعی کمال کا ہے
آپکی تو مکمل رجیم کے خلاف جنگی جرائم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اورمسلح گروہوں کی غیر قانونی معاونت کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ پوری رجیم کے خلاف شفاف، غیر جانب دار اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تحقیقات اور، جرم ثابت ہونے پر، مقدمات ہونے چاہئیں
کیونکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں اجیرن کرنے، لاکھوں لوگوں کو مارنے اوربے گھر کرنے، اور پورے خطے کو دہائیوں تک جنگ اور تباہی میں دھکیلنے کے بعد کمال ڈھٹائ اور بے غیرتی سے صرف ایک جملہ بول دینا
’’ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں‘‘
اس سے جان نہیں چھوٹے گی
اب آپکی حقیقت کھل چکی ہے
آپ جھوٹے ہیں
آپ پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہئیں
آفتاب نذیر