ان میں کون سا بچہ خوش قسمت رہا جس کو ایک لیڈر نے سڑک سے اٹھا کر مفت تعلیم دی, مفت لیپ ٹاپ دیا، آج وہ ڈاکٹر بن رہا ہے، یا وہ بچہ جس کے لیڈر نے صرف فوٹو سیشن کے لیے اپنے cult ناسمجھ فین کو دستخط کروا کے گھر بھیج دیا!
ان میں کون سا بچہ خوش قسمت رہا جس کو ایک لیڈر نے سڑک سے اٹھا کر مفت تعلیم دی, مفت لیپ ٹاپ دیا، آج وہ ڈاکٹر بن رہا ہے، یا وہ بچہ جس کے لیڈر نے صرف فوٹو سیشن کے لیے اپنے cult ناسمجھ فین کو دستخط کروا کے گھر بھیج دیا!
چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں جس نے اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہر علامت کو جلا کر راکھ کردیا ��ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا ، اسے شاہی مہمان بنا کر رکھنا ، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پر حملہ کیا گیا ۔
چیف جسٹس صاحب! آپ اب عدلیہ ہی نہیں ، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک دہشتگر کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں- آپ اپنی کرسی کو عمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لئے تیار رہیں۔