بیت اللہ سے بچھڑنے کااحساس شروع ہوتے ہی حجاج پر اداسی کی ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔طواف وداع پر دیکھیے عمران منصب خان کی یہ رپورٹ
اسلام آباد میں اٹلی کے 80 ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد پاکستان اور اٹلی کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، 80 برس قبل اٹلی میں ریفرنڈم کے ذریعے ملوکیت کا خاتمہ ہوا۔ اسی تاریخی دن اطالوی خواتین کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا
اسلام آباد میں اٹلی کے 80 ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد پاکستان اور اٹلی کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، 80 برس قبل اٹلی میں ریفرنڈم کے ذریعے ملوکیت کا خاتمہ ہوا۔ اسی تاریخی دن اطالوی خواتین کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا
نظریاتی صحافت کا ایک اور روشن باب اپنے اختتام کو پہنچا۔
معروف صحافی، دانشور اور نظریاتی صحافت کے معمار الطاف حسن قریشی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مرحوم نے اپنی قلمی جدوجہد، فکری بصیرت اور قومی صحافت میں بے مثال خدمات کے ذریعے ایک ایسا معیار قائم کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
On behalf of late politician Ex senator Taj Haider, his wife receives the Hilal-e-Imtiaz with deep gratitude and emotions thanking the President of Pakistan for honoring his lifelong services, wishing he were here to receive it himself.
@ciaceciappa@Ufaq_RM@DThucydides@IIUI_OFFICIAL بسوں کے متعدد حادثات ان کی ڈرائیونگ کا معیار بتانے کے لیے کافی ہے سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے ان کا محاسبہ بھی کیا ہے کہ نہین ۔اصل ذمہ دار وہ ہے جو ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا انجوائے کر رہا ہے
@mfyslamnt@zeshmohmand@Kashifabbasiary کاشف عباسی نے اپنا میڈیا ٹاؤن کا پلاٹ زلزلہ زدگان کے فنڈ میں دے دیا تھا جس کی مالیت اج کے دور میں تقریبا چار کروڑ روپے ہے کسی پہ الزام لگانے سے پہلے اس کے بارے میں تھوڑی سی معلومات ضرور حاصل کر لیں
امریکا ایران مذاکرات کی رپورٹنگ کرنے والوں پر تنقید کیوں؟
دو ممالک کے اعلی سطحی وفود کے درمیان مذاکرات تھے تو اس کی رپورٹنگ میں guess work کے ساتھ خبر دینا مذاکرات کو سبوتاژ کرنے یا میزبان ملک کو عالمی سطح پر شرمندہ کرانے کے مترادف تھا
رپورٹنگ کا ایک ہی طریقہ تھا کہ صرف مصدقہ خبر دی جائے جو کہ صرف وفد میں شامل افراد کی طرف سے ہی سامنے آنی تھی۔ جیسا کہ ہوا بھی۔ اس کی خبر ایسے ہی نکلنی تھی کہ دونوں ممالک کے وفود میں شامل افراد میڈیا کو بریف کریں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے انفارمیشن براہ راست عوام تک پہنچائیں
امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود میں شامل افراد کا کبھی ہمارے نیوز رپورٹرز کے ساتھ ایسا رابطہ یا interaction نہیں رہا کہ وہ انہیں انفارمیشن لیک کر کے نیوز بریک کرواتے، بلکہ اپنے ممالک سے آئے قابل اعتماد جرنلسٹس کو بھی خبر فیڈ نا کی بلکہ clarity کے ساتھ خود پریس ٹاک کی
باقی جنہیں صحافت کی الف ب بھی نہیں معلوم وہ لگے رہیں۔ ایسی باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ ہمارے ہاں سنسنی پھیلانے اور ٹیبل اسٹوریز گھڑنے کا ایک ٹرینڈ ہے۔ بند کمرے کے اجلاس کی اندازے پر رپورٹنگ کر کے بریکنگ نیوز چلوانے کا رواج ہے۔ خبر ٹھیک ہو جائے تو چھکا، باؤنس ہو جائے تو کوئی بات نہیں کیونکہ ہمارے ہاں بیپر کرانے اور حاضری کے لیے کچھ نا کچھ ضرور فائل کرنے کا رواج ہے
یہاں اس طرح کی حرکت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بدنامی یا کسی ایک فریق کی سائیڈ لینے کے الزام کا باعث بنتی۔ میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور درست کیا۔ جو صحافی خود میڈیا سنٹر تک رسائی حاصل نا کر سکے وہ اب تنقید کے تشتر برسا رہے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جن کی پیدائش اسٹوڈیو میں ہوئی اور کبھی فیلڈ رپورٹنگ نہیں کی
اچھا رپورٹر وہی ہوتا ہے جو مصدقہ خبر دے، ورنہ حاضری لگوانے کے لیے اندازے پر یا خواہش کو خبر بنانے والوں کی نا صرف ساکھ متاثر ہوتی ہے اور کوئی سنجیدہ نہیں لیتا بلکہ انہیں خفت بھی اٹھانا پڑتی ہے، سبکی کا بھی سامنا ہوتا ہے
تقریباً چار دہائیوں تک پاکستان ٹیلی ویژن نیو ز میں اعلی پیشہ وارانہ ذمہ دارانہ خدمات انجام دینے کے بعد کنٹرولراور سینئر صحافی علی رحمان اسلام آباد مرکز سے ریٹائر ہو گئے۔ پی ٹی وی نیوز میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آخری دن علی رحمان صاحب سے ایک مختصر ملاقات