عرفان صدیقی بھی بڑا غلیظ آدمی تھا
باطل کا دفاع یوں کرتا تھا کہ شیطان بھی شرما جاتا تھا، دوسرا یہ اعظم نذیر تارڑ ہے
چار پیسوں کیلئے ایمان اور ضمیر کو یوں کچل کر بیچ دینا ، صرف انہی کا کام ہے
استغفرُللہ العظیم !
#پاکستان
عمران خان کی گیارہ ماہ کی طویل قید تنہائی کے بعد اگر احتجاج کرنا جرم ہے تو پھر ہم مجرم ہیں۔ اگر اس کے ردعمل میں ہم فوج کے زندوں مردوں کی عزت نہیں کرتے تو ہم حق بجانب ہیں۔
عمران خان اس لیے بھی برا تھا کہ وہ قوم کو ولیم ڈیرارمپل کی کتاب The Anarchy پڑھاتا تھا جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے اور طریقہ واردات کی مکمل روداد درج ہے۔ وہ قوم کو ارتغرل غازی کا ڈرامہ دیکھنے کا بولتا جس میں غیرت، حمیت اورخودداری کےسبق اوربیرونی غلامی سےبیزاری کا سبق ہے۔ وہ قوم کو اقبال پڑھنے کاکہتا جنکی نوے فیصد شاعری میں اسلامی نظام کی روح سے قوم کو آشناس کرانے کی کوشش ہے۔ وہ قوم کو لاالہ الاللہ اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کا سبق پڑھا رہا تھا۔ جس میں انسان کو اللہ کو ماننے، اللہ کی ماننے اور اللہ سے مانگنے کا درس ہے اور دیگر تمام زمینی طاغوتی طاقتوں کی نفی ہے۔ عمران خان قوم کو ریاست مدینہ کے خواب دکھا رہا تھا جس میں ہر شہری کے حقوق ہوتے اور سربراہ حکمران نہیں بلکہ خادم ہوتا ہے۔ عمران خان سے سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ معاشی استحکام کی کوشش کے علاوہ قوم کی ایسی زہن سازی کررہا تھا جس سے ایک اللہ پہ بھروسہ کرنے والی، اپنی حمیت کا پرچار کرنے والی، ایک انصاف پسند پر امن ویلفئیر اسٹیٹ بننے کی کوشش کرنے والی نسل بننے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ ایسی قوم جس کے درمیان ڈیڈھ دو سو خاندانوں، چند کارٹیلز، اشرافیہ اور بدمعاشیہ اس ملک کو ایک چراگاہ یا شکارگاہ نا بنا سکتے تھے۔ جس میں قانون صرف کمزور کی سرکوبی کےلیے استعمال نا ہوتا بلکہ طاقتور سے بھی سوال و حساب ہوتا۔ ایسا نظام، ایسے نظام کی سوچ اور اسکی تکمیل کی جدوجہد یقینی طور پر سامراج، استعمار اور اسکے حامیوں کےلیے ایک ڈراونہ خواب تھا۔ اس وقت بھی عمران خان کی رہائی کوئی مسئلہ نہیں، اسکا دوبارہ وزیراعظم بننا بھی کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ وہ تاحیات حکمران بھی بن سکتا ہے۔ اگر وہ صرف اور صرف ڈونلڈ لو وغیرہ کو یقین دہانی کروا دے کہ وہ ریاست مدینہ کا خواب و جدوجہد ترک کردےگا۔ لیکن بقول شاعر۔۔۔
بدل ڈالوں اگر میں اپنا لہجہ
بہت مشکل میری پہچان ہوگی۔
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے آگ میں پھینکا، تو اللہ تعالی نے اس دہکتی ہوئی آگ کو حکم دیا:
"اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔"
حضرت ابراہیم کی مدد اللہ نے اپنے حکم سے فرمائی۔
اسی واقعے سے جڑی ایک مشہور حکایت ہے کہ ایک ننھی سی چڑیا اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ لے کر اس آگ کی طرف جاتی تھی۔ لوگوں نے اس سے کہا:
"تمہارے اس ایک قطرے سے بھلا اتنی بڑی آگ کیسے بجھے گی؟"
چڑیا نے جواب دیا:
"مجھے معلوم ہے کہ میرے اس ایک قطرے سے یہ آگ نہیں بجھے گی۔ لیکن جب اللہ کے سامنے میرا حساب ہوگا تو میں یہ ضرور کہہ سکوں گی کہ جب ابراہیم کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا، میں خاموش تماشائی نہیں تھی۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ کرنے کی کوشش کی تھی۔"
شاید یہی بات ہمیں بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے!
دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لوگ کس طرف جا رہے ہیں، ظلم کب ختم ہوگا، کون کب پکڑا جائے گا؛ یہ سب میرے اور آپکے اختیار میں نہیں۔
نتیجہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے!
قرآن ہمیں بار بار یاد کرواتا ہے کہ اللہ کے فیصلوں کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ کسی کو مہلت مل رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اللہ کی گرفت سے باہر ہے۔ جنکی رسیاں دراز ہیں، وہ بھی ایک مقرر وقت تک ہی دراز ہیں۔
ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔
اپنے حصے کی آواز اٹھانی ہے۔
اپنے حصے کی نیکی کرنی ہے۔
اپنے حصے کا حق ادا کرنا ہے۔
اور اپنی استطاعت کے مطابق اس آگ پر اپنے حصے کا وہ ایک قطرہ ڈالتے رہنا ہے۔
ہو سکتا ہے ہمارا ایک قطرہ دنیا نہ بدل سکے۔
لیکن شاید اللہ کے ہاں اصل سوال یہ نہ ہو کہ تم نے دنیا بدل دی یا نہیں؟
اصل سوال یہ ہو:
"جب تم نے دیکھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے، تو تم نے اپنی استطاعت کے مطابق کیا کیا؟"
اس لیے میں وہ چڑیا بننا چاہتی ہوں۔
اور چاہتی ہوں کہ آپ بھی وہ چڑیا بن کر رہیں۔
باقی آگ بجھانا، حالات بدلنا، ظالم کو پکڑنا، حق کو غالب کرنا؛ یہ اللہ کا کام ہے۔
ہمیں بس اپنا قطرہ ڈالتے رہنا ہے۔
نتیجہ اللہ پر چھوڑ کر!
16 اپریل 1947 کو جرمن فوجی اور جنگی مجرم رڈولف ہوژ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا، رڈولف کنسنٹریشن کیمپ کا کمانڈر تھا، یہ شخص دس 10،00،000 لاکھ یہو–دیوں اور دوسرے قیدیوں کی کیمپ میں موت کا ذمہ دار تھا - جنگ کے بعد رڈولف بزدلی کے ساتھ نقلی نام رکھ کر کچھ عرصہ تک جیتا رہا لیکن 1946 میں برطانویوں نے اسے گرفتار کرلیا، اس نے جیل میں اپنی سوانح عمری لکھی، اسے شرمندگی تو تھی لیکن اپنے کیے جرائم پر اس نے کبھی بھی معافی نہیں مانگی اور اپنی صفائی میں صرف یہ کہا:
"میں نے تو وہی کیا جو مجھے آرڈر ملا تھا -"
چنانچہ مارچ 1947 میں اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا -
آج ایک ملک کی فوج کے آرمی چیف سے لیکر چھوٹے بڑے تمام اہلکاروں تک سب مجرم اپنے سنگین اور ناقابل معافی جرائم کی صفائی پیش کرتے ہوئے بڑے معصومانہ انداز میں یہی کہتے ہیں؛
"ہم مجبور تھے ، ہم تو آرڈر کے پابند تھے "
یاد رکھیں آرڈر دینے والا آپ ہی طرح کا ایک انسان ہے اگر اسے ظلم سے روکنے کے بجائے آپ اس کے سہولت کار آلہ کار مددگار بنتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ جرم اور ظلم میں برابر کے شریک ہیں اور اپنی موت سے قبل اس دنیا میں ہی اپنے ظلم کی سزا بھگت کر جائیں گے. جبکہ قبر اور حشر کی سزا الگ سے ملے گی.
بہت سے ظالم خدا کی مار پڑنے کے بعد آج عجائب گھروں میں نشان عبرت بنے پڑے ہیں اور دنیا ہر روز ان کی عبرتناک موت کا تماشا دیکھنے آتی ہے.
ان الانسان ظلوما جهولا!
تحریر: Musa Pasha
نکاح نامہ جعلی ہونے سے کیا مراد ہے؟
یہ کوئی پاسپورٹ یا شناختی کارڈ نہیں ہوتا کہ جو جعلی تیار ہوجائے۔ نکاح نامہ جعلی اس صورت میں ہوتا ہے جب اس کوائف کا اندراج غلط ہو۔
مریم نواز کے نکاح نامے میں تمام تر معلومات درست لکھی گئی تھیں، دلہا دلہن کے کوائف، گواہان کے کوائف، دستخط، ہر شے درست تھی سوائے ایک انٹری کے، اور وہ تھی نکاح کی تاریخ۔
اس جعلی نکاح نامے کا تمام ایجنسیوں اور سیاستدانوں کو علم تھا لیکن کبھی کسی نے اسے بلیک میلنگ کیلئے استعمال نہ کیا۔
نوازشریف کا جب غلام اسحاق سے پھڈا ہوا تو اس وقت آئی ایس آئی نے صدر اسحاق کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے کو اچھالے لیکن اس نے انکار کردیا۔
بینظیر کی حکومت آئی لیکن اس نے بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔
مشرف کی نوازشریف سے شدید دشمنی کے باوجود اس نے بھی مریم نواز کے نکاح نامے کو کبھی بلیک میلنگ کیلئے استعمال نہ کیا۔
پھر آیا حافظ قرآن کا دور، جس نے عمران خان کی بیوی پر عدت کے جعلی مقدمے سے لے کر مریم نواز کے جعلی نکاح نامے تک، ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔
اسے لانے والا شریف خاندان تھا، اس کے ہاتھوں سب سے زیادہ ذلیل بھی شریف خاندان ہی ہوگا!!!
اسکو دلالی کہتے ہیں چاکری کرتے ہیں بھڑوہ گیری کہتے ہیں اسے وقت کا بدلنا نہیں کہتے
الفاظ سخت ہیں لیکن یہ حقیقت ہے اس اور اس جیسے چمونے طاقتوروں کی چاکری کر کے کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے اور پھر اس پر flex کرتے ہیں
خودساختہ اللہ کی فوج،لمبر ون انٹیلیجنس ایجنسی،فیل مارشل کی اصل حقیقت یہ ہے۔
دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔اللہ کیسے ذلیل ورسوا کررہاہے۔
@OfficialDGISPR@missiontakmeel@zarrar_11PK
@AhmadJawadBTH یہاں تھوڑا سا اختلاف ہے۔اج باشعور عوام کی اکثریت محض میڈیا کمپین کے جھانسے میں نہیں آتی وہ خود سوچ سمجھ کر تجزیہ کرکےرائے قائم کرتی ہے۔کمپین چلانے والے دن گزر گئے اب سوال ،جواب،دلیل ،منطق کا دور کسی حد تک شروع ہو چکاہے۔بلاشبہ اسکو معاشرے میں پنپنے میں وقت ضرور لگے گا۔