فوج کی ہاؤسنگ سوسائٹی نے قومی ادارہ صحت کی ملکیتی زمین پر غیر قانونی اور بنا اجازت بلڈوزر چلا دئے اور سینکڑوں درخت گرا دئے مگر کسی اخبار یا ٹی وی چینل میں ہمت نہیں کہ یہ خبر چلا سکے۔ سب کو شکر پڑیاں کے درخت نظر آ رہے ہیں مگر DHA کے نہیں
آپ ایک اسلام آباد کو رو رہے ہیں
بھائی لوگوں کی سرپرستی میں پورا پنجاب گنجا ہو چکا ہے
دو دو سو میل سفر کریں
راستے میں کوئی جنگل نظر نہیں آتا
اور فیس بک پہ مری میں دھڑا دھڑ بن رہی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات بھی دیکھیں
مری کے ہوٹلوں میں پنکھے لگ چکے ہیں
اگلے چند سالوں میں ائر کنڈشنر بھی لگ جائیں گے
جن حکمرانوں کے گھر یورپ اور کینیڈا میں ہیں
وہ پاکستان کو ہرا بھرا کیوں رہنے دیں گے ؟؟
#پاکستان
یہ ایف نائن پارک سیکٹر ایف ٹین اسلام آباد ھے رات کو پارک سے درخت کاٹے گئے پھر ٹرک میں لوڈ کئے جارہے ہیں اب یہ کہا جائے گا کہ یہ جنگلی شہتوت کے درخت ہیں ل۔ میں نے خود ملاحظہ کیا اس میں ھر طرح کے درخت کاٹے گئے۔
سینیئر صحافی طاہر نعیم ملک
راولپنڈی اسلام آباد ایک دن میں تباہ نہی ہوا راولپنڈی کے سارے جنگلات شاملات ملک ریاض ہڑپ کر گیا تن یہ سارے صحافی اس سے پلاٹ لے کر مکمل چپ رہے یہ تو اتنے بڑے مجاہد کے ڈیم کی زمینوں پر ملک ریاض نے قبضہ کیا یہ اس کا نام نہی لیتے تھے نجی ہاوسنگ سوسائٹی اور پراپرٹی ٹائیکون جیسے لقب دیتے تھے
نو سو چوہے کھا کر اب یہ بلی حج کو چلی ہے
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب نے آج اٹک میں ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ
بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پوری قوم فوج کے ساتھ اور قومی یکجہتی تھی
حافظ صاحب تصیح کرلیں
قوم ایک تھی
قوم فوج کے ساتھ تھی
لیکن قومِ یوتھ
بھارت کے ساتھ تھی
ثبوت 👇
نیا عذر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے ٹھیکیدار کو جنگلی توت کاٹنے کا ٹھیکہ دیا تھا لیکن اس نے دوسرے درخت بھی کاٹ دیے.
ان بہانہ سازوں سے کوئی یہ پوچھے کہ تم کیا اندھے اور بہرے تھے کہ دیکھ اور سن نہ سکے
کب سے ہم لوگ چیخ رہے ہیں لیکن افسر شاہی کی آنکھوں پر کنکریٹ چڑھا ہے.
کیا کانونٹ سکول کے جنگل کو کاٹ کر وہاں کنکریٹ کی عمارات کی تعمیر بھی ٹھیکیدار کی غلطی ہے؟
یہ اعلی افسر شاہی اور حکمرانوں کی ماحولیات دشمنی ہے جناب. ٹھیکیدار پر مت ڈالیے
جب آپ کا علاج باہر ہو کاروبار باہر ہو بچے باہر پڑھیں مفادات باہر ہوں اور لوٹ کھسوٹ کے بعد رہنا بھی باہر ہو تو ملک آپ کے لیے دکان سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔افسوس آج شہر تمثال و خواب اسلام آباد کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو آئین جمہوریت عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ہو رہا ہے۔لگتا ہے کسی نے کوئی سور کھڑی فصل میں چھوڑ دیا ہے۔
#SaveIslamabad
یہ ایف نائن پارک سیکٹر ایف ٹین اسلام آباد ھے رات کو پارک سے درخت کاٹے گئے پھر ٹرک میں لوڈ کئے جارھے ہیں اب یہ کہا جائے گا کہ یہ جنگلی شہتوت کے درخت ہیں میں نے خود ملاحظہ کیا اس میں ھر طرح کے درخت کاٹے گئے ۔
@HamidMirPAK@AmirMateen2@asmashirazi
ان سے ملیے یہ ہیں چیرمین CDAمحمد علی رندھاوا ان کے دور میں اسلام آباد میں DHA آئی ۔ ان کے دور میں اسلام آباد میں درخت کاٹ کر غائب کر دئیے گئے ۔ ان کے دور میں راتوں رات انڈر پاس بھی بنے جنکا معیار بارشوں میں خود اپنی مثال بنا ۔ انہیں ان کی ان “ایماندارانہ “اور انتھک خدمات پر سرکار پلاٹس الاٹ کرئے گی اور شائد DHA بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کوئی پلاٹ الاٹ کردے۔ آپ اس عظیم سپوت کی ایسی کامیابیوں پر کیا کہیں گے ؟
یہ صحرائے تھر نہیں اسلام آباد کے دل میں واقع چک شہزاد کے پچھلی طرف کا وہ علاقہ ہے جہاں ہزاروں درخت کاٹ کر ڈی ایچ اے بنایا جا رہا ہے۔اگلے چند برس میں اسلام آباد صرف کتابوں اور تصویروں میں ہی رہ جائے گا۔بیس تیس برس بعد کی نسل شاید ہی یقین کرے کہ اسلام آباد کبھی ایک ہرا بھرا شہر تھا۔ایک عجیب نحوست مسلط ہے۔
سندھ کے سینیئر صحافی امداد سومرو کے تہلکہ خیز انکشافات ۔۔
“سندھ پبلک سروس کمیشن کی سرکاری نوکریوں میں سب سے زیادہ کوٹہ بلاول ہاؤس کا ہے، اسکے بعد مراد علی شاہ، فریال تالپور، صوبائی وزراء، ججز اور صحافیوں کا الگ کوٹہ ہے۔ انجینیئرز کا ٹیسٹ میں 80 فیصد نمبر لینے والے فیل اور 35 نمبر لینے والے پاس قرار دیے گئے اسکے دستاویزی ثبوت میرے پاس ہیں”۔
سینیئر صحافی امداد سومرو نے سندھ پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی کرپشن بے نقاب کردی۔
ذہنی مریض نیازی نے نعرہ مارا کہ “میں شوگر ملز، پولٹری فارم اور ہاوسنگ سوسائٹی بنا سکتا تھا لیکن میں نے شوکت خانم بنایا اور نمل بنایا”
گوبر دماغ یہوتیوں نے سنا تو کہا واہ مرشد تیرے کیا کہنے‼️‼️
اب اس کا جواب سنیں
🔺شوگر ملز، ہاوسنگ سوسائٹی اور پولٹری فارمز کے لیے اپنا سرمایا لگتا ہے نہ کے چندے کا مال۔ اس انٹرنیشنل فقرے نے تو پیسوں سے آج تک ڈسپرین نہیں خریدی کاروبار کیا کرے گا۔
🔺شوکت خانم کے لیے زمین پنجاب حکومت (میاں نواز شریف) نے دی۔
🔺ستر کڑور میں سے پچاس کڑور حکومت پاکستان نے دیا اور بیس کڑور چندے سے آیا۔
🔺چندے سے بنے ہسپتال کا نام اس نے اپنی ماں کے نام پر رکھا، لاکھوں روپے ماہانا کی مراعات اپنے نام کروائیں، چیرمین اپنے کزن نوشیروان برکی کو رکھا، اپنی بہنوں عظمی اور علیمہ کو پندرہ سے بیس لاکھ ماہانا پر ملازم رکھا۔ پھر اسی شوکت خانم ہسپتال کو آج تک کیش کروا کر ووٹ بھی بٹورے اور ہر سال کا چندہ بھی۔
سب سے بڑھ کر یہ ہسپتال اس شیطان نے اپنے سسرال گولڈ سمت کی کینسر کی دوائیوں کے تجربے کے لیے بنایا اور ان سے کڑوروں روپے مفت میں لیے۔
ارشد شریف مرحوم کی مشہور سٹوری کے مطابق اسی ہسپتال کے نام سے اربوں کی منی لاڈرنگ کی۔ بھارت، اسرئیل اور امریکہ سے فنڈنگ بھی ہسپتال کو عطیے کے نام پر وصول کرتا رہا۔
🔺نمل یونیورسٹی کے لیے پہلے پچاس ایکڑ زمین عطیے میں لی اور بعد میں بزدار حکومت سے ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروائی۔ اس کی تعمیر پر نیازی خاندان کا ایک روپیہ بھی نہیں لگا لیکن مالک یہی خاندان۔
پس اس کذاب جہنم نے دونوں کاروبار وہ چنے جس میں اس کا ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا اور آمدن کڑوروں میں۔ آمدن کے ساتھ ساتھ ہمدردیاں اور سیاسی نعرہ فری میں۔
کسی نے سہی کہا تھا کہ دجال جب دنیا میں آئے گا تو اس خبیث الفطرت سے ٹیویشن لے گا۔
رانا ثنا اللہ پر منشیات ڈال کر گرفتاری کے کیس میں جنرل باجوہ پاس گھر گیا وہاں فیض حمید بھی تھا جنرل باجوہ نے کہا میرے جنرل نے قسم اٹھائی ھے کہ منشیات ملی ھے میں نے کہا وہ جھوٹ بول رہا پھر میں نے فیض حمید کو کہا کہ کہیں اسکی کارستانی تو نہیں اُس نے بھی باجوہ والا جواب تھا عمران کے پاس گیا اُس نے کہا پنکی پیرنی بارے کچھ بولنے کے بدلے میں رانا ثناء اللہ ساتھ یہ کیا ھے
پاکستان میں ایک طرف ججوں کو ریٹارڈ ہونے پر سترہ سترہ کروڑ پینشن اور پھر بارہ لاکھ ماہانہ بمعہ گاڑی پیٹرول ڈرائیور خانساماں مفت بجلی گیس جیسی سہولت ملتی ہے وہاں ایک عام غریب استاد اور چھوٹے سکیل کے سرکاری ملازم کی پینشن پر کٹ لگا دیا کہ وسائل نہی ہیں
موجودہ حکومت بھی الیٹ نواز حکومت ہے جس کے خزانے صرف الیٹ کلاس کے لیے کھلتے ہیں غریب کے لیے اس میں کچھ نہی ہے
ایک بشپ کئی سال جیل میں کیوں قیدتھے؟پھربری ہوتےہی وفات پاگئے۔۔ایک نابیناشخص کس الزام میں قیدتھااورایک نوجوان لڑکی5سال تک کیوں قیدتھی؟توہین مذہب کےالزام میں اڈیالہ جیل میں قیدرہنےوالےانجینئرمحمدعلی مرزانےمبینہ توہین کےالزامات میں قیدافرادکی تفصیلات بتادیں