بچپن میں ہم نہایت منہ چڑھے بدانند۔۔ایک عجیب سا کانفیڈنس پھوپھیوں کی شہ پر کچھ اور کچھ شاید ابا مرحوم نے اچھے سکولوں میں پڑھوایا تو ہم شاید چوڑے ہوتے ہونگے محلے میں۔خدا نے شاید بیوی نما مخلوق اس لئے بھی تخلیق کی آپ اوقات میں رھیں۔۔کثر نفسی آے مزاج میں۔ واہ رے سبحان تیری شان۔
اب جبکہ ہر شخص اپنے اپنے تجزیے اور مشاہدات کی بنیاد پر رائے دے رہا ہے، تو میں نے بھی سوچا کہ اپنے دو لفظ، اپنے دو پیسے کی رائے، آپ تک پہنچا دوں۔
میرا یہ خیال نہیں ہے کہ بھائی اندر سے کبھی یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ ریاست انہیں دل سے قبول کر لے گی۔ وہ خود اس حقیقت سے آگاہ تھے۔ ان کے سیاسی سفر کو دیکھیں، ان کے بیانات کو دیکھیں، ان کی ملاقاتوں کو دیکھیں، خاص طور پر جی ایم سید سے ملاقات کو دیکھیں تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب انہیں الگ کر دیا جائے گا۔
لیکن جو لوگ ان کے اردگرد بیٹھتے رہے ہیں، یا آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں، وہ نہ جانے کیوں اس بات کو سامنے نہیں لانا چاہتے کہ بھائی نے کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اس ریاست کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی قوم کے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔
بھائی کی خواہش یہ تھی کہ مہاجروں کو اپنی شناخت، اپنی سیاسی طاقت اور اگر ممکن ہو تو اپنی ریاست ملے۔ لیکن جب انہیں کوئی راستہ نظر نہ آیا تو انہوں نے اسمبلیوں کا رخ کیا۔ جب اسمبلیوں سے بھی امید پوری نہ ہو سکی تو انہوں نے اپنی جدوجہد کا رخ صوبوں کی طرف موڑا۔ اس وقت ان کا خیال یہ تھا کہ اگر ایک صوبہ بھی مل جائے تو شاید وہاں سے آگے کی راہ ہموار ہو سکے۔ مگر بدقسمتی سے وہ بھی نہ ہو سکا۔
پھر ایک ایسا مرحلہ آیا جب بھائی کے اردگرد ایک ایسا گروہ جمع ہو گیا جو بار بار ایک ہی بات دہراتا رہا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمارے فلاں فلاں لوگ اسٹیبلشمنٹ میں ہیں، آرمی میں ہمارے رابطے ہیں، ہم ڈیل کروا سکتے ہیں۔ شروع میں بھائی نے اس سوچ کو صاف صاف رد کر دیا۔ انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
لیکن جب وہی بات بار بار دہرائی گئی، مسلسل دباؤ ڈالا گیا، تو ایک موقع پر انہوں نے جھلا کر یہ کہہ دیا کہ اچھا تم لوگ دیکھ لو، جو کرنا ہے کر کے دیکھ لو۔ یہ ان کی خواہش نہیں تھی، نہ ہی انہیں اس پر یقین تھا، لیکن مسلسل اصرار کے بعد انہوں نے گویا بیزاری کے عالم میں یہ بات کہہ دی۔
آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
دیکھئے، بھائی ایک بہت بڑی شخصیت ہیں۔ ان پر اعتراضات کیے جا سکتے ہیں، اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مہاجر قوم کو ایک شناخت دینے والی سب سے بڑی تاریخی شخصیت جناب الطاف حسین ہیں۔ انہوں نے ایک منتشر طبقے کو آواز دی، اسے شناخت دی، اسے سیاسی شعور دیا۔
مگر افسوس کہ کچھ لوگوں نے وقتی فائدوں کے لیے انہی سے ان کی لیگیسی چھیننے کی کوشش کی۔ اور یاد رکھئے، جو لوگ وقتی فائدوں کے لیے کام کرتے ہیں وہ کبھی مخلص نہیں ہوتے۔ نہ وہ قوم کے ہوتے ہیں، نہ تحریک کے، نہ نظریے کے۔
بھائی کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا گیا جہاں ایک طرف ان کی جدوجہد کو مٹانے کی کوشش کی گئی، اور دوسری طرف انہیں اس حال تک پہنچا دیا گیا کہ وہ بار بار ان دروازوں پر دستک دیتے رہیں جہاں سے عزت نہیں بلکہ تذلیل ملتی رہی۔ اور ہمارے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا جو کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تلخ سچ ہے۔
آدھا سچ دراصل سچ نہیں ہوتا۔ آدھا سچ اکثر فتنہ ہوتا ہے۔ اس لیے پورا سچ بولنا چاہیے۔ اور خاص طور پر اس بابرکت اور مقدس مہینے میں، جب ہمیں اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنا چاہیے، کم از کم اس وقت تو سچ بیان کرنا چاہیے کہ حقیقت کیا تھی۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ آج بھی جھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھائی کو ورغلانے والے، بھائی کو ان کے اصل راستے سے ہٹانے والے، اور بھائی کو بے توقیر کرنے والے یہی لوگ تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے وقتی فائدوں کے لیے پوری تحریک کو نقصان پہنچایا۔
اور تاریخ ان باتوں کو بھولتی نہیں۔ تاریخ سب یاد رکھتی ہے @AwazEHaq90@AltafHussain_90
@soulat_pasha شیعہ بھائیوں کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک شاعریاں اور افسانے موجود ہیں... بس دلائل اور شواہد ناپید ہیں... اپنی بات ثابت کرنے کیلیے بیچارے شعر و شاعری ہی لے آتے ہیں...
Rushed to the airport to make the 8Am PIA flight to lahore for a day trip. Got here too late at which point PIA announced that the flight will now go at 13:30.
Got a last minute ticket from fly Jinnah for the 9:40 flight.
Passed all the people who had been on time who were now trying to get bags and refunds from a pia counter where a sleepy guy was telling them their refunds will be processed in x working days and for them to wait for their luggage back.
Got to the body check where I met another person foolish enough to get an e boarding pass. He’s still standing there whilst the ASF tries to figure out what to do with him.
Meanwhile, the medical emergency sign makes it clear what you’re in for.
@SumoRizvi متعہ ذادوں کے جھوٹے افسانے..... سلیم بن قیس ایرانی بکواس لکھ کے مرگیا.... متعہ کی نسلیں بنا تحقیق کے ان ان افسانوں کو ایمان بنائے بیٹھے ہیں.... سالے دو لمبر مومن....
@soulat_pasha تمام نکات درست. لیکن لے پالک بچے کو اپنا نام دینا بہر حال ایک قبیح عمل ہے. پاکستان سمیت پوری دنیا اسے عظیم نیکی مانے، پر عرب والے اس نکتے کو کسی صورت نہیں تسلیم کرسکتے.
رہی بات یتیم پوتے کی میراث کی تو یہ معاملہ بھی عرب کا دردِ سر نہیں.
خوف کا شہر کراچی
2013 کی گرم دوپہر تھی۔ لیاقت آباد کی گلیوں میں ہلکی سی اداسی تیر رہی تھی۔
ہر دروازے کے پیچھے لوگ دھیمی آوازوں میں بات کر رہے تھے آج پھر چھاپا پڑا ہےپچھلی رات رضوان کو اٹھا لے گئے۔
نعیم عالم، 23 سالہ کراچی یونیورسٹی کا طالب علم، آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کے ساتھ رضاکارانہ کام کرتا تھا۔ وہ محض جلسوں میں نظم و ضبط سنبھالتا، بینر لگاتا، اور کارکنوں کو تعلیم و روزگار کی باتیں سمجھاتا۔ مگر شہر کی فضاء ایسی تھی کہ اب تنظیم سے تعلق ہی ایک جرم بن چکا تھا۔
رات کے دو بجے دروازے پر دھڑک سنائی دی۔
دروازہ کھولو، پولیس ہے
ماں کے ہاتھ کانپ گئے، چھوٹا بھائی رونے لگا۔
نعیم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سفید رنگ کی گاڑی، نقاب پوش اہلکار، اور بندوقوں کی چمک۔
دروازہ ٹوٹا۔
نعیم کو زبردستی گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا۔
کچھ لمحوں بعد گلی پھر خاموش ہو گئی صرف اس کی ماں کے بین باقی تھے۔
اسے ایک نامعلوم جگہ لے جایا گیا۔
وہاں کوئی نام نہیں تھا، صرف نمبر۔
ایک سادہ کمرہ، ایک بلب، ایک کرسی۔
پھر ناختم ہونے والا تشدد اور سوالات ۔
تم تنظیم کے لڑکے ہو؟
کون بھیجتا ہے ہتھیار؟
کس کو رپورٹ دیتے ہو؟
جب ایک تشدد کرتے تھک جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، مغلظات اور تشدد جو کبھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔
نعیم کے پاس جواب نہیں تھا وہ صرف طلبہ ونگ کا کارکن تھا۔
اسے بار بار مارا گیا، جھوٹے بیانات پر دستخط لینے کی کوشش ہوئی۔
وہ ہر روز اپنے ذہن میں ماں کی آواز سنتا، “بیٹا، سچ سے پیچھے مت ہٹنا۔”
اور وہ ہر روز تھوڑا اور خاموش ہو جاتا۔
پھر پورے نوے دن بعد اس کے نیم مردہ جسم کو گڈاپ کے ویرانوں میں پھینک دیا گیا
اس کے جسم پر زخم تھے، مگر دل کے زخم کہیں گہرے۔
وہ گھر لوٹا تو محلے والے نظریں چرا رہے تھے۔راستہ بدل لیتے تھے۔
لیکن اس کے دل کو اس دن زیادہ ٹھیس لگی جب
کسی نے کہا، یہ تو چھوٹ کر آیا ہے، شاید سودا کر لیا ہوگا۔
وہ بولنا چاہتا تھا، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔
اب نعیم نے سیاست چھوڑ دی۔
اب وہ ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرتا تھا۔
کتابوں کے سرورق چھاپتے وقت وہ اکثر سوچتا ہے ان کتابوں میں کتنے لفظ ہیں جو ہم چھاپتے ہیں مگر کبھی کہہ نہیں سکتے۔ پھر ان جو لکھنے کا کیا فائدہ؟ اور پھر زور سے خود ہی ہنس پڑتا اور آس پاس کام کرنے والے اسے حیرت سے دیکھنے لگتے۔
آہست آہستہ معاملات میں ٹہراؤ آ گیا کبھی کبھار وہ پرانے ساتھیوں کو ملتا کوئی دبئی جا چکا تھا، کوئی اب بھی لاپتہ، کوئی سیاست سے تائب۔
شہر بدل گیا تھا۔
اب بینرز کی جگہ خوف نے لے لی تھی۔ اور نعیم جیسے سیاسی کارکنوں کو ہٹوا کر ایجنسیوں کے دلالوں نے خود جو سیاسی کارکن کہنا شروع کر دیا تھا۔ ووہی تنظیم کو کبھی ملک دشمن ہوا کرتی تھی اب سب ٹھیک ہے کہ مصداق چلائی جا رہی تھی۔
ایک دن، وہ اپنی گلی میں ایک بچے کو کچرے سے پھٹے پوسٹر اٹھاتے دیکھتا ہے
اس پوسٹر پر نعیم کے پرانے لیڈر کی تصویر تھی، نیچے لکھا تھا:
حق مانگنے والوں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
نعیم مسکرا دیتا ہے۔
پہلی بار برسوں بعد۔
وہ سوچتا ہے شاید خاموشی بھی ایک مزاحمت ہے،
شاید میری اگلی نسل پھر بولے گی۔
آج 2025 ہے ٹارگٹڈ آپریشن آج بھی جاری ہے لیکن اس کا ٹارگٹ جرائم پیشہ نہیں بلک نعیم جیسے نوجوان ہیں جو اپنے حقوق مانگتے ہیں، مگر نعیم جیسے ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں ایک نہ ختم ہونے والا آپریشن چل رہا ہے یادوں، شناخت، اور انصاف کی تلاش کا۔
اور نعیم جیسے نوجوان آج بھی زندہ ہیں —
ان کے لب خاموش ہیں،
مگر آنکھوں میں اب بھی وہی سوال لکھا ہے
ہم نے کون سا جرم کیا تھا…؟
جو کہتے ہیں کہ کراچی متعصب ہے وہ آج سے اٹھاون (58)برس قبل 28 اگست 1967 کو جنگ میں چھپی میری والده کی یہ تحریر پڑھ لیں-واضح رہے کہ یہ تحریر قیام پاکستان کےصرف بیس برس بعد کی ہے، جب نہ تو بنگلہ دیش بنا تھا اور نہ ہی آپ کی نفرتوں کا محور ایم کیو ایم وجود میں آئی تھی۔
احمد
کیا ہم سب صرف پاکستانی نہیں بن سکتے؟
یہ تعصب کب تک اور کیوں ؟
دل شدت غم سےتڑپ اٹھتا ہےآنکھوں سے اشک رواں ہو جاتےہیں جب کوئی ہمیں "مہاجر" یا "ہندوستانی" کےلقب سےیاد کرتا ہے۔کیا اتنی قربانیاں دےکر اپنے اجداد کی قبریں اپنی آبائی حویلیاں چھوڑ کر اس دیس میں(جو ہمیں اپنی جان سے پیارا ہے)اس لئے آئے تھے کہ ہمارے نام اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی "ہندوستانی مہاجر" کا لفظ چسپاں ہو جائے؟ہم تمہیں کیسےبتائیں ہم نےپاکستان میں آنکھ کھولی پاک سرزمین پر ہم نےگھٹنوں چلنا سیکھا،ہمارے شعور نے پاکستان میں انگڑائی لی،ہمارا پالنا جھُلانے والی ہوا بھی پاکستانی تھی۔تو کیا ہمارا جرم یہ ہے کہ ہمارےوالدین پاک سرزمین کی محبت میں اپنا گھر بار چھوڑ کر آگئے۔کاش انہیں علم ہوتا کہ اس قربانی کا صلہ(گو کہ صلے کی امید ہی کسے تھی) یہاں کے ملکی انہیں اور ان کی اولاد کو مہاجر سمجھ کر دیں گےتو شاید وہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے۔
جنگِ ستمبر سے قبل بارہا یہ تلخ گھونٹ مسکرا کر پی لئےلیکن اسکےبعد جب کوئی ہمیں ہندوستانی کہتا تو ہمارا جی چاہتا کہ چیخ چیخ کر کہیں ارےہم پاکستانی ہیں۔ہم نے اس وطن کیلیے بہت قربانیاں دی ہیں،اس کے خوش رنگ پھولوں میں ہمارا لہو بھی شامل ہے،اس کی بہاروں کی رعنائیوں میں ہماری ہی شگفتگی ہے۔تمہیں کیا حق ہے ہمیں مہاجر سمجھنے کا؟کس طرح ہمیں ہندوستانی سمجھتے ہو،کب تک سمجھتے رہو گے؟
ریڈیو پر گرجدار نغمہ گونجا، اسان سندھی بنگالی بلوچ پٹھے اسان پت پنجاب دے پانیاں دے۔۔ میں دکھ سےسوچتی اس میں ہمارا مقام کونسا ہے؟ہم اپنے آپ کو کیا کہیں،کیا سمجھیں؟کیا ہمارےلئے وہی ایک لفظ ہے "مہاجر"جس کے نام سےہی مظلومیت ظاہر ہوتی ہے؟رحم اور ہمدردی جو انسان کی خودی کیلیےسمِ قاتل ہے۔پھر میں اپنے آپ کو مطمعن کرتی کہ ان حالات میں بھی ہمیں اپنے مقام کی پڑی ہے؟
کوئٹہ سے پنڈی کا قصد تھا سیکنڈ کلاس کے لیڈیز کمپارٹمنٹ میں اپنی بڑی بہن کے ہمراہ سفر کر رہی تھی دو چار خواتین اور بھی تشریف فرما تھیں۔غالباً ساہیوال(مٹگمری) کےاسٹیشن پر چیکر محترمہ تشریف لائیں کمپارٹمنٹ کا جائزہ لیتےہوئے انکی نظر ہم پر پڑی۔ہم دونوں بہنیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں ان پر نظر کی تو گھبرا کر رہ گئے۔یوں محسوس ہوا کہ ان کی آنکھوں سے نکلنے والے شعلے ہمیں جلا کر رکھ دیں گے،ان کے حقارت آمیز انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ پہچان چکی ہیں کہ ہم مہاجر ہیں۔بہرحال وہ ہمارے پاس تشریف لائیں، ہم نے خوش آمدید کہا بیٹھنے کو جگہ دی لیکن وہ دوسری پنجابی خواتین سے گفتگو کرنے لگیں۔یقین کیجئے کہ انہوں نے ہمارے لباس سے لے کر بالوں تک پہ تنقید کی، ہدف ملامت بنائے رکھا،وا شگاف انداز میں یہ بھی کہتی رہیں کہ ہندوستانیوں کو سیکنڈ کلاس میں سفر کرنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے،ان کےلیے چوتھا درجہ ہی ہونا چاہئے اور یہ کہ ان مہاجروں نے تو ملکی لوگوں کے حقوق پر قبضہ کر رکھا ہے۔
ہم "اگر کوئی ایک رخسار پر تھپڑ مارے تو دوسرا اگے کر دو"پر عمل کرتےرہے،محترمہ نے دیکھا کہ واہ اک خامشی تری سب کے جواب میں والا مضمون ہے تو اپنے ترکش سے نیا اور آخری تیر نکالا کہنے لگیں"میں ابھی کراچی گئی تھی،توبہ ! ایسی بے ہودہ جگہ ہے میرا تو دل ذرا نہیں لگا۔اتنی گندی ایسی خراب آب و ہوا، میرے تو سارے بچے بیمار ہو گئے۔بھئی کراچی کی آب و ہوا تو ہندوستانیوں کو ہی راس آتی ہے-"
اطلاعاً عرض ہے کہ یہ جنگ ستمبر کے بعد کا واقعہ ہے۔میرا دل چاہا کہ ان لوگوں سےجو قومی یکجہتی کے بلند و بانگ دعوےکرتےہیں، جن کا کہنا ہے کہ جنگ کےبعد نہ کوئی سندھی ہے نہ بنگالی نہ پنجابی نہ بلوچ نہ پختون،کہوں کہ آئیں اور اپنی آنکھوں سےفرقہ واریت کی بد ترین مثال دیکھیں،تعصب کی بلند عمارت کو دیکھیں۔لیکن پھر سر خود شرم سے جھک گیا۔ان دعووں میں میری آواز بھی تو شامل تھی
اب جب کہ خود ہی وکیل خود ہی منصف اور مدعی بھی خود ہوں توایسےمیں مقدمےکا کیا حشر ہوگا۔بہر حال میں نے اس یاد کو لاشعور کےتہہ خانوں میں دھکیلتےہوئےیہ عہد کیا کہ پھولوں میں کانٹےبھی ہوتے ہیں۔میں ان کانٹوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنےکے بجائے ان کی اتنی آبیاری کروں گی کہ وہ پھول بن کر خود ہی یکجہتی کی خوشبو بکھیرنےلگیں گے۔لیکن میری کوشش ابھی ناتمام تھی کہ ایک با شعور طالبہ نے یہ کہہ کر میرےزخم کو پھر ہرا کر دیا۔
"آپ ہندوستانی ہیں نا؟؟"
اور میں سوچ رہی تھی کہ میں اس با شعور طالبہ کو کیونکر سمجھاوں کہ "میں پاکستانی ہوں-میں پاکستانی ہوں۔ تمہاری ہی طرح پاکستانی ہوں-"
شمع فضلی
٢٨ اگست، ١٩٦٧-
ثناخوانِ تقدیسِ منصف کو لاؤ
ثناخوانِ تقدیسِ منصف کہاں ہیں؟
آج سےٹھیک10برس قبل7ستمبر2015کو
الطاف بھائی پر
لاہورہائی کورٹ کے3ججزنےغیرآئینی پابندی لگائی۔ان میں سے2 ججز
مظاہراکبرنقوی اورمظہراقبال سدھوکرپشن کےریفرنسز پراستعفیٰ دےکربھاگ گئے
اورارم سجادگل نااہل ہونےپرمسقل جج نہ بن سکی۔
۔MQMکے بانی و قائدالطاف حسین بھائی پر عائد یہ غیرآئینی اورغیرقانونی پابندی آج تک برقرار ہے۔ پاکستان کی عدالتیں، الطاف بھائی کو بنیادی انسانی حقوق دینے اور اس کیس کو سننےپرشاید اس خوف کا شکارہیں کہ کہیں پنڈی والےہمارا بھی وہی حشر نہ کردیں جو انہوں نے پنڈی میں تین وزرائے اعظم کا کیاتھا-
الطاف بھائی کی تحریر، تصویر اور تقریر پر عائد اس غیرآئینی اورغیرقانونی پابندی پر پاکستان کےانسانی، صحافتی اور انسانی حقوق کےنام نہاد چیمپئینز کی سفاکانہ، بےرحمانہ، مجرمانہ اور متعصبانہ خاموشی اس بات کی غماز ہےکہ گفتار کے یہ غازی یا تو پنڈی سے خوف کھاتے ہیں یا پھر یہ صبح کے ناشتہ میں عصبیت اور رات کے کھانے میں نفرت کی غذا کھاتے ہیں۔
میں یہاں ایک بات واضح کردوں کہ
الطاف حسین بھائی کی تحریر، تصویر اور تقریر پر لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے7 ستمبر2015کو لگائی جانے والی یہ غیرآئینی اور غیرقانونی پابندی22اگست 2016 سے تقریباً ایک برس قبل کی ہے۔ یعنی ریاست نے مائنس ون پر عملدرآمد، ایک برس قبل ہی شروع کروادیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری، نواز شریف، عمران خان، محمود اچکزئی، خواجہ آصف و دیگر اور ان کی سیاسی جماعتوں نے ریاستِ پاکستان، فوج، حساس ملکی و فوجی تنصیبات، عمارتوں، شہداء کے مجسموں پر نہ صرف سخت زبانی حملے کئے بلکہ انہیں نذرِآتش کیا اور شدید نقصان بھی پہنچایا۔ مگر ان سیاسی رہنماؤں کو ان جرائم پر سزا دینا تو کجا، ان کو تو صوبوں اوروفاق میں حکومتوں اور وزارتوں سےنوازا گیا۔ کیا ان کےاس قبیح قول و فعل پر ان قائدین اور رہنماؤں کےگھروں پر تالہ لگایا گیا؟ کیا ان کے گھروں پر رینجرز بٹھائی گئی؟ کیا ان کے گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا؟ کیا ان کے گھروں کو بلڈوز کیا گیا؟ کیا ان کے کارکنان کو ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کیا گیا؟ کیا ان کےسیاسی دفاتر مسمار کئےگئے؟ کیا ان سیاسی جماعتوں میں غداریاں کرواکر ان کی جماعتوں پر قبضہ کروایاگیا؟ کیا ان سیاسی جماعتوں کی سیاسی اورفلاحی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی؟
الطاف حسین بھائی پر ریاستِ پاکستان اور اس کے اداروں کی جانب سےعائد یہ غیرآئینی و غیرقانونی پابندی اور ان کیMQM اور کارکنان پر ریاستی جبر، بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ الطاف حسین بھائی نہ صرف کروڑوں مظلوموں کےمسلمہ قائدہیں بلکہ ملک کو 70 فیصد سےزیادہ ریونیودینے والےشہرکراچی کےمتفقہ اور اصل قائد بھی ہیں۔
آخرمیں پاکستان کےشہرِ اختیار (پنڈی) اور شہرِ اقتدار (اسلام آباد) میں بیٹھنےوالوں سے میرے2 اہم سوال؛
1- کراچی اورسندھ کےشہری علاقوں سے الطاف حسین بھائی کی اصل قیادت کو جبر سےہٹاکر، بہادرآبادٹولے کی مصنوعی اور پیپلزپارٹی کی دیہی قیادت کومسلط کرنااور سندھ کےشہروں میں رہنےوالی عوام کو قومی دھارےسےعلیحدہ کرنا، پاکستان کی کونسی خدمت ہے؟
2- لاہور ہائی کورٹ کےجن3 ججزکےذریعہ الطاف بھائی کی تحریر، تصویر اور تقریر پر پابندی لگوائی گئی، ان میں سےسپریم کورٹ چلےجانےوالےمظاہر اکبر نقوی جنوری2024 کو (مارچ2024میں سپریم کورٹ نےبرطرف کیا) اور لاہورہائی کورٹ کےمظہر اقبال سدھو مارچ2017 کو، سپریم جوڈیشل کونسل میں دائرکرپشن کےریفرنسزسےبچنےکیلئے استعفیٰ دےکر بھاگ گئےاور تیسری جج، ارم سجاد گل کو مئی2017 میں نااہل جج ہونے کی بنیاد پر لاہورہائی کورٹ میں مستقل نہیں کیاگیا۔ تو کیا اس سےیہ حقیقت واضح نہیں ہوجاتی ہےکہ الطاف بھائی کےخلاف دیاجانے والافیصلہ لاہورہائی کورٹ کےاس وقت کےان تین کرپٹ اورنااہل ججز اور ریاست کےخفیہ سہولتکاروں کافیصلہ تھا اوریہ مکمل ناانصافی اوربدنیتی پر مبنی تھا؟
میں امیدکرتاہوں کہ پاکستان میں انسانی، صحافتی اورسیاسی حقوق کےسچےعلمبردار اس ضمن میں اپناتعمیری اورمثبت کردار ادا کرتےہوئے، الطاف حسین بھائی کی تحریر، تصویر اورتقریر پرعائداس غیرآئینی اورغیرقانونی پابندی کےخلاف اپنی آواز اور صدائےاحتجاج ضروربلندکریں گے۔
بحیثیت ایک سیاسی کارکن میرا اس امر پر یقینِ کامل ہے کہ انشاء اللّہ
الطاف بھائی بہت جلد سرخرو ہوں گے
اور اللّہ کا نظامِ انصاف ضرورحرکت میں آئے گا۔ انشاء اللّہ و آمین۔
بےشک اللّہ بہترین انصاف کرنےوالاہے
تحریر۔ ڈاکٹر ندیم احسان
۔
@AltafHussain_90@OfficialMQM@antonioguterres@UNHumanRights@amnesty@hrw@CMShehbaz@sakhtarmengal@ImranKhanPTI@BBhuttoZardari@OfficialDGISPR@USAUrdu@BBCUrdu@dw_urdu
@huma_aaa عارفہ صدیقی اور انکے سابقہ مرحوم شوہر استاد نذر حسین صاحب..... ہیرے جیسے لوگ..... کاش کسی مہذب معاشرے میں پیدا ہوئے ہوتے....
افسوس پاکستانی سوشل میڈیا افلاطونوں پر....
اگر مرد کو اپنے والدین، گھر بار، بہن بھائیوں،
یا بیوی بچوں کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کی کڑی ذمہ داری نہ دی جاۓ
تو یہ تمہیں کہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں
مچھلیاں پکڑتا، گیت گاتا، ہنستا مسکراتا ملے۔