میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
Deeply disturbed by the news coming from across the LoC. The killing of more than a dozen protesting civilians and police personnel is extremely sad. The Government there should know better than to use force to handle public grievance and demands in this manner.
When people take to the streets to express their concerns, it is a signal that they seek to be heard. It is the responsibility of those in authority to listen, engage and peacefully resolve the matter, rather than allow it to escalate into violence, arbitrary arrests and loss of life.
Hope and pray that better sense prevails and the matter is handled with maturity while addressing the concerns of the people.
پاکستان فوج نے راولاکوٹ میں کنفرم 130 کشمیری شہید کر دئے۔
فوج نے رات کو ہیلی کاپٹر اور ٹرکوں میں ڈال کر لاشوں کو غائب بھی کیا ہے۔
شہادتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
#RightsMovementAJK@soldierspeaks@SdqJaan@HamidMirPAK@UN@amnesty
اٹہتر ۷۸ سالوں سے ہم جن کے پیچھے ہم لگے رہے اُن میں سے کسی کو توفیق نہی ہوئی کہ وہ پوچھیں کہ ہمارے جوانوں کو قتل کیا۔
شوکت نواز میر
جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی
کشمیر میں پاکستان سے ڈائریکٹر آیا ہوا ہے جن کے پیچھے کافی سارے پروڈیوسرز ہیں اور وہ وہی ڈرامہ رچانے والا ہے جو پاکستان میں پی ٹی آئی کے ساتھ رچایا گیا۔
شوکت نواز میر
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی
#گشمیر#Kashmir
پہاڑ خاموش سہی، مگر ان کی خاموشی میں صدیوں کی استقامت بولتی ہے۔
فضائیں سوگوار سہی، مگر حوصلوں کی روشنی ابھی بجھی نہیں۔
یہ وہ سرزمین ہے جس کے لوگ نہ دباؤ سے جھکتے ہیں، نہ دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہیں، نہ روایتی ہتھکنڈوں سے خوف کھاتے ہیں۔
آزمائشیں جتنی بھی سخت ہوں، عزم اس سے کہیں زیادہ مضبوط رہتا ہے۔
#کشمیر
#Kashmir
رات کے اندھیرے میں وار کرنے والے بزدل دُشمن دیکھ۔
گولی چلا کر تم نے کیا سمجھا تھا کہ راولاکوٹ کشمیر کے لوگ ڈر جائیں گے، خاموش ہو جائیں گے یا اپنے گھروں میں چھپ جائیں گے؟
تمہاری سوچ بھی پرانی ہے، تمہارا اسکرپٹ بھی پرانا ہے اور تمہارے ہتھکنڈے بھی وہی پرانے ہیں۔ مگر شاید تم یہ نہیں جانتے کہ جن لوگوں کا سامنا ہے، وہ اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنی غیرت کو نسلوں سے سنبھال کر چلنے والے لوگ ہیں۔
یہ وہ قوم ہے جو آزمائشوں میں بھی اپنا حوصلہ نہیں کھوتی، دباؤ کے آگے سر نہیں جھکاتی اور اپنی پہچان پر قائم رہتی ہے۔ خوف اور دھمکیوں سے ان کے ارادے کمزور نہیں ہوتے، بلکہ مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
یہ سرزمین ثابت قدم لوگوں کی سرزمین ہے، اور ثابت قدمی ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
https://t.co/vnbuwmLgKW اج ایک صبح صبح ڈی جی ائی ایس پی ار نامی ادمی بکواس کر رہا تھا کہ ایک پاکستانی کی زندگی ایک ہزار افغانی کے برابر ہے اور کتے کے بچے ہم مسلمان ہیں اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے تم کتے تم وہاں پہ دہشت گرد مارنے گئے تھے تو یہ نسل پرستی کہاں سے لے ائے اور کتے یہودیوں کے ساتھ رہ رہ کے یہودیوں کی باتیں کرنے لگ گئے ہو اللہ پاک پاکستان کو ایسے سوروں سے بچائے
ملک کو کئی دہائیوں سے لوٹا جا رہا تھا لیکن عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ نہیں لوٹنے دوں گا تو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا ، عمران خان اپنے بچوں کیلئے نہیں بلکہ ہماری نسلوں کی جنگ لڑ رہا ہے ، عمران خان نے عالمی فورمز پر اسلامو فوبیا کا مقدمہ لڑا اور امت مسلمہ کے دل جیت لیے ، ہیلتھ کارڈ کی سہولت دیکر غریب کو سکون مہیا کیا ، عمران خان جیل کے اندر بیٹھ کر مخالفین کو نچا رہا ہے ، عمران خان کی مقبولیت سے خوف کا شکار ہیں ،