عدالت عالیہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات، بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو، روزانہ ایک گھنٹے کی واک اور مطالعے کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے جیل حکام کو 15 روز میں تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
تاخیر کے شکار نظام میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر روح کے مطابق عملدرآمد ہو سکے گا؟ ماضی کا ریکارڈ مایوس کن ہے؛ 17 جون 2026 کو وکالت نامے کے معاملے اور اگست 2026 میں ہسپتال منتقلی کے حکم پر عدم عملدرآمد کے باعث توہینِ عدالت کی کارروائیاں اس رویے کی واضح مثالیں ہیں۔
عدالتی احکامات کو مسلسل پسِ پشت ڈالنا نہ صرف نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو شدید ٹھوکر پہنچاتا ہے، بلکہ معاشرے میں بے چینی اور انتشار کو بھی جنم دیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خود عدلیہ اپنے قرطاسِ ابیض پر درج احکامات کی پاسداری کو یقینی بنا کر اس روش کا سدِباب کرے۔۔
عمران خان کا ویژن اتنا شاندار تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کے حکمران بھی اس کی مثالیں دیتے تھے۔ برطانوی وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے فلور پر دنیا کو عمران خان کے بلین ٹری پراجیکٹ پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی
لیکن اس کے بعد غداروں نے سازش کرکے عمران خان جیسے ایک عظیم لیڈر کو نکالا 💔
01.09.2026
جناب عمران خان مقدمات
اسلام آباد ہائی کورٹ
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی قیدِ تنہائی کے خلاف دائر درخواستیں
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی قیدِ تنہائی کے خلاف علیمہ خانم صاحبہ اور مبشرہ خاور مانیکا صاحبہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل عدالت کے روبرو برائے فیصلہ سنائے جانے مقرر کی گئی ہے۔
سماعت: بروز منگل، 01 ستمبر 2026
وقت: صبح 09:00 بجے
مقام: کورٹ روم نمبر 4، اسلام آباد ہائی کورٹ
عدالت کے روبرو عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی قیدِ تنہائی کے معاملے پر دائر درخواستوں کا 6 اگات کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا جائے گا۔نعیم حیدر پنجوتھہ
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ شور مچائیں