جنرل ضیاء الحق بہت طاقتور ڈکٹیٹر تھا
اس نے روس کو توڑ دیا
مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ پہ قابو نہیں پا سکا
جنرل مشرف بھی بڑا طاقتور ڈکٹیٹر تھا ، امریکہ کا براہِ راست اتحادی تھا ، نو سال دبا کر حکومت کی مگر اس کے دور میں بھی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ جاری رہی
موجودہ ڈکٹیٹر بھی بہت طاقتور ہے
مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ روکنا اس کی بھی اوقات سے باہر ہے
سوچیں جو پچاس سالوں میں ملک کی سب سے بنیادی ضرورت بجلی کا نظام درست نہیں کر سکے
وہ پورا ملک کیسے چلا سکتے ہیں ؟؟
#پاکستان
@tayyabbalochpk جی تو چاہتا ہے بہت کچھ کہنے کو پر تیری شکل ہی ایسی کتی جیسی ہے جس کو 100 کتے لگا دیں تو پھر بھی ٹاؤں ٹاؤں کرتی ہے کہ میرا کچھ نیں بنا. لعنت تیری شکل تے.
جو کہتا تھا، ’’میں فوج کے اینٹیں بجا دوں گا‘‘، وہ آج صدرِ پاکستان ہے۔
جو کہتی تھی، ’’اس وردی کے پیچھے دہشت گردی ہے‘‘، وہ آج وزیرِاعلیٰ ہے۔
جو کہتا تھا، ’’فوج ہڈیوں سے گوشت نوچ کر کھا جائے گی‘‘، وہ آج وزیرِدفاع ہے۔
اور جو کہتا تھا، ’’یہ ملک بھی میرا ہے، فوج بھی میری ہے‘‘—
وہ آج ناحق قید میں ہے۔
اس سے بڑا المیہ اور اس نظام کا اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا؟
ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بدکردار ہوتا ہے، کیونکہ طوائف صرف اپنا جسم بیچتی ہے جبکہ ضمیر فروش صحافی اپنا ضمیر، قلم اور سچائی بیچ کر پورے معاشرے اور ریاست کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو
#غلاظت_نہیں_صحافت_کرو
ششٹم کس قدر تباہ ہو چکا ہے دیکھنے کے لیے محسن نقوی گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس پہنچا
محسن نقوی جب آفس پہنچا تو عملہ ہی نہیں تھا اور ابھی آفس بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا تو نہ جانے کتنی دیر پہلے عملہ گھر جا چکا تھا یا شاید آیا ہی نہیں تھا
یہ ششٹم فیل نہیں ہوا ششٹم تو ہے ہی نہیں۔
عمران خان کے دور میں ہم صحافیوں نے مائک پکڑ کر روڑ شو کیے، اور عوام سے کہتے تھے مہنگائی ہے؟ عمران خان نے کروائی ہے،
آج ہمیں کتنے روڈ شو مہنگائی پر نظر آ رہے ہیں؟
نواز شریف کی بیماری پر ہم سب نے کہا، کہ اگر نواز شریف کو ملک سے باہر نا جانے دیا گیا، تو زمہ دار عمران خان اور تحریک انصاف ہو گی، ہمیں نہیں پتہ تھا تب کہ نواز شریف کی جعلی رپورٹس بنائی گئی ہیں، رائے ثاقب کھرل
🚨🚨 بریکینگ نیوز : میرا کپتان ڈٹ گیا, ڈآکٹر شہباز گل کی کنفرم خبر ۔!!!!🔥🔥🔥🛑
جب عمران خان کو یہ بتایا گیا کہ, سپریم کورٹ آف پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ, آپکو شفاء ہسپتال شفٹ کرنا ہے ۔ تو عمران خان نے کہا کہ میں نے ہاسپٹل جاکر کیا کرنا ہے ۔ جس شخصیت نے عمران خان کو یہ بتایا تو وہ شخصیت حیران رہ گئی, کہ یہ عمران خان صاحب کیا کہہ رہے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ میرے آئینی حقوق پورے کرو, میری قید تنہائی کو ختم کرو ۔ میرے ذاتی ڈاکٹرز تک مجھے رسائی دو ۔ ہاں میں مکمل چیک اپ کیلئے ہاسپٹل جانا چاہوں گا ۔ لیکن میں وہاں جاکر لیٹنا نہیں چاہتا ۔ میں نواز شریف کی طرح نہیں بننا چاہتا ۔ یہ عمران خان صاحب کا اس شخصیت کو جواب تھا ۔🔥🔥🔥🚨