تکبر شہرت کا ہو، عزت کا ہو، دولت کا ہو، طاقت کا ہو، علم کا ہو، حُسن کا ہو، حسب و نسب کا ہو، حتی کہ تقوی کا ہی کیوں نہ ہو، انسان کو رسوا کر کے ہی چھوڑتا ہے 🖤
Bilanço çok ağır..😔
Valiliğin açıkladığı 1277su baskını, 16 heyelan, 47 mahsur kalma.
Kapalı Çarşı sular altında,
Mısır çarşısı sular altında,
Yüzlerce iş yeri, evler sular altında
Bir çocuk elektrik akımına kapılıp malesef hayatını kaybetti.
Yağmur yağar, yağacakta. Ama bu hale gelmesi bu izlediğimiz görüntüler doğal afetten de fazlası
Resmen İHMALKARLIK.
Koca megakentin alt yapı sorunu olduğunun birebir göstergesi.
İnsanların çaresizliği, çığlıkları, göz yaşları
Akılda bir sürü soru işareti....
Geçmiş olsun #istanbul
#yağmur
#yağmur
واقعی۔۔۔
یہ 3 غذائی عادات اپنا لیں👇آپ کا موروثی بیماریوں سمیت کئی بیماریوں سے بچنے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔
کاش ہمارے ہاں۔۔اچھی غذائی عادات کی اہمیت کو بھی سمجھا جائے۔آپ اپنے آپ اور اپنی اولاد سے محبت کا سب سے بڑا مظاہرہ یہ کر سکتے ہیں کہ"ان کی غذائی عادات اچھی کر دیں" کیونکہ
وہ آپ کا DNA ہے جس نے نسلوں کو آگے لیکر بڑھنا ہے۔
(اسد آر چوہدری)
بجلی چوری اور بجلی بل ادا نہ کرنے کا نقشہ دراصل پاکستان کی مجموعی حکمرانی کا نقشہ ہے
بجلی چوری اور بجلی بل ادا نہ کرنا ایک علامت ہے، اصل بیماری نہیں۔
نقشہ بشکریہ @RShahzaddk
ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو پر میاں شہباز شریف صاحب نے اک کمیٹی بنائی تھی جس کا کوئی نتیجہ کبھی نہیں نکلنا تھا اور نہ ہی نکلے گا۔ اس لیے کہ ایلیٹ کلاس، تمام دنیا میں، کو کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس کلاس کا سب سے بڑا ہنر لوگوں کو، حتی کہ ریاست کو بھی رولز اینڈ ریگولیشنز میں پھنسا دینے کا ہے۔
یہ وہ عیاشی ہے جو مڈل کلاس اور اس سے نیچے والے عام طبقے کے کسی شخص کے پاس مہیا نہیں ہوتی اور عام طبقے کی اک خوفناک اکثریت عموما "یوتیا" ہوتی ہے۔ پھر معاشی جُہد میں الجھی یہ کلاس کسی طور پر لانگ ٹرم دیکھنے یا کھیلنے کی صلاحیت سے مکمل طور پر محروم ہوتا ہے۔ یہ طبقہ زندگی کو انٹر-کنیکٹڈ پراسیس کے طور پر دیکھنے سے بھی مکمل محروم ہوتا ہے اور عموما شارٹ ٹرم کی سہولت کو، لانگ ٹرم کے فائدے کے سامنے بلند تر رکھتا ہے۔
میری اپنی ہڈبیتی بھی انہی دائروں میں رہی اور زندگی کی تمام سمجھ، اک اک لتر کھا کر ہولے ہولے، مگر آ ہی گئی۔ سچ یہ ہے کہ کتابوں نے بےپناہ مدد دی، بےپناہ۔ علم سکھانے میں نہیں، ذہن اور مشاہدہ بنانے میں۔ میری اوریجنل کلاس میں کسی قسم کی کوئی مینٹورنگ نہیں ہوتی اور زندگیاں غربت، لاچاری اور محرومی کے ورٹیکلز میں بندھی، کئی نسلوں سے چلی آ رہی ہوتی ہیں۔ اور ورٹیکلز کو توڑنا کوئی آسان نہیں ہوتا۔ ذاتی طور پر ان ورٹیکلز کو توڑتے اور پھر ہاریزنٹلز میں ایکسپینڈ کرتے مجھے کوئی 30 برس کا تسلسل لگ گیا۔ اس تسلسل کو کہیں چھوٹا بھی کیا جا سکتا تھا اگر مینٹورنگ موجود ہوتی۔ حال کی گھڑی میں، ٹوٹل ٹھنڈ اور سکون ہے اور زندگی بہت شعوری طور سے جینے کی کوشش کرتے اب کوئی 21 برس ہو گئے ہیں تو اس کے پھلوں کا چس ہی کچھ اور ہے۔
خیال ہے کہ مجھ جیسے معاشی و معاشرتی پس منظر والے ہر شخص کو اپنی اوقات کے ورٹیکلز میں، اپنی معیشت کی اصل حیثیت اور مقام کے مطابق، اپنے جنریشنل کردار کا علم، پراپر علم ہونا بہت ضروری ہے اور یہ کام خواب و خیال میں نہیں آتا۔ اس پر سوچ بچار کرنا پڑتی ہے اور اک عقلی نتیجے پر لینڈ کرنا پڑتا ہے، بھلے وہ آپ کی مرضی کا قطعا نہ ہو۔ آپ اگر اپنی معاشی حیثیت 25 سے 30 برس میں بدل سکتے ہیں تو یہ بھی سودا گھاٹے کا نہیں۔ شارٹ کٹس بھی ہوتے ہیں، مگر ان کی تو کوئی پرسینٹیج بھی نہیں بنتی۔
آپ ایلیٹ بھلے ہو کر نہ مریں، مگر آپ کے سفر کا اختتام اگر غربت کے ورٹیکلز میں ہی ہو تو آپ کمال درجے کے پین چود چوتیا ہیں۔ اور کچھ نہیں۔
ڈائیٹ جتنی rich of nutrients ہو اتنا ہی اچھا۔۔
Liquids زیادہ
دن میں دو بوائل انڈے اور دو بار ملک شیک ایک طار کیلوں کا ایک بار سیب کا دونوں میں کھجور ڈالی مٹھاس کے لیے۔
کھانے میں کاربن کم اور پروٹین زیادہ۔
اور روز 4 لیٹر ایک ڈرنک بنا کر پلاتی تھی۔
دو لیٹر صبح بناتی تھی👇
جمعہ ریمائنڈر
بروز جمعہ سرکارِ دو عالم، شافعی محشر، ساقئ کوثر، رحمت اللعالمین کے دربارِ اقدس میں درود و سلام کے نذرانے پیش کرنا مت بھولئیے گا
اللھم صل وسلم وبارک علی نبینا محمد و آل محمد ﷺ
مرد روتے نہیں۔۔۔
تکلیف ہوتی ہے، درد ہوتا ہے، پر روتے نہیں۔۔۔۔۔
میرے بچے، میرے شہزادے، تمہیں یاد رکھنا ہے یہ ایک دن یہ تمہارے جو نازک سے کندھے ہیں نا
ان پہ جانے کتنے ہی منوں بوجھ پڑ جائے گا۔۔۔ کیونکہ تم مرد ہو۔
اس پہ شکوے کا حق بھی نہ رہ جائے گا، لاکھ دکھ ہوں تمہارے،
وہ دنیا کی نظروں میں ہوتے نہیں۔۔۔۔
مرد روتے نہیں۔۔۔۔
مرد بنتا نہیں، مرد ہوتا ہے بس۔۔۔۔۔
تم بھی انسان ہو، اس کو سمجھو اب بس۔
سر جھکانا نہیں، گھر میں گھستے ہوئے، گو کہ قتلِ انا روز ہوتا رہے۔ چاہے دل کے پھپھولے ہوں رستے ہوئے، تم کو رونا نہیں۔۔۔
تم کو رونا نہیں۔۔۔۔
تم کو حق ہی نہ ہوگا کہ بابت تمہاری کبھی سوچ لو۔۔۔ گھر کی، کنبے کی جتنی امیدیں ہیں، تم ان کو پورا کرو، تم وقار و متانت کا پیکر بنو، بس نہ شکوہ کرو، بیل جیسے کہ کولہو میں جوتا گیا، تم بھی جوتے گئے۔۔۔۔تم بھی گھومے چلو، اور گھومو بھی ایسے کہ سب کو لگے کتنا خوش ہے یہاں،
مرد ہو تم۔۔۔
لہٰذا تمہیں کوئی غم ہی کہاں، تم سے منسوب ہیں سب ہی جور و ستم، لاکھ دھوتے رہو، پھر بھی ہوں گے ناکام، اور صفائی کا حق بھی نہ مل پائے گا، کیونکہ تم مرد ہو۔۔۔۔
مرد ظالم ہے،
غاصب ہے،
عفریت ہے۔۔۔۔سب گناہیں اسی کے، یہی ریت ہے۔ بس یہ طے ہو چکا۔۔۔۔
طے ہوا ہے کہ مردانگی ہے گناہ،
اس گناہ کی سزا اور کفارے بھرو، ہم ادا کر چلے تم بھی کرتے چلو۔۔
یاد رکھنا، میرے شہزادے، کہ جب تم بڑے ہو گئے، تم کو الفت، محبت یہاں ایک قیمت کے بدلے ہی مل پائیں گی، کیونکہ جذبے گو جتنے بھی انمول ہوں، جو کہ کتوں کو بھی مفت مل جائیں گے،
تم خریدو گے بس۔۔۔۔
کل جہاں کی ملامت تمہارے ہی سر، کچھ بھی کر لو، رہے گی یہ لغتِ پدر، جس کی وجہ تم مرد پیدا ہوئے۔۔۔۔ بس نبھاؤ اسے،
کھوکھلی مسکراہٹ بھی قائم رہے، مسکراہٹ بھی وہ جو ملمع ہے بس، اس کو کھوتے نہیں۔ لاکھ دکھ ہوں تمہارے۔۔۔
وہ دنیا کی نظروں میں ہوتے نہیں۔۔۔
مرد روتے نہیں !
سکول کا موجودہ نظام آپ کے بچے کو آج کے بجائے 1998 کی دنیا کے لیے تیار کر رہا ہے حالانکہ ہم 2026 میں رہ رہے ہیں۔
آپ کا بچہ صبح 4 بجے اٹھتا ہے۔
یونیفارم پہنتا ہے۔
دن کے تقریباً 10 گھنٹے کلاس روم میں گزار دیتا ہے۔
بلیک بورڈ سے نوٹس کاپی کرتا ہے۔
ایسی چیزیں رٹتا ہے جو اکثر جمعہ تک بھول بھی جاتا ہے۔
گھر آ کر ہوم ورک میں پھر وہی باتیں دہراتا ہے۔
اور ہم اسے تعلیم کہتے ہیں۔
1998 میں یہ بات سمجھ آتی تھی۔
دنیا کو ملازمین کی ضرورت تھی۔
ایسے لوگ جو ہدایات پر عمل کریں۔
ایسے لوگ جو رٹا لگائیں اور دہرا دیں۔
ایسے لوگ جو سوال نہ کریں۔
نظام نے بالکل ویسے ہی لوگ پیدا کیے۔
لیکن یہ 2026 ہے۔
دنیا کو اب ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو صرف یاد کر سکیں۔
گوگل کے پاس ہر معلومات موجود ہے۔
اے ائی چند سیکنڈ میں کسی بھی کتاب کا خلاصہ کر سکتا ہے۔
آپ کے بچے کے لیے پرانی تاریخیں اور رٹے ہوئے سوالات اب اتنے اہم نہیں ہیں جتنے پہلے تھے۔
اب دنیا کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ مختلف ہیں۔
تنقیدی سوچ (Critical thinking)
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
تخلیقی سوچ
مؤثر بات چیت (Communication)
ڈیجیٹل مہارتیں
آپ کے بچے کا سکول یہ سب کچھ نہیں سکھاتا۔
وہ بچے کو سکھاتا ہے کہ 8 گھنٹے خاموش بیٹھو۔
استاد پر سوال نہ اٹھاؤ۔
جو بلیک بورڈ پر ہے اسے کاپی کرو۔
امتحان پاس کرو اور اگلے دن سب بھول جاؤ۔
یہ تعلیم نہیں ہے۔
یہ اطاعت (obedience) کی تربیت ہے۔
میں نے بھی اسی سسٹم سے تعلیم حاصل کی۔
میں پاس ہوا۔
مجھے سرٹیفکیٹ ملا۔
اور جب میں حقیقی دنیا میں آیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے کچھ بھی عملی طور پر نہیں آتا۔
میں پروپوزل نہیں لکھ سکتا تھا۔
میں پیسے کا انتظام نہیں کر سکتا تھا۔
میں کچھ بھی بیچ نہیں سکتا تھا۔
میں کانٹینٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
میں ویب سائٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
یہاں تک کہ ایک صحیح ای میل بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
لیکن مجھے پاکستان کی تاریخ کے کچھ باب، پرانے واقعات اور درسی کتابوں کے لمبے لمبے اسباق تفصیل سے یاد تھے۔
مسئلہ نظام کا نہیں ہے۔
اس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔
ایسے طلبہ تیار کرنا جو ایک ایسے نظام کے لیے ہوں جو صرف امتحان اور ڈگری پر چلتا ہے، نہ کہ حقیقی زندگی کی مہارتوں پر۔
آپ کا بچہ آج اسی نظام میں بیٹھا ہے۔
وہی چیزیں سیکھ رہا ہے۔
مگر دنیا جو بہت پہلے بدل چکی ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بچے کو سکول سے نکال دیں۔
لیکن یہ کہہ رہا ہوں کہ سکول کافی نہیں ہے۔
سکول کے بعد اصل سیکھنا شروع ہوتا ہے۔
انہیں Canva دکھائیں۔
ویڈیو ایڈیٹنگ کیسے ہوتی ہے یہ سکھائیں۔
ویب سائٹ کیسے بنتی ہے یہ دکھائیں۔
انہیں AI ٹولز سے متعارف کروائیں۔
انہیں کچھ بنانے دیں۔
کچھ بھی۔
ایک پوسٹر۔
ایک چھوٹی ویڈیو۔
ایک سادہ ویب پیج۔
انہیں یہ احساس دلائیں کہ یاد کرنے کے کیساتھ کچھ تخلیق کرنا بھی معنی رکھتا ہے۔
2030 میں کامیاب وہ بچے نہیں ہوں گے جن کے نمبر سب سے زیادہ ہوں۔
بلکہ وہ ہوں گے جو سوچ سکتے ہیں۔
تخلیق کر سکتے ہیں۔
مسائل حل کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔
والدین کا کام یہ ہے کہ اس وہ خلا پُر کریں جو سکول کا نظام پورا نہیں کرتا۔
اپنے بچے کے مستقبل کو اس نظام کے سپرد نہ کریں جو آپ کے اپنے سکول کے دور سے آج تک اپڈیٹ نہیں ہوا۔
نصاب کاغذوں پر بدل گیا ہے۔
لیکن کلاس روم نہیں بدلے۔
منقول