بانی متحدہ کی جانب سےامیدواروں کی فہرست آنے کےبعد جو بھونچال سوشل میڈیا پر آیا ہے وہ واضح کرتا ہے کہ وہ ایک سیاسی حقیقت ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ان کے ہمدرد سامنے آئےہیں کہ لوگوں کو یہ گمان ہونے لگا ہےکہ کہیں ایم کیو ایم پاکستان سےوابستہ کچھ لوگ بھی آزاد امیدواروں کو ووٹ نہ ڈال دیں
ابو ہمارے ایک اصول پسند، باکردار اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں ۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ سماجی کاموں اور اپنے ساتھی مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں گزار دیا ۔۔۔۔
سنہ 80 میں پاکستان اسٹیل ملز میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اس وقت کی veteran trade unionist محترمہ گلزار بیگم کیساتھ مل کر پروگریسیو ورکرز یونین کی بنیاد رکھی اور مزدوروں کے حقوق کی سیاسی جدوجہد کی شروعات کی ۔۔۔۔
جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا ملک میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری تھی اور ایسے میں مزدوروں کے حقوق کی بات کرنا سمجھئے جیسے حرام قرار پا گیا ہو ۔۔۔۔ ایسے میں جنرل ضیاء کا بغل بچہ بننے سے انکار کرنے پر اسٹیل ملز کی انتظامیہ کے ہاتھوں ابو اور ان کے ساتھی بدترین انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے مگر اپنے موقف پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔۔۔۔
1985 میں کچھ دوستوں کی وساطت سے ان کی ملاقات الطاف بھائی سے ہوئی جنہوں نے انہیں MQM میں شامل ہونے کی دعوت دی جسے ابو نے قبول کرکے MQM میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی ۔۔۔۔ کچھ ہی عرصہ بعد الطاف بھائی کی ہدایت پر دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر MQM Labour Division کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل رہے ۔۔۔۔ 1988 میں MQM Labour Division کے زیر انتظام United Workers Front of Pak Steel کی بنیاد رکھی اور اسی platform سے اگلے کئی سال اپنے ساتھی مزدوروں کے مسائل اور ان کے حل کی سیاسی جدوجہد میں گزار دئیے ۔۔۔۔
اسی دوران کراچی آپریشن شروع ہوگیا ۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر میں آفاق احمد صاحب کا طوطی بولنے لگا ۔۔۔ آفاق احمد چونکہ ہمارے ابو کی بہت عزت کیا کرتے تھے اس لئے انہیں گھر سے اٹھایا نہیں گیا بلکہ مختلف لوگوں کے ذریعہ بار بار الطاف بھائی کا ساتھ چھوڑنے اور حقیقی میں شامل ہونے کے پیغامات بھجوائے گئے جسے ابو ہر بار بصد احترام مسترد کرتے رہے ۔۔۔ آفاق صاحب کا شکریہ کہ انہوں ہمارے ابو کی رائے کا ہمیشہ احترام کیا اور اس معاملہ کو کبھی انا کا مسئلہ نہیں بنایا !!
آپریشن 92 کے دوران انہوں نے بدترین وقت کا سامنا کیا مگر کوشش یہی کی کہ تحریک کو دئیے گئے حلف کی پاسداری کریں ۔۔۔ آپریشن کے دوران حالات اتنے سخت ہوگئے کہ انہیں اپنی نوکری تک سے ہاتھ دھونا پڑا ۔۔۔۔
وقت گزرا ۔۔۔ جنرل مشرف کا دور آیا ۔۔۔۔ MQM حکومت میں شامل ہوگئی ۔۔۔۔ عین اسی وقت ابو نے MQM کی عملی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایک تو وہ خود کو اپنے اصولوں کی بنیاد پر اقتدار کی سیاسی ذمہ داریوں کیلئے misfit سمجھتے ہیں اور دوسرا ان کے نزدیک سیاسی تحریکوں کو مشکل وقتوں میں لوگوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو انہوں نے بخوبی گزار لیا ہے اور اب وہ سیاست سے break کینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ ان کی الطاف بھائی سے آخری دفعہ گفتگو شائید 2001 میں ہوئی تھی ۔۔۔۔
ابو نے ساری زندگی سیدھے راستہ پر چلنے کی کوشش میں گزار دی ۔۔۔ میسر ذرائع ہونے کے باوجود قناعت سے کام لیا ۔۔۔۔ بنگلے شائید وہ بھی بنا سکتے تھے مگر ساری عمر کرایہ کے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی ۔۔۔۔ پرتعیش زندگی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کسمپرسی اپنائی اور لالچ پر ایمانداری کو فوقیت دی ۔۔۔۔ معلوم نہیں انہوں نے ٹھیک کیا یا غلط مگر انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہمیں اس پر فخر ہے ۔۔۔۔
ہمارے ابو ہمارے ہیرو ہیں اور ہمارے ہیرو کو اس کے سخت ترین وقت میں یاد رکھنے اور اپنی دعاوں میں شامل کرنے کیلئے MQM اور الطاف بھائی کا دل سے شکریہ ♥️♥️♥️
Friends no more.
A lot has changed for @RheaRipley_WWE & @RaquelWWE since their #WWENXT days...
Who will walk out of #WWEPayback this Saturday as Women's World Champion?
📍 PITTSBURGH
🎟️ https://t.co/0X9okqZasZ
الطاف بھائی APMSO بنانے کا شکریہ ۔۔۔۔
پاکستان میں سالوں رہ کر بھی ہندوستانی کہلوانے والوں کو مہاجر شناخت دینے کا شکریہ ۔۔۔۔ ہمارے جیسے عام لوگوں کو طاقت کے اقتداروں تک پہنچانے کا شکریہ ۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے والے گمنام شہریوں کو کو نام دینے کا شکریہ ۔۔۔
آپ نے جو پودا لگایا تھا وہ آج بھی کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے ۔۔۔ اور یہی آپکی جیت ہے !!
ولدیت کو سند کی ضرورت نہیں ہوتی اور آپ مہاجر فلسفہ کے باپ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ♥️♥️♥️
۹مئی کو صرف ڈومیسائل کا فرق نظر آتا ہے جب ۲۲اگست ہوئی تھی تو الطاف بھائی پر پابندی لگ گئی تھی، عمران خان پر اب تک کوئی پابندی نہیں لگی کراچی کا شہری دوہرے نظام پر بھڑک اُٹھا
#GTVNews#SanaHashmi#ImranKhan#AltafHussain@sanaahash
اداس چہروں کی کہانی
(ملک کےموجودہ سیاسی حالات پر ایک منظوم تبصرہ)
اداس چہرے ہیں، نم نم آنکھیں
شکستہ دل سے کرتے ہیں باتیں
بدلا ہے رستہ پر کیسے بدلا
ناطہ جو توڑا ہے، پر کیسے توڑا
سوال یہ باربار کیسا
چہرے پہ سب کچھ لکھا ہوا ہے
چہرے ذرا غور سے تو دیکھو
یہ حالِ دل خود بتا رہے ہیں
پریشاں چہرے ہیں ، نرم لہجہ
دلوں میں کچھ ہے ، زباں پہ کچھ ہے
ہے کیا کہانی کسے بتائیں
جو زخم ہیں وہ کسے دکھائیں
عجیب تھی کشمکش کہ آخر
بچوں کو اپنے کیسے بچائیں
ہوجائیں رسوا زمانے بھر میں
پر اپنے بچوں کو اب بچائیں
یہ بھیگی پلکوں سے چھلکے آنسو
چمکتے ہیں موتیوں کے جیسے
چھپے بہت سے ہیں راز ان میں
سنبھال رکھنا کہیں گر نہ جائیں
جو گر گئے قیمتی یہ آنسو
کریں گے ہر راز سب کے افشا
اداس چہرے ہیں ، نم نم آنکھیں
شکستہ دل سے کرتے ہیں باتیں
الطاف حسین
26، مئی2023
Phd from Reading University London, Post doctoral research from Harward Univerisy USA, Professor of Karachi University for 35 years & Senior Leader of MQM Dr Hasan Zafar Arif.
Brutally tortured to death, But Hamid Mir from Punjab remained Silent.