ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:
"تم کیا چاہتی ہو؟"
عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"
خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"
عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"
خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:
"دروازے پر ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"
مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"
عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"
عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"
خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"
پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں۔
منقول
سنگین غلطی۔۔
برجپال سنگھ سکند ایک ایسا پائلٹ جس نے پاکستان ایئر بیس کو انڈین ایئر بیس سمجھ کر اپنا لڑاکا طیارہ لینڈ کر دیا۔
3 ستمبر 1965ء...
پاکستان کی فضائیں گونج رہی تھیں۔
سائرن بج رہے تھے، توپیں دھاڑ رہی تھیں، اور آسمان میں موت کے پر پھیل چکے تھے۔ ہر پائلٹ جانتا تھا کہ آج کی ایک غلطی، آخری غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر برجپال سنگھ سکند اپنے فولینڈ گنیٹ لڑکا طیارے کو پاکستانی طیاروں سے بچاتے اپنی فارمیشن سے جدا ہوگئے اور ارادہ کیا اب ہندوستان بھاگ جانا چاہئیے، ضروری نقشہ جات اور حساب کتاب کے بعد اپنا رخ ہندوستان کی طرف کردیا
ہر گزرتا لمحہ انہیں ایک ایسےخطرناک نتیجے کی طرف دھکیل رہا تھا جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔جہاز کا فیول ختم ہوتا جا رہا تھا اور ذھن پر پاکستانی طیاروں کے تعاقب کا خوف بھی سوار تھا
پھر...
انہیں اپنے جہاز کے کاک پٹ سے ایک ویران جگہ پر ایک رن وے نظر آیا ، سنگھ صاحب نے اطمینان کا سانس لیا اور طیارے کو اس رن وے پر اتار لیا .
جہاز رکا... کاک پٹ کھلا... اور چند لمحوں بعد پائلٹ سنگھ باہر نکل آیا مگر کیا دیکھتا ہے ...فوجی گاڑیاں کھڑی ہیں مگر انکی وردی انڈین نہیں پاکستانی تھی .
برجپال سنگھ نے اپنا جہاز غلطی سے پاکستان کے شہر پسرور کے قریب برسوں سے خاموش پڑے ایک ویران ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا .
پاکستانی فوجیوں کو دور سے ایک جنگی جہاز نیچے آتا دکھائی دیا تھا ،پاکستانی فوجی حیران رہ گئے۔
یہ کوئی پاکستانی جہاز نہیں تھا...
یہ تو بھارتی فضائیہ کا فولینڈ گنیٹ تھا!
یہ 1965ء کی جنگ کے ان نایاب لمحات میں سے ایک تھا جب دشمن کا ایک مکمل جنگی طیارہ پاکستانی سرزمین پر موجود تھا۔
پاکستانی فوج نے پائلٹ کو جنگی قیدی کے طور پر اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ اس قیمتی طیارے کو محفوظ کر لیا گیا۔ بعد میں پاکستان ایئر فورس کے ماہرین نے اس کا تفصیلی جائزہ لیا، آزمائشی پروازیں کیں، اور اسے اپنی تاریخ کا حصہ بنا لیا۔
دوسری طرف جنگ جاری رہی...
لیکن پاکستان نے ایک اور مثال بھی قائم کی۔
جنگ ختم ہونے کے بعد جنوری 1966ء میں برجپال سنگھ سکند کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کر دیا گیا۔ دشمن ضرور تھا، مگر قیدی کے ساتھ سلوک انسانیت کے اصولوں کے مطابق کیا گیا۔
آج بھی کراچی میں پاکستان ایئر فورس میوزیم میں وہ فولینڈ گنیٹ خاموشی سے کھڑا ہے اور انڈین پائلٹ کی سنگین غلطی کو یاد دلاتا ھے۔۔
زندہ قومیں فتح کے جشن اس طرح مناتی ھیں۰
سپین نے فٹ بال کا ورلڈ کپ جیتا ھے یہ اسکا جشن ھے۰
ھم نے بھارت جیسے دشمن سے جنگ جیتی اور یہاں جشن منانے کی بجائے سیاپا پڑ گیا۰
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے یوتھیوں کو یہ بول کر چ بنا رکھا کہ خان ہار نہیں مان رہا
خان ڈٹ گیا ہے، خان بہت بڑی گیم کھیل رہا
خود یہ باہر بیوی بچوں سمیت انجوائے کر رہے
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
یہ لامین یمال کی دادی فاطمہ ہے جو مراکو سے ڈنکی مار کر ایک کشتی میں سپین پہنچی ساتھ اس کا سگا باپ جو ابھی صرف 38 سال کا ہے اس کی دادی حجاب لیتی ہے یہ عربی بولتے اور یمال مسلم ہے اور فٹ بال میچ میں بھی روزے رکھتا فلسطین اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے
دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں؟
اختر مینگل کے گھر سے آتے ہیں
یہ اختر مینگل کا بیٹا ہے جو ان بی ایل اے دہشتگردوں ساتھ گھوم رہا ہے جنھوں نے شفیق مینگل کے گھر پر حملہ کیا پچھلے دس سال سے اختر مینگل کا یہ دہشتگرد گروہ بلوچستان کو لہو لہان کیے ہووئے ہیں
طبی تحقیق کے مطابق جمائی دراصل دماغ کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والا ایک قدرتی نظام ہے۔ جب دماغ زیادہ گرم ہو جاتا ہے، تو لمبی اور گہری سانس لینے سے ٹھنڈی ہوا اندر جاتی ہے اور خون کی گردش بہتر ہوتی ہے، جس سے دماغ کا درجہ حرارت کم ہو کر نارمل ہو جاتا ہے۔اس حوالے سے سائنسی معلومات اور شواہد درج ذیل ہیں:دماغی تھرموسٹیٹ: ماہرین کے مطابق جمائی لینا جسم کی ایک ایسی لاشعوری حرکت ہے جو دماغ کے اندرونی درجہ حرارت کو متوازن رکھتی ہے۔آکسیجن کا کردار: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمائی آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آتی ہے، لیکن کئی سائنسی مطالعات نے اس نظریے کو مسترد کر دیا ہے۔