ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا!
حق و سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اور مظلوموں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ فتح ان شاء اللہ حق کی ہوگی!
— احتشام کیانی
ایڈیشنل سیکرٹری جنرل، پی ٹی آئی نارتھ پنجاب
@PtiNorthPunjab@PTIofficial
8 اکتوبر کو کراچی کے لوگ صوابی پہنچیں گے پورے ملک کی عوام صوابی پہنچے ہمارا صوبہ سندھ اپنا بھرپور حصہ ڈالے گا اور ہم سب لانگ مارچ جوائن کرنگے۔
ارسلان خالد جنرل سیکرٹری کراچی پاکستان تحریک انصاف
عمران خان صاحب کو جولائی میں بلڈ پریشر کی شکایت اور پمز کے ڈاکٹروں کی ناکامی کے بعد لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر سے علاج کی اطلاع ہمیں مزاکرات کے دوران دی گئی۔ بتایا گیا کہ اگست سے خان صاحب کا بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے۔
اگست میں سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے داخل کرائی گئی رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ جولائی میں خان صاحب کو بلڈ پریشر کی شکایت ہوئی تھی۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 18 اگست کو خان صاحب کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کا حکم دیا تھا۔
مزاکرات کے دوران نئی بات جولائی میں لندن کے ڈاکٹر سے علاج کے حوالے سے کی گئی۔
18، 21 اور 25 اگست کو عمران خان صاحب کی بہنوں نورین بی بی اور ڈاکٹر عظمی صاحبہ کی ملاقاتوں کے بعد خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بہنوں کے اطلاع قوم کے سامنے ہے۔ 21 اگست کو ڈاکٹر عظمی صاحبہ نے تفصیلی پریس کانفرنس کی تھی جس میں بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی سوالات کا جواب دیا تھا۔ بظاہر بلڈ پریشر اگست سے نارمل ہے۔
سوال اٹھایا گیا ہے کہ جولائی میں لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر کی اطلاع قوم کو 4 اکتوبر کی بجائے 5 اکتوبر کو کیوں دی گئی؟ مختصر جواب: میں اور دیگر ارکان یہ اطلاع اور مزاکرات کا باقی احوال مزاکراتی ٹیم کے تمام ارکان لے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس میں بیان کرنا چاہتے تھے۔ایسی پریس کانفرنس نیچے دئیے گئے حالات کے تناظر میں 4 اکتوبر کو نہ ہو سکی۔
میں 3 اکتوبر کو 1 بجے دوپہر سے 4 اکتوبر کی صبح 3 بجے تک مزاکراتی عمل کے حوالے سے مختلف نشستوں میں شامل رہا۔ حکومتی ٹیم سے میٹنگ سے پہلے ہماری اپنی میٹنگ ہوئی۔ مزاکرات کے اختتام کے بعد بھی پونے چار بجے تک ہماری ٹیم پارلیمنٹ ہاوس میں رہی۔ 4 اکتوبر کے دن کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں اگلے دن عمران خان صاحب اور بشری بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں دائر اپیلوں کی سنوائی کے حوالے سے معاملات طے کیے۔ سلمان صفدر صاحب، لطیف کھوسہ صاحب، حامد خان صاحب اور گوہر خان صاحب سے ٹیلی کانفرنس اور انفرادی گفتگو ہوئی۔
میں مزاکرات کے حوالے سے تمام ممبران کے ساتھ 4 اکتوبر کو ہی پریس کانفرنس کرنا چاہتا تھا۔ پارٹی کے شعبہ اطلاعات نے اطلاع دی کے مزاکراتی کمیٹی کے تمام ممبران میسر نہیں۔ چیئرمین گوہر خان صاحب کی قریبی عزیزہ کی صحت کی خرابی اور پھر قضائے الہی سے وفات کی افسوسناک خبر آئی۔ میں نے بہرحال انگریزی اور اردو میں مفصل ٹویٹس کے علاوہ متعدد ٹی وی پروگرام کیے اور مزاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ بیان کی۔
5 اکتوبر کو بھی جب دیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس نہ ہو سکی تو میں نے بابر اعوان صاحب کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور خان صاحب کی جولائی کے مہینے میں لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر سے علاج کی بات قوم کے سامنے رکھ دی۔
ہم ایک لمحے کیلئے بھی مزاکرات کے دوران یا بعد خان صاحب کے ذاتی معالجین کے ذریعے علاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوئے نہ ہونگے۔ اس حق کا نہ دینا مزاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ تھی۔ لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر کی اطلاع ہمارے موقف کی تائید ہے کہ پمز کے ڈاکٹروں سے خان صاحب کا علاج ناکافی ہے۔ خان صاحب کی صحت کی یقینی نگہداشت ان کے ذاتی ڈاکٹروں کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔
جسٹس شہباز رضوی لاہور ہائی کورٹ کے اگلے چیف جسٹس کی دوڑ میں شامل ہیں، جسٹس عالیہ نیلم کو جلد آئینی عدالت لایا جا سکتا ہے، موجودہ دور میں جو جج چیف جسٹس بننے کی دوڑ میں شامل ہو کیا وہ پی ٹی آئی ورکرز کو انصاف دینے کی جرات کر سکتا ہے؟ جواب ہے نہیں
صبر کریں، اللّٰہ پاک سے دعا کریں