جناب۔ @PakSarfrazbugti ٹیوٹر سرداروں کا آپ سے ایک سوال ہے
بلوچ راجی مچی کے دوران جب نہتے مظاہرین پر تشدد ہوا، جانیں ضائع ہوئیں اور بنیادی حقوق پامال کیے گئے تو عدالتیں کہاں تھیں؟
ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اب ایک سنگین جرم بن چکا ہے۔
#MahrangBaloch#UnfairTrial
دالبندین ضلع چاغی میں زبیر بلوچ کے گھر پر حملہ اور اُن کی شہادت کوئی اتفاقی سانحہ نہیں بلکہ اُس ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جو کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جاری ہے۔
زبیر بلوچ ایک پُرامن سیاسی کارکن، باہمت نوجوان اور انسانی حقوق کے لیے بے خوف آواز تھا۔ وہ ہمیشہ جبری گمشدگیوں، وسائل کی لوٹ مار اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ڈٹ کر بولتے رہے۔ زبیر بلوچ کو ہمیشہ سے لگتا تھا تھا کہ بلوچ عوام کے مسائل کا حل اور اُن کے حقوق کا تحفظ صرف پُرامن سیاسی جدوجہد میں ہے۔
مگر ریاست نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ اُسے نہ پُرامن سیاست برداشت ہے اور نہ ہی اختلافِ رائے سے قبول ہے فورسز نے زبیر بلوچ کے گھر پر یلغار کرکے انھیں اور اُن کے ساتھی ناصر بلوچ کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ قتل صرف دو انسانی جانوں کا نقصان نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کو خوفزدہ کرنے اور اُن کی اجتماعی آواز کو خاموش کرنے کی حکمتِ عملی کا دیرینہ حصہ ہے۔
زبیر بلوچ ہمیشہ مظلوم خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، احتجاجوں میں شریک ہوئے اور اپنی تحریروں و تقریروں کے ذریعے بلوچ عوام کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے رہے۔ اُن کی شہادت بلوچ جدوجہد پر ایک اور گہرا زخم ہے، مگر ساتھ ہی یہ اس امر کا اعلان بھی ہے کہ طاقت اور جبر بلوچ عوام کے حوصلوں کو توڑ نہیں سکتے اور نہ ہی انھیں اپنی جدوجہد سے دستبردار کرسکتے ہیں۔
Today, around 7:00 PM, personnel from Pakistan’s Federal Constabulary (FC) raided our home in the village without any prior notice or legal justification. My father already been forcibly disappeared for over three months—his only “crime” being father and my crime is to speak against human rights violations.
During the raid, my family members were harassed and threatened. This is part of a calculated pattern of collective punishment, aimed at instilling fear and silence among those who dare to speak out.
Today, as we choose the path of peaceful resistance, we are targeted through enforced disappearances, defamation, and intimidation. One by one, our voices are being silenced, and the state seeks to erase us by labeling us “terrorists.”
Every child in Balochistan is raised with the hope that one day, they will see peace on their own land. To steal this struggle is to steal that hope, and that is something we will never allow.
I appeal to the international community and especially to:
@amnesty@hrw@UNHumanRights@fidh_en@EU_Justice@CIVICUSalliance@ICJ_org@Reprieve@FrontLineHRD
Raise your voices. Use your platforms. Help stop this violence.
We are not criminals. We are human rights defenders.
Speaking out for justice, truth, and humanity is not a crime.
We urge the international community to:
1.Demand the immediate release of my father and my colleagues.
2.Ensure that Pakistan complies with its international human rights obligations
#StopBalochGenocide
بلوچستان
نتیجہ پھر وہی ہوگا سنا ہے سال بدلے گا
پرندے پھر وہی ہونگے شکاری جال بدلے گا
بدلنا ہے تو دن بدلو، بدلتے کیوں ہو ہندسوں کو
مہینے پھر وہی ہونگے, سنا ہے سال بدلے گا
وہی سردار وہی حاکم، وہی غربت
وہی میر وہی قاتل، وہی غاصب
بتاؤ کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا
#Balochistan
افسوس افسوس افسوس ہماری قومی اسمبلی اپنی مدت کے خاتمے سے پہلے بغیر بحث کے دھڑا دھڑ بل پاس کئے جا رہی ہے ذرا اس بل کے ٹائیٹل پر غور کریں یہ پاک چائنہ گوادر یونیورسٹی لاہور کا بل ہے کیا کسی نے قومی اسمبلی میں یہ پوچھا کہ گوادر کے نام پر لاہور میں یونیورسٹی کیوں بنائی جا رہی ہے؟
لاہور والو سے پوچھا جائے گوادر کہاں ہے تو وہ یہ بولینگے گوادر کوئٹہ میں ہے ۔ اس سے بڑی بڑی نا انصافیاں ہوتی آرہی ہے مگر گریبان کس کا پکڑے ہمارے اپنے بھی اس ہی قومی اسمبلی کا حصہ ہے ۔نام بلوچستان کا مگر چائنہ کے اسکالرشپ پر بھی پنجاپ والے جا رہے ہیں ۔