حافظ آباد میں جو واش روم کا تنازعہ ہوا ہے، ڈی پی او نے واش روم استعمال کرنے پر ایم پی اے کے بیٹے کو کہا کہ "GET LOST"۔ اب یہ واش روم تو سرکاری پیسوں سے بنا ہوا تھا، یہ ان کے ذاتی گھر کا واش روم تو نہیں تھا۔ جب شکایت مریم نواز اور آئی جی تک پہنچی تو ڈی پی او کا تبادلہ ہو گیا۔یہ ہماری افسر شاہی کا مزاج ہے۔ ان کے اندر حکمرانی کی کتنی تڑ آگئی ہے کہ اگر کوئی ان کا واش روم استعمال کر لے تو یہ مائنڈ کر لیتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کا کام کیا کرنا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ یہ ڈی پی او صاح نے کبھی پبلک واش روم نہیں استعمال کیا ہو گاموٹروے پر یا کہیں بھی یہ اپنا واش روم ساتھ لے کر چلتے ہوں گے۔یہ اخلاقی طور پر بہت گرا ہوا واقعہ ہے ۔یہ پولیس ا ور آئی جی صاحب کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث ہے۔ ان کو آئندہ کوئی پوسٹنگ نہیں دینی چاہیے۔ انہیں آئی جی آفس کے تمام باتھ رومز کا ڈی پی او لگا دینا چاہیے۔ ان کے لیے کہنا چاہیے کہ آپ آج سے "ڈی پی او واش روم پنجاب" ہوں گے۔ ان کے لیے الگ سے ایک عہدہ ہونا چاہیے۔
@M_Suharwardy
https://t.co/l7pr2usVDD
ایک نظریے کی خاطر اور ملک میں انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والے صاحبزادہ حامد رضا دہشتگردی کی ایک جھوٹی ایف آئی آر میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ تھے۔ انکی جماعت نے دہشتگردی کے خلاف اجتماعی شرعی اعلامیہ جاری کیا۔