BIG BREAKING: The Supreme Court of Pakistan has granted bail to lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha and suspended the conviction order of Judge Afzal Majoka’s trial court.
میں جب تک زندہ ہوں، آپ کے بیٹے کے لیے جدوجہد کرتی رہوں گی۔
۔ اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کے خلاف مارچ کے دھرنے کے اختتام پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، جبری گمشدگی کا شکار شخص کی والدہ کو تسلی دیتے ہوئے کہہ رہی ہیں۔
She asked for justice. She asked for answers. She stood with grieving families. Now she has lost her freedom. I believe it is time we stand strong for the woman who spent her life fighting for others.
#ReleaseMahrangBaloch@BBCWorld@amnesty@imasbaloch
مجھے خود پر بھی فخر ہے کیونکہ میں نے زندگی میں ہر طرح کے مسئلے دیکھے ہیں
مشکل وقت نے مجھے توڑا نہیں، بلکہ اور مضبوط بنایا ہے
حق کی بات کرنا آسان نہیں مگر جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو وہ حالات سے نہیں ڈرتا
ماہ رنگ بلوچ — آوازِ حق حوصلے اور مزاحمت کی علامت
#MahrangBaloch#Balochistan
ماہ رنگ، ایک عہد
ماہ رنگ، ایک روایت
تاریخ کا زندہ باب
حوصلے کی پہچان
امید کا استعارہ
وقت سے آگے ایک نام
دیواروں سے بلند ایک صدا
سچ کا بےخوف چہرہ
عزم کی نئی تعبیر
خاموشی کے خلاف ایک نام
عہد جو ٹوٹا نہیں
خواب جو زندہ رہے
حوصلہ جو جھکا نہیں
آج بلوچ راجی مچی کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آج بلوچ قوم اُس تاریخی دن کو یاد کر رہی ہے جب اس ریاست نے بلوچ راجی مچی کو روکنے کے لیے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کر دی تھیں۔ راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور کئی لوگ ہمیشہ کے لیے معذور کر دیے گئے۔
وہ لوگ جو اپنے گھروں سے گوادر کی طرف اس عظیم اجتماع میں شرکت کے لیے نکلے تھے، وہ کس بہادری سے ریاستی جبر کا مقابلہ کر رہے تھے، ہم شاید کبھی پوری طرح جان نہ سکیں۔ لیکن اُن کے پیچھے رہ جانے والے خاندان ایک ایسے خوف میں مبتلا تھے جسے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو ہر لمحہ اپنے پیاروں کی موت یا زخمی ہونے کی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔
کوئٹہ، مستونگ، تلار اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں بلوچوں کے اس عظیم کارواں کو روکنے کے لیے ریاست نے اپنے ڈیتھ اسکواڈز سے لے کر مختلف ریاستی اداروں تک، ہر طاقت کو استعمال کیا۔ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے، اُن کے ذہنوں میں صرف ایک سوال تھا کہ کیا بلوچ راجی مچی کامیاب ہو پائے گی؟
لیکن میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے جو گوادر میں موجود نہیں تھے مگر ہمیں یقین تھا کہ یہ راجی مچی ضرور کامیاب ہوگی، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں اور ریاست اپنی طاقت کا جتنا بھی استعمال کر لے۔
کیونکہ ریاست کے سامنے ماہ رنگ کھڑی تھی۔
وہ ماہ رنگ جو ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ریاست اُسے پیچھے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گی۔ اُسے معلوم تھا کہ راستے بند کیے جائیں گے، لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا، تشدد کیا جائے گا اور شاید اُن لوگوں کی جانیں بھی لی جائیں گی جو اُس کی آواز پر اپنے گھروں سے نکلے ہیں۔
لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگر آج وہ پیچھے ہٹ گئی، تو شاید بلوچ قوم کے لیے دوبارہ کبھی ایسا تاریخی اجتماع منعقد کرنا ممکن نہ ہو۔
اس لیے وہ ڈٹی رہی۔۔۔ وہ کھڑی رہی۔۔۔ وہ نہیں جھکی۔۔۔
اور اُس کی قیادت میں بلوچ قوم نے وہ کر دکھایا جسے روکنے کے لیے ریاست نے اپنی پوری طاقت استعمال کی تھی۔
ماہ رنگ بلوچ قوم کے لیے ہر وقت کھڑی رہی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ہم ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ میں سراپا احتجاج تھیں، تو ریاست نے اسی احتجاج میں اسٹریٹ فائرنگ، گرفتاریاں، آنسو گیس، شیلنگ، کریک ڈاؤن اور ظلم کی انتہا کر دی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی سریاب میں اسی احتجاج میں موجود تھیں۔ جب حکام بات چیت کے لیے آئے، تو ماہ رنگ نے انہیں مقررہ وقت میں گرفتار شدہ مظاہرین کو رہا کرنے کا الٹی میٹم دیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم اس دھرنے کو ریڈ زون میں منتقل کریں گے۔ مگر مدت ختم ہوئی اور ریاستی حکام نے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
پھر ماہ رنگ اور دوسرے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ اس دھرنے کو کارواں کی شکل میں ریڈ زون میں منتقل کریں۔ اس وقت میں نے ماہ رنگ سے سوال کیا تھا “ریاست جو پہلے سے ظلم و بربریت پر اتر آئی ہے اور بہت سے دوستوں کو گرفتار کیا گیا ہے، آیا یہ فیصلہ درست ہوگا کہ ہم دھرنے کو ریڈ زون میں منتقل کریں؟ کیونکہ ریاست پھر کریک ڈاؤن کرے گی۔” ماہ رنگ نے مسکرا کر یہ جواب دیا کہ “مجھے معلوم ہے کہ ریاست ہم سے خوفزدہ ہے اور مجھے بھی دوستوں اور مظاہرین کی بے حد فکر ہے، مگر اگر ہم اب پیچھے ہٹیں تو یہ ریاست ظلم کی انتہا تک پہنچ جائے گی اور گرفتار شدہ افراد کو جبری طور پر لاپتا کر دیا جائے گا۔”
ماہ رنگ کو ہر وقت اپنے سے زیادہ بلوچ قوم کی فکر تھی اور یہی مثال گوادر راجی مچی میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
بلوچ راجی مچی کامیاب ہوئی۔ اور آج، دو سال بعد، یہ صرف ایک جلسے کا نام نہیں بلکہ بلوچ قوم کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے ظلم، جبر اور طاقت کے زور پر کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
یہ اُس دن کی یاد ہے جب ایک طرف ریاست کی تمام طاقت تھی اور دوسری طرف ایک مظلوم قوم کی آواز۔ اور اُس دن دنیا نے دیکھا کہ طاقت ہمیشہ فتح یاب نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایک ڈٹی ہوئی آواز بھی تاریخ لکھ دیتی ہے۔
آج دو سال بعد، جب اسی کامیاب جلسے کا چرچا کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ریاست نے اسی جلسے کو متنازع بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی.
#ReleaseBYCLeaders
#ReleaseMahrangBaloch
28 July ,Two Years completion of Baloch Raji Muchi
Two years have passed since the historic Baloch Raji Muchi, yet its message continues to echo across Balochistan.
آصف جس کے تینوں بہنوں نے اسکے ساتھ وہی رویہ رکھا ہوا تھا جو رویہ، محبت ایک ماں کی اپنے اولاد کیلئے ہوتی ہے، جب وہ اپنے بھائی کو زندان میں تصور کرتے ہونگے تو انگا کیا حال ہوگا یہ بس خدا ہی جانتا۔
#ReleaseAsifBaloch
بلوچستان کی فضاؤں میں دعا آج بھی زندہ ہے، ہر ماں کی آنکھ میں امید کی ادا آج بھی زندہ ہے، جو حق و انصاف کی خاطر کھڑے ہیں استقامت سے، ان کے حوصلوں کی وہ صدا آج بھی زندہ ہے۔
#Balochistan
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ پہلے ہی سے طے شدہ تھا۔ عدالتی کارروائی محض ایک فارملٹی کے سوا کچھ نہیں تھی۔ نہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی جرم ثابت کیا گیا جس کی بنیاد پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی۔ یہ فیصلہ ریاستی بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں۔
بی وائی سی کے قانونی وکلاء اور جیل میں قید رہنماؤں نے پہلے ہی دن سے ریاست کی جانب سے مقرر کردہ نام نہاد کونسل کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ وہ ان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر مقدمے کی پیروی کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں ریاست نے خود کارروائی چلائی، کونسل بھی اسی کی مقرر کردہ تھی، گواہ بھی اسی کے زیر اثر تھے اور فیصلہ بھی اسی کی مرضی کے مطابق سنایا گیا۔
فیس لیس اور اسپیڈی ٹرائل کے بعد اب وہی ریاستی کونسل، جس نے بی وائی سی کے لیگل وکلاء اور جیل میں قید بی وائی سی کے رہنماؤں کی مرضی کے بغیر ان کی نمائندگی کی، اسے ریاست کی جانب سے بڑے عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔ غیر منصفانہ فیصلے کے بعد سید اقبال شاہ کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان تعینات کیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عدالتی نظام کس حد تک بوسیدہ ہو چکا ہے۔
#ReleaseBYCLeader
#FairTrialForBYCLeaders
ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کی کوشش کی، ہماری آوازوں اور سیاسی رہنماؤں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے جب بھی انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، ہمیں ناانصافی اور جبر کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ہم نے جب بھی اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی، ہماری آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب اگر ہمارے ساتھ کوئی کھڑا ہے تو وہ بلوچ قوم ہے، جس کے حوصلے، ہمت اور دلیری یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست ہم پر ظلم کے پہاڑ کیوں نہ توڑ دے، ہمیں ہر حال میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
آج یہ ظلم اور جبر کی داستان صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ آج ہر بلوچ اسی ناانصافی اور جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، پُرامن طریقے سے زندگی گزارنے کا حق، حتیٰ کہ یہاں جینے اور سانس لینے کا حق بھی ہم سے چھینا جا رہا ہے۔ اب اس نظام میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کرے تو کیا کرے؟
پُرامن سیاست، منصفانہ ٹرائل اور پُرامن احتجاج کا حق نہ صرف عالمی اصولوں کا حصہ ہے بلکہ ریاست کے اپنے قوانین میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ مگر ہم نے جب بھی پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، ہمیں تشدد، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا، وہ بھی بغیر کسی واضح اور ٹھوس ثبوت و شواہد کے، بلوچ قوم کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ریاستی عدالتی نظام میں بلوچ عوام کے لیے انصاف کی کوئی گُنجائش نہیں ہے۔
مگر ہم یہ مقدمہ بلوچ عوام کے سامنے رکھتے ہیں کہ اب انصاف کی یہ جنگ بلوچ عوام اور قوم کو لڑنی ہوگی۔ ہمیں متحد ہو کر اس جبر کے خلاف پُرامن طریقے سے مزاحمت جاری رکھنی ہوگی۔ ہمیں اپنی پُرامن جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو معلوم ہو کہ ظلم، تشدد اور جبر کے باوجود ہم متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔
کل جو سب کی آواز تھے، کل جو ہر متاثرہ خاندان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، کل جنہوں نے دن رات ایک کر کے بلوچ عوام کے لیے جدوجہد کی، آج وہ ہماری جدوجہد اور ہماری آوازوں کے منتظر ہیں۔
کل جس نے کہا تھا کہ: “میں رہوں یا نہ رہوں، یہ تحریک آپ کی امانت ہے۔”
تو آئیں، ہم انہیں جیل میں یہ احساس دلائیں کہ آپ کی امانت ہم نے اپنے سینوں سے لگا کر محفوظ رکھی ہوئی ہے اور آخری دم تک اس تحریک کو انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کے ذریعے جاری رکھیں گے۔
بلوچ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مزاحمت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔
ریاست کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ جتنا زیادہ ہم پر جبر کریں گے، ہم اتنا ہی مضبوط ہو کر ابھریں گے۔ آپ جتنا ہمیں دبانے کی کوشش کریں گے، ہم اتنی ہی ثابت قدمی کے ساتھ پُرامن مزاحمت کریں گے۔ آپ جتنے لوگوں کو قید کریں گے، اتنے ہی لوگ اپنے حقوق کے لیے آگے آتے رہیں گے، یہاں تک کہ ظلم کی طاقت ہمارے حوصلوں کے سامنے کمزور پڑ جائے گی۔
#ReleaseBYCLeaders
“This pain cannot be expressed. But we are trying to stay strong because Mahrang taught us bravery. She taught us courage, and we will not let her down.”
I shared my comments with @TheContrapuntal on my sister Dr. Mahrang Baloch’s life imprisonment and the unfair trials targeting her and other Baloch Yakjehti Committee leaders.
Please read this detailed reportage by @HazaranRahim and @sommulbaloch.
https://t.co/Eu26uKMBar
One month ago, my sister sat down to speak about the books that became her friends in prison. This week, she was sentenced to life imprisonment. I cannot read this interview the way I did when it was first recorded. Every answer belongs to someone the state was already preparing to bury beneath propaganda, accusations and a faceless trial. Yet none of that is what fills these pages. Instead, they capture a woman speaking about the writers who kept her company through captivity, the ideas that sustained her, and the ordinary but revolutionary act of seeking knowledge that no prison can ever confiscate.
https://t.co/bLwJVzNXXy
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی دوسری مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ جس شخصیت کو ریاست نے دہشت گردی کے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سزا دینے کی کوشش کی ہے، اسی شخصیت کو عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
#ReleaseMahrangBaloch #ReleaseBYCLeaders
Dr. Mahrang Baloch is the mirror in which Pakistan's military establishment sees its own ugly face. That is why the generals imprisoned the mirror itself. But Mahrang's resistance has already become an ideology for the people & an ideology cannot be imprisoned.