اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ حکومت کس کی ہے؟ جمہوری حکومتوں میں، حضرت، پارلیمنٹ جو ہے وہ پوری قوم کی نمائندہ ہے اور اس میں اگر حکومتی بینچوں کی آواز آپ تمام نشریاتی اداروں کے ذریعے سے ملک تک پہنچانا چاہتے ہیں، عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو اتنا ہی برابر کا حق اپوزیشن کے ممبران کا ہے۔
وہ آپ پر تنقید کر رہے ہیں، قوم کو سننا چاہیے کہ وہ کیا تنقید کر رہے ہیں۔ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے شکایت کر رہے ہیں، بیوروکریسی سے شکایت کر رہے ہیں، ملک کے کسی گوشے سے اگر کوئی ایسے مسائل آتے ہیں جس پر اپوزیشن بات کرنا چاہتی ہے، آپ اس کی آواز کو دباتے ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ حکومت سیاست دانوں کی نہیں ہے، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے، وہی نظام چلا رہی ہے۔
اور جب آپ بات کریں گے تو وہ کہیں گے، تو ہمارے خلاف بول رہے ہیں، تو ہمارے خلاف بول رہے ہیں۔ ! ہم اس حکومت کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بات طے کرنی ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے یا ایک ادارے کی طاقت سے چلانا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو