یہ ایک کلاسک ویڈیو ہے۔💚🗿
فلسطین ایشو پر اتھارٹی سمجھے جانے والے یہودی پروفیسر نارمن فنکلسٹین نے ایک صیہونی خاتون کے مگرمچھ کے آنسوؤں کے باجود جھوٹے بیانیے کو کیسے ہینڈل کیا تھا ۔ دیکھیں اور موقف رکھنا سیکھیں۔
صیونی خاتون روتے ہوئے 🤡
آپ نے اپنی تقریر کے دوران یہودیوں کے خلاف متعدد نازی موازنے کیے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ یہ ان لوگوں کی شدید تذلیل ہے جنہوں نے واقعی نازی دور میں اذیتیں برداشت کیں۔
نارمن فنکلسٹین کا جواب🗿
مجھے اب اس طرح کے لوگوں کا کوئی احترام نہیں رہا۔ بالکل بھی نہیں۔ مجھے یہ “مگرمچھ کے آنسو” پسند نہیں، اور میں ان کا احترام بھی نہیں کرتا۔ (سامعین میں تالیاں اور احتجاجی آوازیں)
مجھے غیر ملکی سامعین کے سامنے “ہولوکاسٹ کارڈ” کھیلنا پسند نہیں، لیکن اس وقت میں خود کو مجبور محسوس کر رہا ہوں۔ میرے مرحوم والد آشوٹز میں تھے۔ میری مرحوم والدہ مجدانیک حراستی کیمپ میں تھیں۔ میرے خاندان کے دونوں طرف کے ہر فرد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ میری والدہ اور والد نے وارسا گھیٹو بغاوت میں حصہ لیا تھا۔
اور یہی وجہ ہے کہ میری والدہ اور والد نے مجھے اور میرے دو بہن بھائیوں کو جو سبق دیا، اس کی بنیاد پر میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جرائم پر خاموش نہیں رہوں گا۔ میں اس سے زیادہ قابلِ نفرت کچھ نہیں سمجھتا کہ ان کی تکلیف اور موت کو فلسطینیوں پر ہونے والے تشدد، بربریت اور گھروں کی مسماری کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے، جو اسرائیل روزانہ کرتا ہے!
اسی لیے میں اب ان آنسوؤں کے ذریعے خاموش یا خوفزدہ نہیں ہوں گا۔ اگر آپ کے پاس ذرا بھی ضمیر ہوتا، تو آپ یہاں فلسطینیوں کے لیے یہ آنسو بہا رہی ہوتی!
⸻
Dear Italy,
Your PM just defended Pope and lost an ally in Washington — the Commander in Grief, yet the most 'powerfool'man on earth.
We'd like to apply for the vacancy.
Our qualifications: 7,000 years of civilization, a shared love of poetry, architecture, and food that takes longer to prepare than Trump's attention span.
The only thing Iran and Italy have ever fought over is who invented ice cream. Faloodeh came first. Gelato came louder. We've been in a 'cold' war over this for 2,000 years.
احمد رضا رادان فرمانده انتظامی جمهوری اسلامی ایران در مقابل خانوادههای شهدای ایران، که در حمله آمریکا و اسرائیل شهید شدند. سجده شکر به جا آورد.
او میگوید: «من شرمنده و بدهکار خانوادهای شهدا هستم و میخواهم به رسم ادب و بندگی سر تعظیم به سمت آنها فرود بیارم ۱/۱