منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والا شبر عباس پانچ سال سے اٹلی میں اپنی فیملی سمیت رہ رہا تھا۔ یہ لوگ اٹلی کے دیہی قصبے نوویلارا میں کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے۔ شبر کی ایک 18 سالہ بیٹی ثمن عباس تھی۔ ٹک ٹاک کے ذریعے ثمن کی دوستی اٹلی ہی میں ایک اور پاکستانی لڑکے ثاقب ایوب کے ساتھ ہوگئی۔
ایک روز ثمن کے والدین کے پاس ثمن اور ثاقب کی ایک تصویر پہنچی، جس میں وہ دونوں ایک سڑک پر سرِعام بوس و کنار کر رہے تھے۔ اس تصویر سے ثمن کے والدین شدید طیش میں آگئے۔ مزید یہ کہ ثاقب کا تعلق ایک نچلی ذات سے تھا۔ والدین نے ثمن کا رشتہ پاکستان میں اس کے ایک اور کزن اکمل سے طے کر دیا، لیکن ثمن نے اس زبردستی کی شادی سے مکمل انکار کر دیا۔
ثمن پر جب مزید دباؤ بڑھا تو اس نے پولیس سے مدد مانگی کہ اسکے والدین اس کی زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نومبر 2020ء میں ثمن کو ایک شیلٹر ہوم میں منتقل کر دیا گیا تاکہ والدین اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ والدین اسے پیار محبت کے مختلف حیلے بہانوں سے بلاتے رہے، حتیٰ کہ اپریل 2021ء میں ثمن گھر آگئی۔
لیکن کچھ روز بعد جب ثمن سے ثاقب کا رابطہ نہ ہوسکا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس 5 مئی کو ثمن کے گھر پہنچی تو وہاں ثمن کا چچا دانش اور چھوٹا بھائی علی حیدر ملے، جنہوں نے متضاد بیانات دیے۔ اگلے دن گھر میں صرف کمسن علی ملا، جسے پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو گھر کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی 29 اپریل کی فوٹیج ملی، جس میں ثمن کے چچا، دو کزن اور والدین بیلچے، لوہے کے راڈ اور بالٹی لے کر جاتے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد واپس آتے دکھائی دیے۔ اگلی رات (30 اپریل) ثمن کو اس کے والدین کے ساتھ باہر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ کبھی زندہ نہیں دیکھی گئی۔
وقوعے کے بعد یہ تمام افراد اٹلی سے فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے اٹلی پولیس نے انٹرپول و دیگر ذرائع سے مدد لی۔ چنانچہ مئی 2021ء کے آخر میں کزن اکرام فرانس سے، چچا دانش ستمبر 2021ء میں فرانس ہی سے، کزن نعمان فروری 2022ء میں اسپین سے، والد شبر عباس نومبر 2022ء میں پاکستان سے گرفتار ہو کر اگست 2023ء میں اٹلی کے حوالے کیا گیا، جبکہ والدہ نازیہ تین سال تک مفرور رہی اور بالآخر 31 مئی 2024ء کو آزاد کشمیر کی سرحد کے قریب ایک گاؤں سے انٹرپول اور پاکستانی پولیس کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار ہوئی اور اگست 2024ء میں اٹلی لائی گئی۔ تفتیشی رپورٹ میں شبر عباس کو "جھگڑالو، جلد غصہ کرنے والا اور شراب کا عادی" شخص قرار دیا گیا۔
دورانِ تفتیش چچا دانش حسنین نے ایک امام مسجد کے سمجھانے پر ثمن کے قتل کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اسے 30 اپریل اور یکم مئی 2021ء کی درمیانی شب قتل کیا گیا۔ دانش کی نشاندہی پر ثمن کی لاش گھر کے قریب ایک ویران فارم ہاؤس سے ملی۔ پوسٹ مارٹم اور دانتوں کے تجزیے سے تصدیق ہوئی کہ اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا، جس سے گردن کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔
ملزمان کے خلاف 10 فروری 2023ء کو ٹرائل کا آغاز ہوا۔ استغاثہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج، مقتولہ کا ڈی این اے، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ثمن کے 16 سالہ چھوٹے بھائی علی حیدر کا بیان پیش کیا۔ بھائی نے گواہی دی کہ فیملی پر غیرت کا بہت دباؤ تھا، چچا اور کزن نے ہی ثمن کی قبر کھودی تھی۔ عدالت میں کسی ملزم نے اعترافِ جرم نہیں کیا، الٹا ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے۔ والد شبر نے عدالت میں روتے ہوئے بیان دیا کہ وہ بے گناہ ہے۔ وہ بیٹی کے پیچھے صرف یہ دیکھنے کیلئے گئے تھے کہ وہ کہاں گئی ہے، کیونکہ رات کا وقت تھا، دیر ہو چکی تھی۔ چچا اور کزن کے وکلاء نے سزا میں رعایت کی استدعا کی۔
ٹرائل کورٹ نے 19 دسمبر 2023ء کو فیصلہ سنایا، جس میں والدین کو قتل اور خاندانی رشتے کے تقدس کو پامال کرنے پر عمر قید، جبکہ چچا دانش کو قتل اور لاش چھپانے کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چھوٹے بھائی علی حیدر کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے دونوں کزنوں کو بری کر دیا۔ ٹرائل کورٹ فیصلے کے مطابق ثاقب نے ثمن کی گمشدگی کے اگلے ہی روز واٹس ایپ پر ایک اور لڑکی سے دوستی شروع کر دی تھی۔ (ثاقب ہرجانے کیلئے ثمن کیس میں بطور گواہ شریک ہوا، لیکن اس کے رویے اور غلط بیانی سامنے آنے پر اس کی ہرجانے کی استدعا مسترد کر دی گئی)
اس فیصلے کیخلاف دونوں فریق اپیل میں گئے۔ ایپلٹ کورٹ نے علی حیدر کے بیان کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے والدین کی عمر قید برقرار رکھی، چچا دانش کی سزا 14 سال سے بڑھا کر 22 سال کر دی (لاش کی نشان دہی پر کچھ رعایت دی گئی)، جبکہ بری ہونے والے دونوں کزنوں کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی۔
اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے سپریم کورٹ آف اٹلی میں اپیل دائر کی، جس کا فیصلہ کل 15 اپریل کو سنایا گیا۔
موضوع: پارک میں صفائی نہ ہونے اور عملے کی مسلسل غفلت کے متعلق شکایت
جنابِ عالی!
گزارش ہے کہ ہمارے علاقے کے پارک میں گزشتہ تین ہفتوں سے صفائی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ اس دوران نہ کوئی مالی آیا ہے اور نہ ہی کسی سپروائزر نے پارک کا معائنہ کیا ہے۔
@PhaLhr
فیکٹ فوکس کی تحقیقاتی صحافی قندیل عظیم کی سامنے لائی گئی ویڈیو شواہد پر مبنی تحقیق نے گزشتہ سال پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس ویڈیو میں لیہ کے رہائشی عمر لیاقت کو، جنہیں بلاسفیمی گینگ کی ہنی ٹریپنگ کوئین “ایمان” (اصل نام: کومل اسماعیل) نے اپنے جال میں پھنسایا تھا۔
قندیل عظیم نے ان ویڈیوز میں دکھایا کہ “ایمان” یعنی کومل اسماعیل لیہ کے گورنمنٹ ڈگری کالج کے باہر سفید رنگ کی سوزوکی کلٹس گاڑی میں آتی ہیں جہاں انکا شکار نوجوان لڑکا عمر لیاقت انکی گاڑی کی طرف آتا ہے۔ یہ گاڑی بلاسفیمی بزنس گروپ، جسے بلاسفیمی گینگ بھی کہا جاتا ہے، کے سربراہ ایڈووکیٹ راؤ عبد الرحیم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ جیسے ہی عمر لیاقت اس گاڑی میں سوار ہونے لگے، بلاسفیمی گینگ کے ارکان، جن میں شیراز فاروقی اور دیگر شامل تھے، انہیں زبردستی اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
اس تحقیق
https://t.co/wV3kg44BC8
نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی آنکھیں کھول دیں، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا۔ نتیجتاً ہنی ٹریپنگ کوئین کومل اسماعیل اور بلاسفیمی گینگ کے دیگر ارکان کو طلب کر لیا گیا۔
آج عمر لیاقت کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم “لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” کے نام سے سرگرم وہ جرائم پیشہ عناصر، جو ایک منظم گینگ کی صورت میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، اور بعض معاملات میں ان کو قتل کر دیتے ہیں جیسا کہ فیکٹ فوکس کی دیگر تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے، وہ سب آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ اب تک کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ انہیں گرفتار کرنے یا قانون کے کٹہرے میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
تحقیقاتی صحافت نے اپنی افادیت اور اثر انگیزی ثابت کر دی ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر ذمہ دار ریاستی ادارے اب بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ بااثر حلقوں کے بعض غیر اعلانیہ مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی انتہاپسند گروہوں کو برداشت کیا جا رہا ہے یا ان سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
جب آپکی پسندیدہ جماعت حکومت میں نہیں تھی تو تب آپ اور آپکے لیڈر بھی پاک فوج کیخلاف تقریریں ٹویٹس نعرے بازی کرتے تھے
مولانا اپوزیشن میں ہے تو وہ بھی کررہے ہیں
آج آپکی سرکار ہے تو آپ فوج کی تعریف کرتے ہیں ساتھ دیتے ہیں
کل جب آپکو نکالا جائے گا پھر آپ نے وہی بن جانا
کوئی ایمان نہیں
کیا مولانا فضل الرحمن کا بیٹا میجر عدنان شہید جتنی تنخواہ کی خاطر مادر وطن حفاظت کرتے ہوئے اپنے سینہ پر گولی کھائے گا ؟ جواب کا انتظار رہے گا
یہاں مورخ لکھے گا کہ اسد محمود میجر عدنان کی مونچھ کے وال برابر نہیں ہے
@mohsinsami85 محسن بھائی آپ خواہ مخواہ میں زور لگا رہے ہیں اگر مریم نواز اور نواز شریف ک واقعی لگتا ہے کہ مولانا نے پاک فوج کی گستاخی کی ہے تو پھر سی ایم پنجاب خود تھانے جا کر درخواست دے سکتی ہے اگر انکو لگتا ہے کہ مولانا ٹھیک فرما رہے تو پھر کیوں شور مچانا کس بات کا واویلا
اگر یہ وقوعہ واقعی سچ پر مبنی ہے تو پنجاب کی وزیر اعلی کو ان بچوں کے گھر جا کر کیمروں کے سامنے معافی مانگنی چاہئیے اور ذمہ داروں کو فوری سزا دینی ہوگی
اور اگر یہ واقعی جھوٹا ہے تو پھر اس یوٹیوبر اور بچے کو آپکی اپنی لاڈلی CCD کے حوالے کیا جائے
@AzmaBokhariPMLN@hinaparvezbutt
سنتا جا شرماتا جا ، مریم صفدر اور ان کی ٹیم نے معذور بچوں کو بھی چونا لگا دیا ، نارووال میں ثانیہ عاشق نے معذور بچوں کو ویل چیئرز اور اسکوٹیز دیں لیکن جیسے ہی پروگرام ختم ہوا اور بچوں نے باہر جانا چاہا تو انہیں روک لیا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ویل چیئر اور اسکوٹی واپس کرو پھر باہر جا سکتے ہو ۔۔
اگر یہ واقعی پاکستان کے کسی شہر کا ہے تو حکومت پاکستان فوری طور اس بچے کو ان درندوں سے ریسکیو کریں اور درندوں کو گرفتار کرنے سے پہلے اس بچے کے والدین کو گرفتار کرکے چھترپریڈ کریں ان والدین کو عبرت کا نشان بنائے جنہوں نے اپنے بچوں کو خونی زانی درندوں کے آگے پھینک دیا ہے
اسلام کو جتنا ان ملوٹوں نے بدنام کیا ہے، خدا کی پناہ۔ نام نہیں لینا چاہتا مگر یہ ویڈیو دیکھ کر مجبور ہوں کہ دیوبندیوں اور بریلویوں کے مدارس میں بچوں کو بھیجنے سے بہتر ہے اپنے ہاتھ سے زہر دے کر انہیں مار دیں۔
@NidaAhm16105291 ایسے حرامی مفتیوں نے بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہمارا
جواب یہ تھا کہ معاشرتی جرائم میں سب سے بڑا جرم بچی کا ریپ ہے
جبکہ اللہ کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ بڑا جرم پوجا ہے کسی بھی مورتی کی یا بدھ کی
یہ معاملے عقل سے فارغ ہے
بے غیرت بلاسفیمی کا بزنس چلانے والے گینگ کا فرنٹ مین قیصر احمد راجہ کی معصوم ماؤں اور بہنوں کو جنسی درندگی والی باتیں کر کے بلیک میل کرنے کی اور دھمکیاں دیتے ہوے یہ وڈیو دیکھیں
اس گینگ کے مولوی سر آم ماؤں کو زیادتی کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں
اللہ گرل کرے ان وخشی جنسی درندوں کو🔥
6 جولائی کو کھاریاں کینٹ کے اندر ملڑی ایریا میں 10 & 7 میں واقع شاپنگ سنٹر جہاں عام لوگ نہیں جاسکتے رات 3/45 پر ایک چور نے اے ٹی ایم مشین سے 98 لاکھ روپے چوری کر لئے۔ واردات 9 منٹ جاری رہی۔ کینٹ کے کیمرے بھی خراب نکلے
اے ٹی ایم مشین پر ڈبل لاک ہوتا ہے اس کے علاؤہ دو دفعہ پاسورڈ لگایا جاتا ہے۔
چور نے باآسانی وارادت کی سب سسٹم اوپن کیا۔ کوئی الارم نہیں بجا۔ کوڈ لگائے اور رفو چکر ہوگیا۔
ایسا ایسا ماہر چور ہے ہمارے پاس
@Ghazlani222 اگر آپ چشتی رسول اللہ کلمے کا دفاع کرنے والوں کیساتھ ہے رسالہ الامداد میں اشرف علی رسول اللہ والے خواب اور بیداری کے واقعے کا دفاع کرنے والوں کیساتھ ہو تو آپ گستاخ رسول ہو