اس دفعہ جو کام ہمارے پیارے محسن نقوی نے اسلام آباد کے ساتھ کر دیا ہے وہ آج تک نہیں ہوا۔وزیرداخلہ کے طور پر یہ کام رحمن ملک بھی کرتے رہے، چوہدری نثار، شیخ رشید اور رانا ثناء اللہ بھی کرتے رہے لیکن آپ تو اس کام کو next level تک لے گئے ہیں۔
اتنا بھی خوفزدہ اور دہشت زدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی کہ دس دن پہلے ہی پورے شہر کو قلعہ میں بدل دیا۔ کچھ تو خود پر اعتماد کرتے۔
لگتا ہے اس دفعہ پوری بندرگاہ کے کنٹنیرز نقوی صاحب بھاری کرائے پر اٹھا کر دس دن پہلے ہی لے آئے ہیں اور اب مستقبل میں امپورٹ ایکسپورٹ اسلام آباد سے ہوگی۔
وہ شہر جہاں ٹرک تک نہیں دیکھا جاتا تھا وہاں اب ہر ایک انچ پر کنٹنیر لا کھڑا کیا ہے۔ لگتا ہے چوبیس کلو میٹر کے شہر میں چوبیس سو کنٹنیرز لا کھڑے کیے ہیں۔ اب تو لگتا ہے اگلے پانچ دنوں میں ہر گھر، گلی اور نکڑ پر بھی ایک ایک کنٹنیر لگے گا۔ شاید کم ہی پڑ جائیں تو مزید کنٹنیرز ہی بیرون ملک سے امپورٹ کرنے پڑیں گے۔
نقوی صاحب یہ حفاظتی سے کم آپ کے panic اور paranoid مزاج کو ظاہر کررہا ہے۔ شہر کو نارمل رہنے دیں۔ آپ نے حفاظتی نظام کے نام پر شہر کی شکل اور حالت بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کو شہر کے انٹری پوائنٹس کو کور کرنا تھا آپ نے الٹا شہر اور شہریوں کو اندر سے ہی ان دیوہیکل کنٹینرز میں ہی قید کر دیا اور چابیاں جیب میں ڈال کر نکل گئے ہیں۔
ویڈیو/زاہد بلوچ
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@ICT_Police@RajakhurramNA48@PalwashaKhan18
سفارتی محاذ پر اسحاق ڈار کی بلیو/ریڈ پاسپورٹ رکھنے والے 50 ہزار سرکاری افسران، ارکان پارلیمنٹ،ان کے بیوی بچوں اور والدین تک کے لیے بہت بڑا کارنامہ۔
اب آپ کو پتہ چلا ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران پچیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے سبز پاسپورٹ لیکن اپنے لیے، بیوی، بچوں اور اب تو والدین کے لیے کیوں تاحیات بلیو/ریڈ پاسپورٹ لیتے ہیں تاکہ کہیں سے نہ لگیں وہ عام پاکستانی ہیں جنہیں سبز پاسپورٹ پر مفت انٹری دور کی بات ہے اب ویزے لینا تک مشکل ہوچکا ہے۔
یہ حکمران سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ سب بینفیٹس اور مراعات اپنے خاندان کے لیے لینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان پچاس ہزار بلیو/ریڈ پاسپورٹ ہولڈرز خوش قسمت پاکستانی سرونگ اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ان کی اولادوں، والدین کو بہت بہت مبارک ہو۔ ارکان اسمبلی کو بھی بہت مبارک ہو جو آج کل اپنے اور والدین کے لیے تاحیات (ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ) بلیو پاسپورٹ کے لیے کمیٹی اجلاسوں میں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ امید ہے ان کی بھی جلد سنی جائے گی جیسے سرکاری بابوز نے خود ہی اپنے لیے تاحیات یہ سہولت لے لی تھی۔ اندازہ کریں ان پچاس ہزار لوگوں کو سبز پاسپورٹ برا لگتا ہے۔ انہیں بیوی بچوں ماں باپ سمیت ہر ملک میں فری ویزہ انٹری چاہئے۔
@CMShehbaz@MIshaqDar50
مریم نواز صاحبہ/آئی جی پنجاب کے نام۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میری ٹیم کے اسلام آباد میں کولیگ شفیق لغاری کے ساتھ جو کچھ صادق آباد تھانہ راولپنڈی کے ایس ایچ او نے زیادتی اور ظلم کیا ہے اس پر آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کو برطرف کر کے اس کے خلاف پرچہ درج کیا جائے۔
آپ افسوس ناک تفصیلات سے بھرپور درخواست کو پڑھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم سب کولیگز تو ایک طرف لیکن جس ذہنی اذیت سے لغاری کی فیملی خصوصا اس کی بیوی، اکلوتی بیٹی اور چار بہنوں کو گزرنا پڑا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
شفیق لغاری نے باقاعدہ اپنا تعارف کرایا کہ وہ پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرتا ہے لیکن ایس ایچ او ملک قیصر نے اسے روڈ سے اٹھایا اور لے جا کر تھانے میں پھینک دیا جس کے بعد اگلے تیس گھنٹے تک ہم سب اس کو ڈھونڈتے رہے۔
سب تعارف کے باوجود ایس ایچ او نے اسے نہیں چھوڑا اور الٹا اسے تیس گھنٹے اذیت سے گزارا۔ ایس ایچ او نے کہا تم نے ہماری گاڑی کی ویڈیو بنائی ہے۔ جس پر لغاری نے کہا اس نے نہیں بنائی۔ اپنا موبائل فون دے کر کہا خود چیک کر لیں تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا کیونکہ اس نے کوئی ویڈیو نہیں بنائی تھی: جب اسے رات کو ساڑھے گیارہ بارہ بجے سڑک سے گردن دبوچ کر گاڑی میں پھینکا گیا وہ فون پر دوست سے بات کر رہا تھا جس کا ریکارڈ موجود ہے۔
ہزاروں خدشات ہمارے ذہنوں میں تھے جس میں ہسپتال ایمرجنسی، ریسکیو 1122 سے لے کر تھانوں تک ہم سب نے چیک کیے ۔
سارا دن ٹراما کا شکار لغاری کی بیوی اور بیٹی روتے دھوتے اسے ڈھونڈتے رہے۔
پریس کلب اسلام آباد کے صحافی تلاش کرتے رہے ۔شام کو اس کی بیوی اور بیٹی تھانے رپٹ درج کرانے گئے تو ظلم کی انتہا دیکھیں کہ وہی ایس ایچ او جس نے بیوی اور بیٹی سے گمشدگی کی درخواست لکھوائی اس نے ہی ساتھ والے کمرے میں لغاری کو قید کر رکھا تھا اور اس کے باوجود نہ ہی فیملی کو بتایا اور نہ ہی اسے رہا کیا گیا۔ لغاری کو اس وقت رہا کیا گیا جب میں نے ٹوئٹر پر اس کی گمشدگی کا ٹوئیٹ کیا اور ہائی کمانڈ سے مدد کی ریکوسٹ کی۔
اس سارے عرصے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسے ایجسیاں اٹھا کر لے گئی ہوں گی جبکہ اسے تھانے میں بند کر رکھا تھا۔ نہ کوئی پرچہ نہ کوئی الزام نہ دفعہ۔۔ تیس گھنٹے تک ناجائز حراست میں رکھا اور پوری فیملی کو ذہنی ٹارچر کیا گیا۔
اب حالت یہ ہے جب سے لغاری تیس گھنٹے صادق آباد کے ایس ایچ او ملک قیصر کی غیرقانونی حراست میں گزار کر آیا ہے وہ نارمل بات نہیں کر پاتا۔
اس کی اکلوتی بیٹی رات کو ڈر کےمارے چیخیں مار کر اٹھ بیٹھتی ہے۔ اس کی بیوی اور بیٹی لغاری کو اب گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے۔ وہ دونوں شدید ٹراما اور خوف کا شکار ہیں۔
آپ نے پولیس کی وردی میں واقعی ایسے انسان بھرتی کیے ہیں ؟ کوئی پولیس والا اتنا ظالم اور بے حس بھی ہوسکتا ہے کہ روتی پیٹی بیوی اوربیٹی کے ساتھ ایسا ظلم کرے کہ ساتھ والے کمرے میں قید کر کے ان سے خاوند اور باپ کی گمشدگی کی درخواست لکھوائے اور رہا پھر بھی نہ کرے اور نہ ہی انہیں بتائے کہ وہ ساتھ وہیں موجود ہے؟
لغاری کی بار بار درخواست کے باوجود ایک فون کال اس کی بیوی اور بیٹی کو نہ کرائی گئی تاکہ وہ انہیں اپنی خیریت سے آگاہ کر سکتا اور پورا خاندان اس خوفناک اذیت کا شکار نہ ہوتا .
آپ سے مطالبعہ کیا جاتا ہے فوری طور پر ایس ایچ او ملک قیصر کو برطرف کر کے مقدمہ درج کیا جائے۔ ایک خاندان جس اذیت سے گزرا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@OfficialDPRPP@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@SenatorMumtaz@AimalWali@RajakhurramNA48@AyazSadiq122@Rporwp
میرے پیارے محسن نقوی صاحب۔۔
یہ ہے وہ بدترین کارگردگی کا ایک چھوٹا سا نمونہ جو ہم سب کے لیکن آپ کے سب سے زیادہ پیارے محمد علی رندھاوا صاحب اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
یہ آج کی ویڈیو ہے اور حالت دیکھ لیں جو ایف سکس مرکز میں کافی بینز اور دیگر کیفے کی طرف جانے والے فٹ پاتھ کی ہے۔ یہ پوش ایریا ہے جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں۔اس فٹ پاتھ کو استمعال کرتے ہیں۔ یہاں روزانہ کروڑں کا ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے لیکن سروس ملاحظہ فرما لیں اپنے ادارے سی ڈی اے کی جس کے آپ باس ہیں۔ کئی لوگ بے دھیانی میں یہاں گر کر زخمی ہوچکے ہیں۔
اب ان فٹ پاتھ ٹائپ پر نہ پیسہ لگے گا نہ ترجیح ہوگی کیونکہ اس میں چند ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں تو افسران کو لگتا ہے ہماری چونچ کیسے گیلی ہوگی؟ وہ افسران چار پانچ ارب روپے سے کم منصوبے میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔
چونچ گیلی اس وقت ہوگی جب اتاترک ایونیو پر سڑک ون کرنے کے نام پر درختوں کی تباہی ہوگی کیونکہ بجٹ بڑا خرچ ہوگا۔
یہ ہے وہ دو سال کی کارگردگی اس افسر کی جسے آپ نے اب ڈی جی پاسپورٹ لگایا ہے۔ یہاں جو جتنی بری کارگردگی دکھاتا ہے وہی عہدے اور ترقیاں پاتا ہے۔۔ ان ایشوز کو فکس کرنے کی بجائے آپ ہر دفعہ درختوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
آپ سے بڑی توقعات تھیں۔ آپ کا بڑا نام تھا، آپ کی بڑی پروفیشنل رپیوٹیشن تھی لیکن افسوس آپ بھی حاکم بن کر اس رنگ میں رنگے گئے یا زکوٹا جنوں/بابوز نے آپ کو بھی اپنے رنگ میں ڈھال لیا۔ یہ ہے آپ کے سی ڈی اے کا باس بننے کے دو سال بعد کا شہر ۔۔ہوسکتا ہے بہت ساروں کو لگے کہ یہ بھلا کون سی بڑی بات ہے۔ لیکن شہر ان چھوٹی چھوٹی خرابیوں سے برباد ہوتے ہیں۔
@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@CDAthecapital@betterpakistan@DrMusadikMalik@DrTariqFazal@BilalAKayani@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@AyazSadiq122@SohailAshrafGor@RandhawaAli
ہماری ڈارلنگ آئی ایم ایف بھی بڑی سمجھدار ہے۔ اسے ان وزیروں کی فوج ظفر موج، سینکڑوں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں پانچ پانچ گنا اضافے، الاولنس اور مراعات میں میں ہوش ربا میں اضافہ ہو یا ہر ارکان کے لیے پچیس سے پچاس پچاس کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈ، لگژری گاڑیوں کی خریداری، ذاتی استمعال کے لیے اربوں کے جہاز، ہر روز بیرون ملک دورے ہوں، یار دوستوں یا قصیدہ گو مشیر وزیر بنانے پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ اسے ساٹھ ستر کی کابینہ پر بھی اعتراض نہیں،لطلیکن ہمیشہ اسے اعتراض ہوا اور بہت سخت ہوا تو غریبوں /کسانوں کے لیے سبسڈی یا کوئی رعایت دینے پر ہی ہوا۔
یہ حکمران بھی عوام کو بیلٹ ٹائٹ کرنے کا بھاشن دے کر ساتھ ہی اپنی بیلٹ ڈھیلی کر لیتے ہیں۔۔
مزے کی واردات سنیں۔حکومت پاکستان کے سینکڑوں محمکوں، وزارتوں,ڈویزن دیگر کا کھربوں روپیہ پرائیوٹ بنکوں میں ڈیپازٹ رکھا ہوا ہے۔حکومت ان بنکوں سے کمرشل قرضہ لے کر الٹا اربوں کا انہیں سود دیتی ہے۔اپنا پیسہ خود ہی سود پر قرض لیتی ہے۔اس میں لمبا کھیل ہے۔ان محکموں کے سربراہان/افسران کو اس کے بدلے یہ بنک بہت بڑی مراعات اور مال کھلاتے ہیں۔
سابق وزیرخزانہ سلیم مانڈوی والا کے اہم انکشافات
مکمل پروگرام لنک
👇
#pakistannews https://t.co/DRZ5CxYlgT via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1
میرے پیارے ثنو بھائی آپ کو وجہ کا بھی علم ہے کہ نگران وزیراعلی محسن نقوی صاحب نے زمان وٹو کو کیوں ہٹایا تھا؟
زمان وٹو واحد افسر تھا جن نے شوگر مافیا کو نتھ ڈالی تھی عوام اور کسان کے لیے۔ یہی خوبی جرم بن گئی جس پر اسے برطرف کیا گیا۔ کوئی مالی الزام نہ تھا۔ محسن نقوی صاحب شوگر مالکان کے دبائو میں تھے اور اسے ہٹایا۔
کسی اچھے افسر کو داد دیا کریں ورنہ کوئی افسر عوام اور کسانوں کے لیے کھڑا نہیں ہوگا۔ پہلے ہی اکثر بابوز بیکار ہوچکے ہیں اور اگر دو تین تھے جنہوں نے اس ملک اور کسانوں کے لیے اسٹینڈ لیا اور سزا بھگتی ان کو سراہیں نہ کہ ان کو ہم ذلیل کریں۔
میری کبھی وٹو صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دو تین دفعہ فون پر بات ہوئی شوگر سکینڈل پر جو وہ انکوائری کررہے تھے۔ اپنے ٹی وی شو میں لیا کہ کیسے شوگر ملز مالکان کا کیس صرف ایک جج برسوں سے اسٹے کررہا تھا اور اس کے آگے ہی کیس لگ رہے تھے۔ زرا یہ پڑھیں۔ کلپ بھی شئیر کروں گا ۔
@SanaullahDawn@MohsinnaqviC42
عزت ماب جناب محمد علی رندھاوا صاحب نے مجھے ٹوئٹر پر بلاک کر دیا۔ لگتا ہے سی ڈی اے چیرمین کی پوسٹ سے ہٹائے جانے کا غصہ وزیراعظم آفس اور وزیرداخلہ آفس کی بجائے مجھ مسکین پر اتار رہے ہیں۔ وہی پرانا محاورہ کہ گرا گدھے سے غصہ کمہار پر۔ 🤓
ویسے بلاک کرنے سے ہماری آواز نہیں دبے گی جیسے آپ نے باقی صحافیوں، اینکرز اور داخلہ کمیٹوں کے ارکان ایم این ایز سینٹرز اور ناقدین کی دبوچ لی تھی کہ ٹی وی چینلز اور مالکان کو شاہی حکم جاری ہوا تھا کہ اسلام آباد میں درختوں کی بربادی پر کوئی بات یا پروگرام یا ٹوئٹ نہیں کرنا ورنہ گبر سنگھ آ جائے گا۔
آپ لگتا ہے سخت خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ اربوں روپے کے اندھا دھند اخراجات کا سچ سننے سے ڈر گئے ہیں کہ جو آپ نے جولائی سے دسمبر 2025 چالیس ارب کے پلاٹس بیچے ان کی بات کوئی نہ کرے کہ وہ پیسہ کیسے اور کہاں خرچ ہوا۔
آپ کے دو سالہ دور پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کو سپیشل آڈٹ کرانا چاہئے کہ آپ اربوں کہاں اور کیسے خرچ ہوئے اور کون کون ٹھیکدار تھا، بار بار ٹھیکے کس کو ملے، کتنی بار ایک ہی منصوبے کی لاگت بڑھائی گئی اور ٹھیکداروں کی تعمیر کا کیا ناقص معیار تھا۔
آپ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں کوئی ذاتی بزنس نہیں چلاتے کہ آپ جواب دہ نہیں ۔ آپ عوام کے ملازم ہیں۔ کوئی پرائیوٹ فرم کے سربراہ نہیں تھے کہ سے کوئی سوال نہیں پوچھ سکتے یا ناقص کارگردگی کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکتا خصوصا جو آپ نے اس شہر کے ساتھ حشر کیا ہے۔
آپ کے آنے سے پہلے یہ شہر ہرا بھرا تھا آپ نے کلہاڑا اٹھا کر ایک ہی ہلے میں ہزاروں درخت کاٹ ڈالے۔ اچھے خاصے شہر کو گند اور گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔ ہزاروں درخت کاٹ ڈالے، جنگلات کا قتل عام کیا۔ سبزے تباہ کیے، شہر میں ناقص قسم کے اربوں روپوں کی لاگت سے اوورفلائی بنائے جو پہلی بارش پر جواب دے گئے۔ فٹ پاتھ ٹوٹے پھوٹے، مارکیٹس گندگی سے بھر گئیں۔ ماحول سارا خراب ہوا ۔
آپ سول سرونٹس ہیں۔ اس عوام کو جواب دہ ہیں جن کا اربوں روپیہ آپ نے یہاں دو سال میں خرچ کیا ہے۔
تسلی رکھیں آپ کے کارناموں کی تفصیلات سامنے لاتے رہیں گے۔۔😎
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@BilalAKayani@sharmilafaruqi@ShaziaAttaMarri@PalwashaKhan18@MIshaqDar50@CDAthecapital@SohailAshrafGor@sherryrehman@DrMusadikMalik@betterpakistan@JunaidAkbarMNA@NadeemAfzalChan@NOORALAMKHAN@HinaRKhar@afnanullahkh@scorpio_khan@naveedqamarmna
اگر آپ سب کا خیال تھا چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا چالیس پچاس ہزار درختوں، ہرے بھرے جنگل کاٹ ڈالنے اور پارکوں میں سبزے کی بربادی کے بعد اپنا ہتھوڑا کندھے سے اتار کر رکھ کر کچھ دن سانس لیں گے تو آپ سب غلط تھے۔
کلہاڑا دوبارہ اٹھا لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں درختوں کی بربادی کی وجہ سے اس دفعہ گرمیاں فروری میں ہی شروع ہوگئیں اور اب ایک ادھ دن بارش کے بعد پھر موسم گرم ہورہا ہے جو کبھی جون میں شروع ہوتا تھا۔
جو سی ڈی اے کے خوشامدی کہتے تھے کہ الرجی کی وجہ سے شتہوت کے درخت کٹ رہے ہیں وہ زرا دیکھ لیں یہاں کیا کٹ رہا ہے۔ اب بیٹھے بٹھائے پھر جنون چڑھ گیا کہ ڈی چوک سے ایوب چوک تک سڑک ڈبل کرنی ہے اور پرانے درخت کاٹنے ہیں۔
پورا شہر گند اور گندگی سے بھرا ہوا ہے وہ ترجیح نہیں ہے چیرمین کی۔
حیران ہوں اکسفورڈ اسٹریٹ لندن میں تنگ روڈ کو کسی نے کھلا کرنے کا نہ سوچا جہاں بسیں گاڑیاں رینگ رینگ کر چلتی ہیں، من ہنٹن نیویارک میں گاڑیاں رینگتی ہیں وہاں بھی کسی نے بلڈوزر نہیں چلایا۔
صرف یہ وہم رندھاوا صاحب کو ہی کیوں ہے کہ شہر کے اندر موٹر ویز بنیں تاکہ لوگ سو دو سو فی کلو میٹر کی رفتار سے چلیں۔۔ آپ یہاں پورے خوبصورت پارک اور گرینری کو تباہ کررہے ہیں۔ درختوں کو کہاں کیسے شفٹ کیا جارہا ہے ۔
آخر ہمارے بے شعور بابوز اتنے فارغ العقل کیوں ہیں۔ رندھاوا صاحب کو درخت، جنگل اور سبزے خوبصورتی سے ایسی الرجی یا پرانی خاندانی دشمنی ہے؟
کوئی ماہر نفسیات روشنی ڈال سکتا ہے کہ یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے کہ جہاں درخت سبزہ جنگل دیکھو کلہاڑا لے کر چڑھ دوڑو؟
@CMShehbaz@PakEPAIslamabad@betterpakistan@CDAthecapital@RandhawaAli@sherryrehman@DrMusadikMalik@PalwashaKhan18@ShaziaAttaMarri@HinaRKhar@sharmilafaruqi@MohsinnaqviC42@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif@AyazSadiq122
خواجہ آصف نے ارشاد فرمایا تھا کہ پاکستانی بیوروکریٹ پرتگال جائیدادیں خرید رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فرمایا تھا کہ ترقیاتی کاموں میں تیس فیصد کمشن کھایا جاتا ہے۔
سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا فرمان تھا کہ ایک سال پہلے ارکان اسمبلی کو 570 ارب کا ترقیاتی فنڈ دیا گیا تھا۔
اب زرا ان خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے فرمودات کو ملا کر پڑھیں اور نتیجہ اخد کریں۔
570 ارب روپے اور تیس فیصد کمشن کا حساب کتاب کریں تو 160/170 ارب روپے بنتا ہے جو آپ کے خیال میں کسی کی جیب میں جارہا ہے۔۔ یہی ہمارے کیوٹ پیارے زکوٹے جن، بابوز اور ارکان بانٹ رہے ہیں(شاید دو چار ایماندار بھی ہوں۔۔ شاید )
اب آپ کو سمجھ آئی کہ بابوز اور سیاسی حکمران کیوں لوکل باڈیز کو ناکام بناتے آئے ہیں کیونکہ چونچ گیلی کر کے جائیدادیں بیرونی ملک بنانی ہیں۔
بڑے بڑے سیاستدانوں اور بڑے زکوٹا جنوں کا گٹھ جوڑ بڑا پرانا ہے۔ اکھاڑ پچھاڑ ہوگی تو ہی پرتگال اسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا بارسلونا جائیددایں بنیں گی۔ 🤓😎
آپ لوگ درخت کو توڑنے کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کو رو رہے ہیں۔ یہ ڈاکٹر خان بونیری امریکہ میں مقیم ہیں۔شاید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر ہیں۔ اپنی پروفائل پر پی ایچ ڈی کرنے کا بھی دعوی بھی رکھتے ہیں۔ان کے شعور اور کا یہ لیول ہے تو ان معصوم نوجوانوں سے گلہ نہیں بنتا۔
اگر امریکہ اور ڈاکٹریٹ مل کر بھی اس بندے کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو باقیوں کو کیا دوش دیں ۔ زرا ان کا کمنٹ ملاحظہ فرمائیں۔۔
بہت سارے لوگ اس ویڈیو پر نیچے کمنٹ کر رہے ہیں کہ ان بے چاروں کو شعور اور تعلیم نہیں کہ درخت توڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر خان بونیری کے پاس تو ماشاء اللہ بہت اعلی تعلیم بھی ہے ڈاکٹریٹ بھی ہے اور رہتے بھی بہت بڑے ایڈوانس
ملک میں ہے لیکن انہیں تو یہ سب توڑ پھوڑ ہنگامہ سب کچھ نارمل لگ رہا ہے۔ کیا فرماتے ہیں اب حضرات جو شعور اور تعلیم کی کمی کو رو رہے ہیں۔ 😆😎😝
The Great Escape
آپ نے انسانوں کی قید اور اغوا سے فرار کی سینکڑوں کہانیاں پڑھی ہوں گی یا فلمیں دیکھی ہوں گی۔ لیکن چین میں کچھ دن پہلے سات پالتو کتوں کی اپنےاغوا کے بعد چلتے ٹرک سے اتر کر سترہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر واپس مالک تک گھر پہنچنے کا ویڈیو کلپ اس وقت سوشل میڈیا پر ریکارڈ بریک کررہی ہے۔
ہالی ووڈ کی تاریخ میں قید سے فرار کی کئی شاہکار فلمیں بنائی گئی ہیں۔ کئی ناول لکھے گئے جس میں سب سے خوبصورت فرانسیسی ناول
The Count Of Monti Cristo
جو الیگزنڈر ڈوما نے لکھا تھا اور جس پر فلمیں بھی بنتی رہی ہیں کہ کیسے ایک ایک دوست نے دوسرے کو دھوکے سے نپولین کے فرانس میں قید کرادیا تھا تاکہ اس کی خوبصورت منگیتر کو چرا سکے۔ خیر وہ کس طرح سمندری جزیرے کے قید خانے سے فرار ہوا وہ الگ کہانی ہے۔
مجھے یاد ہے لندن میں 2007 میں یہ ناول Ilford ایکسچینج کے قریب واٹر اسٹون سے خریدا تھا تو وہاں موجود سیلز پرسن ایک بوڑھی گوری اتنی خوش ہوئی کہ مجھے کہا
Oh Darling. Its my all times favorite.
I will give you 10pc discount.
اس طرح مشہور زمانہ پیپلن کا فرار (Papillon) بھی بڑا ناول ہے۔
خیر چین میں کسی چور نے ایک بندے کے گھر سے اس کے سات پالتو کتے چوری کیے جو وہ اس قصبے سے دور اس دکان کو بیچنے جارہا تھا جو Dog meat میں بزنس کرتی ہے۔ ان ڈاگ میں جرمن شیفرڈ اور دیگر اہم نسلوں کے ڈاگ تھے۔
چین میں کتوں کو چوری کرنے کی سزا قید یا جرمانہ ہے جو کتے کی مالیت اور اہمیت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
راستے میں کہیں ٹرک رکا یا چلتے ٹرک سے وہ ساتوں ڈاگ چوری سے اترے اور بھاگ گئے۔ یہ ساتوں ڈاگ جو اپنے گائوں میں اکھٹے ہی پھرتے رہتے تھے انہوں نے اب اس مشکل میں حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک دوسرے کو تسلی دی۔ ان سب نے اپنا گروپ بنایا اور واپس چل پڑے۔
ایک دوسرے کا خیال کرتے کہ کہیں کوئی پیچھے تو نہیں رہ گیا تو کہیں رک جاتے۔ جرمن شفیرڈ زخمی تھا تو اس ان ڈاگز نے درمیان میں رکھا تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے۔
سڑک پر کسی نے ان سات کتوں کو اس ترتیب اور الرٹ ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے دیکھا تو اس نے ویڈیو بنا کر کلپ سوشل میڈیا پر ڈال دیا جو وائرل ہوگیا۔
کچھ لوگوں نے ان ڈاگز کی مدد کی کوشش کی تو انکار کر کے چلتے گئے۔ کھیتوں تک سے گزرے اور آخر گھر تک پہنچے۔
جب یہ وڈیو وائرل ہوئی تو اکثر کا خیال تھا یہ جھوٹی کہانی ہے۔ اب باقاعدہ کنفرم کیا گیا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے اور وہاں چین کے اخبارات میں اس خبر کا لنک بھی شئیر کیا گیا ہے۔
کچھ کہنا ہے اس گریٹ اسکیپ پر فلم بننی چاہیے کہ کیسے ان ڈاگز نے ذہانت سے کام لیا، ٹرک سے فرار ہوئے، فارمیشن بنا کر سترہ کلو میٹر کا سفر طے کیا، راستے میں کسی کی مدد نہیں لی کہ پھر اغوا نہ ہو جائیں اور اپنے زخمی جرمن شیفرڈ کامریڈ کا بھی خیال رکھا اور مالک تک دوبارہ پہنچے۔۔
اس کہانی کا اخلاقی سبق ایک ہے جو مشکل ترین حالات میں نروس سسٹم کو برقرار رکھ کر اپنا حوصلہ نہیں چھوڑتے وہی منزل تک پہنچتے ہیں۔
تحریر/رئوف کلاسرا
خاتون کو موٹر سائیکل چلاتے دیکھا تو تھوڑی حیرت ہوئی کہ اس شہر میں پہلے کبھی کسی عورت کو موٹر سائیکل یا سائیکل چلاتے نہیں دیکھا تھا تجسس میں روک کر پوچھا تو مسکراتے چہرے کے ساتھ عاصمہ نے نائیک روک لی میں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس تھوڑا وقت ہے تو کچھ موٹر سائیکل چلانے کے بارے میں پوچھ سکتا تو عاصمہ نے بتایا کہ جب تیرہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی تو اس کے خاوند اڑتالیس سال کے تھے شادی کے چار سال میں دو بچے ہو گئے حالات اچھے نہیں تھے گھر سے نکل کر کام شروع کیا تاکہ کچھ کما سکوں تو خاوند نے مردوں سے تعلقات کا الزام لگا کر طلاق دے دی میں اپنے بچوں کو لیکر کراے کے مکان میں شفٹ ہو گئی کیوں کہ اپنے ماں باپ مجھے جب سے میری اتنی بڑی عمر کے مرد سے شادی کی تو اچھے نہیں لگتے میں نے فیصلہ کیا کہ مر جاؤں گی والدین کے گھر نہیں جاؤں گی پھر میں نے مستریوں کے ساتھ مزدوری شروع کر دی اور سائیکل چلانی سیکھی پہلے سائیکل خریدی اور پھر اب دس ہزار جمع کر کے یہ موٹر سائیکل لی ہے جس پر میں مزدوری پر جاتی ہوں اور اپنے بچوں کو سکول چھوڑ کر آتی ہوں بڑا بیٹا اب چھٹی کلاس میں ہے اور چھوٹی بیٹی چوتھی کلاس میں ہے وہ بہت خوش ہوتے ہیں جب میں ان کو موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتی ہوں اور کبھی کبھی گھمانے کے لئے لے جاتی ہوں۔
عاصمہ نے بتایا کہ جب میں مزدوری میں اینٹیں اٹھاتی ہوں یا نیچے سے چھت پر پہنچاتی ہوں تو ساتھ کام کرنے والے مرد بھی حیران ہو جاتے ہیں کہتی مجھے بہت سی باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ لڑکی ہو کر موٹر سائیکل چلاتی مگر میں اپنے بچوں کے لئے سب کچھ برداشت کرتے ہوں، کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔
ایک دفعہ میرے بیٹے کے جوتے ٹوٹے ہوے تھے ایک استاد نے اس کو نئے جوتے لے کر دئے جب وہ گھر لے کر آیا تو میں اگلے دن وہ جوتے واپس کر کے آئی کہ اگر مانگنا ہی ہوتا تو میں اتنی محنت کیوں کرتی۔ عاصمہ اس طرح مسکرا کر باتیں کر رہی تھی اور میں محو حیرت تھا کہ ایک لڑکی اتنی بہادر کیسے ہوسکتی۔
پہاڑ جیسا حوصلہ اور صبر ہے اس خاتوں میں اور سب مشکلوں کے باوجود راضی بالرضا بھی ہے اور مسکرا بھی رہی ہے۔ عاصمہ کہتی مجھے اپنے خاوند سے بھی زیادہ اپنے والدین پر افسوس ہے جنھوں نے اتنی چھوٹی سی عمر میں میری شادی کر دی اور خاوند نے تہمت لگا کر چھوڑ دیا۔
عاصمہ ہماری بہادر بیٹی ہے
کشور ناہید صاحبہ میری پسندیدہ لکھاری ہیں۔ ہمارے پیارے ملتانی ڈاکٹر انوار احمد صاحب کی وجہ سے بھی انہیں زیادہ پسند کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ ان کے بارے لکھا اور اچھا لکھا۔ ان کی اپنی کتابیں بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں یا ان پر احمد بشیر صاحب کا لکھا گیا خاکہ۔
کشور ناہید صاحبہ ہمارے معاشرے میں ایک روشن خیال اور مزاحمت کا نشان ہیں اور ان کے لیے خاصی دل میں عزت ہے۔
لیکن آج کے جنگ اخبار میں ان کا کالم پڑھتے ہوئے چونک گیا جس میں انہوں نے سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کے بیان کا جاری اسرائیل ایران امریکہ جنگ پر حوالہ دیا ہے۔ کولن پاول کا انتقال 2021 میں ہوچکا ہے۔
شاید ان سے غلطی سے نام لکھا گیا ہوگا۔
لیکن میرا سوال جنگ کے ادارتی بورڈ سے ہے۔۔ انہیں بھی نہیں پتہ کہ کولن پاول کو اس دینا سے رخصت ہوئے بھی پانچ برس گزر چکے ہیں۔
کیا جنگ کے وہاں کوئی سسٹم نہیں ہے چیک کرنے کا کہ رائٹر جو لکھ کر بھیج دے وہاں کسی نے کوئی چیز نئیں دیکھنی۔
سہیل وڑائچ ہمارے بڑے مہربان اور دوست ہیں۔ بہت پڑھے لکھے انسان اور لکھاری ہیں۔ دنیا بھر کی خبریں رکھتے ہیں۔
انہیں اپنی ادارتی ٹیم کو زرا ایکٹو رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ خود کو اپ ڈیٹ رکھیں ورنہ قاری کو جھٹکا لگے گا جیسا مجھے لگا ہے۔
@suhailswarraich
1993 میں روسی ٹریکٹر بیلارس پاکستانی مارکیٹ میں ساڑھے چار لاکھ روپے کا فروخت ہو رہا تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سنٹرل ایشیائی ممالک سے پاکستان کی تجارت بڑھانے پر فوکس کر رہی تھیں۔ انہوں نے بائیلورشیا کا دورہ کیا ۔ بائیلو رشیا اپنے ٹریکٹر ماضی میں سوویت یونین کے ذریعے بیچا کرتا تھا ۔ آزادی کے بعد بائیلو رشیا کی حکومت کو اپنے ٹریکٹر کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے ساتھ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے میں ٹریکٹر خریدنے کا معاہدہ کیا ۔ اور دو کمپنیوں بیلارس ۔ ارسس سے 40 ہزار ٹریکٹر خریدنے کا معاہدہ کیا۔ یہ ٹریکٹر ڈیڑھ لاکھ روپے میں کسانوں کو دیئے گئے اور پاکستانی مارکیٹ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت ٹوٹنے سے اگلے روز یہ ٹریکٹر ساڑھے چھ لاکھ روپے کا بک رہا تھا ۔ تصور کیجئے 17 سال تک ان ٹریکٹروں کی خرید میں مبینہ کک بیک لینے کا مقدمہ چلایا گیا ۔ کسی نے آج تک یہ نہیں پوچھا کہ اگر ڈیڑھ لاکھ روپے میں کک بیکس موجود تھے تو پہلے ساڑھے چار لاکھ روپے اور بعد میں ساڑھے چھ لاکھ روپے میں بیچنے والوں کا کک بیک اور کمیشن کس قدر تھا ۔ ایسے مبینہ جھوٹے ۔ فرضی ۔ تصوراتی مقدمات پر 50 سال تک زرداری کرپٹ اور مقدمات کا پروپیگنڈا ریاست اور ریاست کی ناجائز اولاد کرتی رہی تھی۔ آج بھی ڈائیلاگ شروع ہوتے ہی پھدو کھاتے عمران خان ۔ نواز شریف اور زرداری کے مقدمات ایک جیسے منوانے کا پھدو کھاتہ چلایا جاتا ہے۔
تحریر شرافت رانا
@SystemExpertPk