سندھ کے ایک 19 گریڈ کے طاقتور افسر کی کرپشن کی کہانی
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔جاری ہے 👇
آواز بلند ٿي رهيا آهن، بينر کڄي رهيا آهن، پر سوال اڃا به ساڳيو آهي: سعيد ميمڻ ڪٿي آهي؟ ذميوار ڌرين کي گهرجي ته معاملي تي سنجيدگي سان قدم کڻي خاندان جي بيچيني ختم ڪئي وڃي!
#RecoverSaeedMemon
حيدرآباد پريس ڪلب آڏو سول سوسائٽي، سياسي ۽ سماجي تنظيمن جو هڪ ئي مطالبو آهي: سعيد ميمڻ کي بازياب ڪيو وڃي. ڪنهن به شهري جي گمشدگي رڳو هڪ فرد جو مسئلو ناهي، پر سڄي سماج لاءِ ڳڻتي جو سبب آهي. #RecoverSaeedMemon
حيدرآباد پريس ڪلب آڏو سول سوسائٽي، سياسي ۽ سماجي تنظيمن جو هڪ ئي مطالبو آهي: سعيد ميمڻ کي بازياب ڪيو وڃي. ڪنهن به شهري جي گمشدگي رڳو هڪ فرد جو مسئلو ناهي، پر سڄي سماج لاءِ ڳڻتي جو سبب آهي. #RecoverSaeedMemon
پاکستان ریلویز کا 97 فیصد بجٹ پنجاب میں خرچ ہو گا اور اس میں سے 72 فیصد صرف لاہور میں خرچ ہو گا لاہور میں 72 فیصد بجٹ سمجھ سے باہر ہے یہ پاکستان ریلویز ہے لاہور میں گول گول نہیں گھومتی ! تیمور سلیم جھگڑا ۔۔
Doctors in Pakistan are suffering tremendously. Rising inflation, low salaries, huge patient loads are all taking a toll on hard working professionals. Our HIV awareness work attacks the system that keeps both doctor and patient in desperate positions.
The US president cannot get a deal that suits his or the Zionists' wishes.
The US has failed miserably in subduing or intimidating Iran. Anti-government elements within Iran have not been used.
Neighbouring Muslim countries have not become tools of colonialism. Arab countries are not ready to bear the cost of war and attack Iran. The nations of the world, especially NATO allies, are also openly opposed to attacking Iran.
The silent but strategic support of China and Russia for Iran has been effective.
The big predator is getting caught in the trap it has set.
The recklessness of US rulers is costing the world and the American people dearly.
BIG BREAKING: A FINAL AGREEMENT BETWEEN THE U.S. AND IRAN HAS BEEN REACHED. OIL COLLAPSES BELOW $96/barrel
SOURCES EXPECT IT TO BE ANNOUNCED WITHIN THE NEXT FEW HOURS
Key provisions include:
1) An immediate, comprehensive, and unconditional ceasefire on all fronts (land, sea, air)
2) Mutual commitment not to target military, civilian, or economic infrastructure
3) Cessation of military operations and instigating media warfare
4) Respect for sovereignty, territorial integrity, and non-interference in internal affairs
5) Guaranteed freedom of navigation in the Gulf, Strait of Hormuz, and Sea of Oman
6) Establishment of a joint monitoring and dispute resolution mechanism
7) Launch of negotiations on outstanding issues within seven days
8) Gradual lifting of U.S. sanctions in exchange for Iran's adherence to the terms
9) Affirmation of compliance with international law and the UN Charter
🚨بریکنگ
رپورٹس کے مطابق Saudi Arabia نے امریکا سے کہا ہے کہ Hajj کے دوران ایران کے خلاف کسی نئی بڑی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ لاکھوں حجاج سعودی عرب میں موجود ہوں گے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
BREAKING: A drone strike has caused a fire at an electrical generator at the Barakah Nuclear Power Plant in UAE’s al-Dhafra region.
🔴 LIVE updates: https://t.co/i6sPnvyI5Z
انقلاب فرانس سے پہلے بھی ایسے ہی صورتحال تھی اور بادشاہ لوئی شانز کے کارندے گھروں اور دکانوں میں گھس کر اس طرح لوگوں کی تذلیل کرتے اور ٹیکس کے نام پر سب کچھ چھین کر لے جاتے تھے
یہ تو بلکل Bollywood فلم کا سین لگ رہا ہے جیسے ڈاکو کسی دوکان میں داخل ہو کر بدمعاشی کریں
یہ کہاں سے FIA کا عملہ ہے؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا یہ طریقہ ہے؟
ہر پاکستانی کو چاہئے کہ آئین پر چلے اور بدمعاشی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ کسی بدمعاش کے آگے نہ جھکے