میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی کہ چین ہمارا سب سے اچھا دوست ہے جو بھارت میں ایک چارج میں 500 کلو میٹر چلنے والی EV پندرہ لاکھ میں دے رہا ہے جبکہ پاکستان میں ایسی ہی گاڑیاں کروڑ سے اوپر میں دے رہا ہے اگر کرنسی ریٹ بھی نکالیں تو یہ پچاس لاکھ سے اوپر نہیں ہونی چاہیے 🤔
تصویر میں ڈنمارک 🇩🇰 کی وزیراعظم دفتر میں بیٹھی ہے۔۔۔ ڈنمارک کی کل آبادی صرف 60 لاکھ ہے اور ان کے پاس 2،260 ارب ڈالرز کی بڑی دولت موجود ہے۔
وہ عوام کے پیسے سے عیاشی نہیں کرسکتے، دوپہر کا کھانا بھی اپنے گھر سے بنوا کر لانا پڑتا ہے اور بطور وزیراعظم ایک ملازم کی طرح کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ان کی جاب ہے اور اسی کی انہیں تنخواہ ملے گی۔۔
👈🏻 تصویر کی دوسری سائیڈ پر پاکستان 🇵🇰 کے صوبہ پنجاب کے ایک محکمے کے تحصیل یا ضلعی لیول صاحبان کے دفاتر کی ہے، ان جیسے دفاتر ملک بھر تحصیل کی سطح پر 30 سے 40 محکموں کے ہزاروں کی تعداد میں ہیں جہاں پر یہ چھوٹے چھوٹے شہنشاہان معظم لاکھوں ماتحت عملی فرعونوں کیساتھ بیٹھتے ہیں۔ وفاقی محکمے اور عظیم فوج کے افسران شامل نہیں۔۔
ایک ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا افسر بھی پروٹوکول اور محافظوں کے حصار میں دفتر جاتے ہیں، اگر اس لیول پر بھی وہ اپنی ذات کو محفوظ نہیں کر پاتے تو اس ضلع کے عوام کو خاک تحفظ دیں گے۔۔
جبکہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے، اس پر ایک لاکھ ارب روپیہ قرض چڑھ چکا ہے جو اس کے تقریبا 5 بجٹ کے برابر ہے۔
جو قومیں باشعور ہیں اور ترقی کرنا چاہتی ہوں انہیں اپنی ترجیحات بدلنا پڑتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے مسائل اس وقت تک حل ہو ہی نہیں سکتے ہیں جب تک اس افسرشاہی، سامراجی اور شہنشاہی والے سسٹم کو چھوڑ نہ دیں۔۔۔ عالیشان دفاتر، بنگلے، گاڑیاں، نوکروں کی فوج ظفر موج اور پھر ان کو پالنے کے لیے قرضے؟
ایسے زیادہ دیر نہی چل سکتے کیسے چلے گا پاکستان، آئیندہ نسلوں کیلئے کیا ماحول بنا رہے ہیں؟؟؟
یہ ھے ملک کی ترقی میں رکاوٹ۔ غریب عوام کی کھال اتار کر عیاشی کرنے والے۔ گاڑیوں کے نمبر بھی صاف نظر آ رھے ھیں لیکن مجال ھے کوئ جج، وزیر اعلٰی یا وزیر اعظم ایکشن لے۔ لیکن بجلی 200 سے 201 یونٹ ھو جائے تو سارا نظام حرکت میں آ جائے گا۔
ہماری محترم المقام عدالتیں ۔۔ جو ضمانت نہیں دے رہیں وہ اس پر کیا سوچ رہی ہوں گی کہ ضمانت کا رستہ یہ ہے
ویسے جتنی بے توقیر عدلیہ ہوئی ہے یہ بھی اپنی طور پر ریکارڈ ہے
ان لوگوں کو کسی قسم کا کمپلیکس نہیں ہے۔ یہاں غلامانہ سوچ مار گئی اوپر سے نیچے تک۔
اوپر سے کرپٹ، بے حس لیڈرز۔
ان سے کیا توقع یہ نظام تبدیل۔کریں۔ یہ اس غلیظ نظام کے سب سے بڑے بینیفیشری ہیں۔
جو اس ملک کا نظام تبدیل کرے گا وہ اصل لیڈر ہوگا
کمشنر اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد E/11 آئے تو پتہ چلا کہ نالے کے کنارے جو چار پانچ دکانیں ہیں وہ گرائی جائیں گی اسی دوران پتہ چلا کہ نالے کے پانی نے جہاں سے نکلنا تھا وہاں سینیٹر دلاور خان کا ریسٹ ہاؤس ہے جس کی ایک دیوار اور کیبن پانی کے رستے میں رکاوٹ تھا لیکن اسی دوران اے سی شالیمار کو پیغام ملا کہ کیبن ہم خود گرائیں گے غریبوں کی دکانیں تو گرا دی گئیں لیکن طاقتور کا کیبن نہ گرایا جا سکا ! ریاض الحق ۔۔
یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اس لیے سب کو ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے اپوزیشن پارٹیاں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس میں ہمارا ساتھ دیں
@GovtofPakistan
Mulk Geer Hartal
Hartal To Hogi
Bhatta Levy NaManzoor
#تین_ستمبرہڑتال_توہوگی
دنیا کے طاقتور ترین ملک کی سفیر کرائے کی گاڑی اوبر کریم پر سفر کر کے میٹنگ کے لیے پہنچتی ہے لیکن تیسری دنیا کے ملک کے وزیر کے لئے کروڑوں مالیت کی گاڑیاں لائن میں لگی ہیں، دروازے کھولنے کے لیے ملازم الگ۔ یہی رویے قوموں میں ہر شعبے میں فرق بتا دیتے ہیں
مطلب ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ منیب فاروق کے ذریعے یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اتنی بڑی بات نہیں عمران خان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے بس وہ اتنا کر دے کہ نئے صوبوں پر تعاون کی حامی بھر لے تو اس کے کیسز دھویں کی طرح اڑ جائیں، معذرت کیساتھ بادی النظر میں یہ عدالتوں اور نظام انصاف کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے
پیٹرول 2 روپے 29 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 11 پیسے فی لیٹر مہنگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم صاحب خدا کی قسم آب لوگوں میں سکت نہیں رہی۔ خدارا عوام پر رحم کریں۔ اب تو غریب عوام میں خون بھی نہیں بچا جو نکالا جائے۔ اب تو سرنجیں نکال کر ہی خون نکالنا باقی ھے۔
The British High Commissioner to Pakistan comes in a cab at the dinner in London while our unelected rulers come in the most expensive cars at the same event. UK is a first world rich country- Pakistan a poor 3rd world country. Still.
وہ ملک جس پر ایک لاکھ ہزار ارب کا قرضہ ہے، اس ملک کے صدر آسٹریا سے لندن پہنچ گئے ہیں، ملک کے وزیر داخلہ، وزیر قانون بھی لندن میں موجود ہیں، چند دن پہلے ملک کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم بھی لندن میں موجود تھے۔ دنیا میں کہاں حکمرانوں کے پاس اتنے غیر ملکی دوروں کا ٹائم ہوتا ہے۔
دنیا کے کسی ملک میں یہ ڈرامے بازی نہیں ہوتی کہ ایک انٹیریر منسٹر ائیر پورٹ پر کھڑا ہو کر لوگوں کے پاسپورٹ چیک کر رہا ہے ان کی ٹریولنگ ہسٹری ان سے پوچھ رہا ہے ۔ اس کو کس قانون نے یہ حق دیا ہے کہ وہ لوگوں کے پرسنل ڈاکومنٹ دیکھ رہا ہے ۔ پرسنل ڈاکومنٹ پوری دنیا میں صرف ہر ائیر پورٹ پر امیگریشن آفیسر دیکھ سکتا ہے ۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 14 ہر انسان کی عزت و وقار کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے پاسپورٹس اور سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال ایف آئی اے امیگریشن افسران کی سرکاری ذمہ داری ہے۔ وزیرِ داخلہ کو اداروں کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار ہو سکتا ہے، لیکن ریاستی عہدہ کسی شخص کو خودکار طور پر امیگریشن افسر نہیں بنا دیتا۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایف آئی اے کے تربیت یافتہ اور مجاز افسر موجود ہیں تو ایک وزیر کو عام مسافروں کے ذاتی سفری دستاویزات خود ہاتھ میں لے کر دیکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ حکومتی نگرانی ضروری ہے، مگر ریاستی طاقت اور عوام کی عزت و وقار کے درمیان ایک واضح حد ہونی چاہیے۔
قانون اور اداروں کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہر شخص اپنا مقررہ کردار ادا کرے: وزیر پالیسی اور نگرانی کرے، جبکہ قانونی اور عملی امیگریشن چیکنگ مجاز ایف آئی اے افسر انجام دیں۔
پاکستان کے سرکاری FIA framework کے مطابق passenger travel documents کی examination FIA Immigration Officers کی ذمہ داری ہے، اس لیے ایک سیاسی وزیر کا خود passengers کے documents check کرنا institutional roles اور مناسب procedure کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کرتا ہے۔