پچھلے ایک ہفتے میں ایسی پچیس (25) چیزیں ہو چکی ہیں، جن میں سے اگر صرف ایک پر بھی پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے موثر انداز میں بیانیہ بنایا جاتا تو یہ پورا نظام جواب دہی سے بھاگ نہ پاتا۔
مگر پی ٹی آئی کی لیلیٰ قیادت کا واحد فوکس ڈیل کو کوششوں پر ہے، جبکہ عمران خان واضح طور پر مزاحمت کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں۔
عمران خان اور ان کی لیلی قیادت ایک پیج پر نہیں ہیں،
عمران خان مزاحمت کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں اور ان کی لیلا قیادت مزاحمت کرنا نہیں چاہتی،(اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے کسی ایک بھی حلقے میں اس وقت گراونڈ پر تحریک کا کوئی ماحول دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ��حریک چلانے میں سنجیدگی ہی نہیں ہے)
👇
پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ان پچیس چیزوں پر بھرپور بات کررہا ہے، لیکن ان کے ایم این ایز، ایم پی ایز، ٹکٹ ہولڈرز، وکلا اور قیادت کی خاموشی اس نظام کو ریلیف دے رہی ہے۔
حکومت کو نظر آرہا ہے کہ بظاہر طاقتور نظر آنے والے نظام کے ہاتھ سے معاملات نکل رہے ہیں، اسی لیے میڈیا میں تین خبریں دانستہ طور پر پھیلائی گئیں تاکہ ان پچیس ایشوز سے توجہ ہٹ جائے،جو تین خبریں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں وہ یہ تھیں کہ:
1.کے پی حکومت گرانے کی تیاری
2.نواز شریف، عمران خان سے جیل میں ملاقات کو تیار
3.چوہدری نثار کو اہم کردار دینے کا منصوبہ
یہ سب صرف توجہ ہٹانے کی چالیں ہیں تاکہ اصل مسائل دب جائیں۔
فی الحال تو مزاحمت صرف کارکن کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا۔۔۔۔ قیادت مصلحتوں میں گم ہے
میں نے پچھلے ایک ہفتے میں سامنے آنے والے ان پچیس ایشوز پر بات کی ہے،جن پر پی ٹی آئی کی لیلا قیادت کا کوئی فوکس نہیں
https://t.co/NSJ1H0uzC2
“تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا، اس کے مذموم عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور وہ زخمی ہے- وہ اپنی رسوائی کے بعد مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ملک و قوم کو اتحاد اور یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکس��ان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا جو تہذیبی و اخلاقی ڈھانچہ تھوڑا بہت قائم تھا، وہ ان لوگوں نے پچھلے دو سال میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ چور ہونا یا ڈاکو ہونا اس وقت اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔
آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ “امر بالمعروف” پر یقین رکھتے ہیں، اگر آپ نیکی اور سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، تو آپ جرم کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔
جب عوام 9 مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انہوں نے سچ کا ساتھ دیا، تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔
الیکشن کی لوٹ پر کھڑی فارم 47 حکومت کے بلند و بانگ کھوکھلے دعووں کے باوجود پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول ناممکن ہے۔ معیشت کی بدحالی دراصل ملک میں آئین و قانون کے نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔
جھوٹ اور فریب پر مبنی یہ نظام آزاد عدلیہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ کو لوٹنے کے بعد مسلسل عدالتی نظام پر ایک حملہ جاری ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم اسی حملے کی ایک کڑی ہے جسے اعظم تاررڑ اوراحسن بھون نے نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی “فیکٹری” میں مینوفیکچر کیا- اس کا مقصد تھا کہ ایک قاضی فائز عیسٰی کی جگہ کئی قاضی فائز پیدا کرو، ہر کورٹ میں ایک قاضی فائز بٹھاؤ اور پورا انصاف کا نظام دفن کر دو-
اقتدار پر قابض ناسمجھ لوگ جھوٹے نظام کو بچانے کے لیے ملک کے ہر علاقے میں پاکستانیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اغواء کاری اور ان پر تشدد روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
حضرت علی کا مشہور قول ہے: کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
پاکستان میں رائج ظلم، جبر اور نانصافی کا نظام بھی انشأللہ ذیادہ دیر نہیں چلے گا!
میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی ��انب سے بےحد پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-
ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-
میں اپنے پارٹی لیڈرز، خواتین اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تمام افراد جو ناجائز فوجی عدالتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، وہ بہادری کا استعارہ ہیں۔”
ا��یالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں گفتگو (20-05-2025)
“مجھے آج خیبرپختونخوا کے علاقوں میں کیے گئے ڈرون اٹیکس کے حوالے سے تفصیلات پتہ چلیں۔ میں ڈرون حملوں میں معصوم پاکستانی شہریوں کی شہادت پر نہایت رنجیدہ ہوں اور اسکی شدید مذمت کرتا ہوں ۔ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت کو احتجاج ریکارڈ کروائیں اور ان ڈرون حملوں کو فوری طور پر رکوائیں۔ ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت سے دہشتگردی کم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہے- ہماری کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان میں امریکی ڈرون حملے رکے تھے- اگر آپ دہشتگردی کے خلاف ہیں تو اپنے ہی لوگوں کے گھروں پر بم مت گرائیں۔
ماشاءالله، جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل بن گئے، ویسے بہتر تھا کہ وہ فیلڈ مارشل کی جگہ خود کو بادشاہ کا ٹائٹل دیتے، کیونکہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے اور جنگل کے قانون میں تو بادشاہ ہوتا ہے۔
میرے ساتھ جو ڈیل کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ ہی ڈیل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔
ہماری فورسز خصوصاً ائیر فورس نے جس طرح مودی کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اس کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ وہ اب مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
میں خود اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دے رہا ہوں کہ اگر پاکستان کے مفاد میں بات کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کی فکر ہے تو آ کر بات کریں-اس وقت ملک کو بیرونی خطرات، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور معیشت کی بحالی کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا- میں نہ پہلے اپنے لیے کچھ مانگ رہا تھا، نہ اب مانگوں گا۔
پاکستان میں اس وقت ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور کے لیے نہیں۔ یہی نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ جمہوریت دو بنیادی چیزوں پر قائم ہوتی ہے:
قانون کی بالادستی (Rule of Law)
اخلاقی اقدار (Morality)
آج جمہوریت کے ان دونوں ستونوں کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں، وہ اس بات کے غماز ہیں کہ جمہوریت کی روح کو کچلا جا رہا ہے۔
جب آپ لوگوں کو یہ پیغام دیں گے کہ جتنا بڑا چور ہوگا، اتنا بڑا عہدہ ملے گا، تو انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ آصف زرداری کی بہن کے خلاف پانچ اپارٹمنٹس کا کیس نیب کے پاس ہے، جو ملازمین کے نام پر ہیں۔وہ خود ملک سے باہر ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔شہباز شریف پر 22 ارب روپے منی لانڈرنگ کا کیس تھا، اس کے باوجود اسے وزیرِاعظم بنا دیا گیا۔
پچھلے تین سالوں میں پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔توشہ خانہ ٹو کیس میں مضحکہ خیز ٹر��ئل دوبارہ شروع کیا گیا ہے- باقی جیل کی طرح جیل کورٹ بھی ایک کرنل کی مرضی سے چلائی جاتی ہے- میری بہنوں اور وکلأ تک کو کورٹ میں آنے سے روکا جا رہا ہے- میرے رفقأ تک کو مجھ سے نہیں ملنے دیا جاتا- میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قائم غیرقانونی ٹرائل کورٹ میں اپنے وکلأ، اہل خانہ اور صحافیوں سے گفتگو (21 مئی ، 2025)
اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا
ابنِ انشاء
------------------
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
قتیل شفائی
#اردو_زبان
پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
ابنِ انشاء
--------------------------
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی
قتیل شفائی
#اردو_زبان
کیلیفورنیا کے جنگلی آگیں لاس اینجلس میں اب تک کی سب سے تباہ کن آتشزدگیوں میں سے ایک بن گئی ہیں 🔥
ناقابل تصور نقصان۔ زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ آگ ابھی بھی بھڑک رہی ہے، اور 100 میل فی گھنٹہ کی ہوائیں چل رہی ہیں۔🔥
ایک تھریڈ 🧵⚠️
اگر آپ کمزور دل کے ہیں تو یہ تھریڈ نی کھولیں
یہ خوفناک ہے
ایک وہ اتنا خوبرو توبہ
اُس پہ چُھونے کی آرزو توبہ !
ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی
جب وہ آئے گا روبرو توبہ !
چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی
تیری آواز اور تُو توبہ !✨
لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے
ایسا اندازِ گفتگو توبہ !❤️
🍁𓆩⃝ 🍁#مرشد🍁𓆩⃝🍁
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلا ٹیم سے اہم گفتگو۔
“26 نومبر کو آج چھ ہفتے ہو گئے ہیں ہمارے کئی لوگ ابھی تک گمشدہ ہیں ۔ یہ لوگ ڈی چوک اسلام آباد سے غائب کیے گئے ہیں کسی قبائلی علاقے سے نہیں۔ حکومت ان کو کسی عدالت میں پیش کر رہی ہے نہ ہی ان کو تلاش کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات اور مذاکرات کو لے کر کتنی سنجیدہ ہے۔ ہم نے آج گمشدہ ��فراد کے معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے جس کی سربراہی سینئیر وکیل قاضی انور کریں گے-
ہم پر زور مطالبہ کر رہے ہیں کہ 26 نومبر کو جو ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں ماری گئیں ؛ 64 لوگوں کو زخمی اور 14 لوگوں کو شہید کیا گیا انکے قتل عام کی شفاف تحقیقات کی جائیں ۔ یہاں تحقیقات تو کیا ہونی ہیں الٹا انہی مظلوم افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کوٹلی ستیاں سے ہمارے 17 سالہ کارکن انیس شہزاد ستی کو شہید کیا گیا ۔ پھر اسکے غمزدہ خاندان کو ہراساں کیا گیا کہ وہ اپنا کیس واپس لیں۔ یہی سب کچھ نو مئی کو بھی کیا گیا تھا ۔جب ہم پر ہی گولیاں چلائی گئی تھیں ہمارے 16 لوگوں کو شہید کیا گیا اور پھر پر امن نہتی عوام کو ہی دہشتگرد بنا دیا گیا ۔ انکے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا ؛ بے قصور افراد کو جیلوں میں ڈال کر انکی زندگیاں برباد کی گئیں۔ میرے گھر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ 9 مئی اور 26 نومبر پر شفاف جوڈیشل کمیشن بننا ناگزیر ہے۔ میں اس واقعے کو تب تک بھولنے نہیں دوں گا جب تک مظلوموں کو انصاف نہ مل جائے۔
میرے مطالبات جائز اور معقول ہیں لیکن حکومت ان پر سنجیدہ نہیں ۔ مجھ�� میری جماعت کے افرد سے ملوایا نہیں جاتا جو کہ میرا قانونی حق ہے ۔ اگر حکومت نے اگلی نشست میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہ کی تو ہم مذاکرات کے عمل کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔
بشریٰ بی بی کے خلاف کمپئین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔ بشریٰ بی بی جو کر رہی ہیں وہ میری ذات کے لیے کر رہی ہیں- سنجگانی جیسے شوشے چھوڑ کر اصل معاملات سے توجہ ہٹائی جاتی ہے ۔ ڈی چوک میں کارکنان کے ہمراہ پہنچ جانا بشری بی بی کی کامیابی ہے جس پر انکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ میں اپنی پارٹی کے لوگوں کو تلقین کرتا ہوں کہ ہمارے مسنگ پرسنز کا معاملہ ہر سطح پر اٹھائیں ۔
پاکستان میں آمریت کا دس سالہ پلان لایا گیا تھا جس میں سے دو سال گزر چکے ہیں یہاں جو جج یا پولیس والا ظلم کا حصہ بنتا ہے اسکو ترقی دے دی جاتی ہے ہمایوں دلاور نے غیر قانونی فیصلہ دیا تو اسکو ترقی دے دی گئی دوسری جانب راولپنڈی ؛ سرگودھا کے ججز نے انصاف پر مبنی فیصلے دیے تو انکو گھر بھیج دیا گیا۔ ایسا کر کے ملک میں میرٹ ��ور قانون کی حکمرانی کو قتل کر دیا گیا ہے-
ملک میں موجود اس فسطائی نظام کے ہوتے ہوئے معاشی ترقی کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ معاشی خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے اور سرمایہ کاری ملک میں اداروں کے اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کئے بغیر ممکن نہیں۔ ملک میں بڑھتی دہشتگردی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ اور افسوسناک امر تو یہ کہ اس کے تدارک کے ذمہ داران کی ساری توانائیاں اور وسائل ہماری جماعت کو دیوار سے لگانے میں صرف ہو رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اپنی ذاتی اناؤں اور وقتی مفادات سے ہٹ کر ملکی ترقی اور قوم کی خوشحالی کا سوچا جائے۔