That’s the best answer to baggers who once said that they are not choosers then how they can even claim to do something by themselves except bringing shame & disaster to the nation witch they’ve already been done enough.
پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پہلا کھاتہ 1958 میں کھولا جس میں تقریبا 25000 ڈالرز لیے جب 1 ڈالر 4.5 روپے کا تھا اور سوا چار روپے میں 2 من گندم، 1 من مکئی اور 1 من جؤ آتا تھا، چائے کی پتی اور بناسپتی گھی 3 روپے کلو، اور دس روپے میں میں 1 کلو نہیں بلکہ ایک سیر دیسی گھی آتا تھا۔
چور لوگ پہلے انڈے چراتے پھر مرغیاں ہدف بنا لیتے پھر بھیڑ بکریاں پھر گائے بھینس، پھر گھربار لوٹتے ہیں اور آخر میں ملک و قوم کو لوٹ کر ممتاز رہنما بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ قابل اجمیری نے کہا تھا
“وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا “
اب اسی پچیس کروڑ ڈالر کا تعلق پچیس کروڑ عوام ساتھ اس قدر گہرا ہو گیا ہے کہ اسکی گہرائی نہیں ناپی جا سکتی البتہ” الوؤں “ کو اس گہرائی کا معلوم ہوتا اور اب تو بات الوؤں سے آگے بڑھ کے الو کے پٹھوں تک پہنچ گئی ہے
آئی ایم ایف کا نام اب کسی بچے کے سامنے بھی لیں تو اسکو بھی معلوم کہ ہم اس سے قرض لیتے ہیں اور اسی کی وجہ سے مہنگائی و بدحالی ہے
ایسٹ انڈیا کمپنی بھی اسی طرح وجود میں آئی تھی جب ایک فرہنگی نے جہانگیر بادشاہ کی بیوی کا علاج کیا اور" مانگ کیا مانگتا ہے " کے جواب میں اس نے بنگال کے ساحل پر ایک کوٹھی مانگی۔ ہر دور کے الگ الگ ہتھیار ہوتے اس دور کا ہتھیار"بجٹ " ہے لیکن آگے شاید بات"مینیو" تک بھی پہنچ جائے یعنی پاکستان کو کیا کھانا ہے کیا نہیں کھانا ہے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ہے؟ یہ بھی آئی ایم ایف یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی طے کرے گی۔ کیونکہ ہمارے حکمران برملا کہتے کہ وہ"بھکاری " ہیں۔
بجلی کے بل میں کیپیسٹی پیمنٹ کیا ہے؟
نیپرا کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں 90 آئی پی پیز ہیں اور ہر ماہ جب آپ کا بل آتا ہے تو اس میں کل استعمال کیے گئے یونٹ کے علاوہ انکم ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ بلوں میں کیپیسٹی پیمنٹ چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔
کیپیسٹی پیمنٹ سے مراد وہ ادائیگی ہے جو ہر ماہ صارف کی جانب سے بجلی بنانے والی کمپنی کو اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے کی جاتی ہے مثال کے طور پر اگر سردیوں میں بجلی کی مانگ 10 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ گرمیوں میں یہ بڑھ کر 20 ہزار تک پہنچ جائے تو ایسی صورت میں حکومت کو پورے سال 20 ہزار میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنی پڑے گی لیکن جب کوئی پلانٹ اپنی پوری صلاحیت پر اس لیے بجلی پیدا نہیں کرتا کیونکہ ملک میں اس کی مانگ نہیں ہے تو ایسے وقت ان پاور پلانٹس کو فعال رکھنے کے لیے کیپیسٹی پیمنٹ کی جاتی ہے۔
جبکہ 2015 میں بجلی کی کھپت 13 ہزار میگاواٹ تھی اور پیداوار 20 ہزار میگاواٹ تھی لیکن کھپت آج بھی 13 ہزار میگاواٹ ہے لیکن پیداواری صلاحیت 43 ہزار میگاواٹ سے بھی زائد کر دی ہے جس کی وجہ سے پیمنٹ 10 گنا بڑھ کر دو ہزار ارب روپے پر پہنچ چکی ہے۔
جبکہ 52 فیصد آئی پی پیز حکومت کی ملکیت جبکہ بقایا 48 فیصد میں نجی اور سی پیک کے تحت چلنے والے پلانٹس شامل ہیں۔
وفاقی وزیرِ پانی و بجلی اویس لغاری نے دعوی کیا کہ چونکہ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی اسلئے بجلی مہنگی ہوئی۔ کیا بجلی بھی بیرون ملک سے امپورٹ کی جاتی؟ اگر نہیں تو وہ پلانٹ لگائے کیوں جس کے لیے بیرون ملک کا تیل یا ڈالر خرچ ہونا تھا؟
پاکستانی عوام کے نام پر قرضے اور منصوبے تختیاں تمہاری؟
آپ کا سب کچھ بیرونِ ملک اور عوام ڈیجیٹل دہشتگرد؟
زبان بندی تو ناممکن
جواب تو نسلوں تک مانگے جائینگے !
پاکستان اور انڈیا کے تنخواہ دار طبقے کا موازنہ 🤦♂️
پاکستان کے تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس انڈیا کے مقابلے میں 9.4 گنا زیادہ ہے یعنی ایک لاکھ کمانے والے سے سالانہ 30,000 ہزار روپے لیے جاتے جبکہ انڈیا میں 3018 روپے بنتے۔
پاکستان بزنس کونسل
#نکلو_کہ_منزل_قریب_ہے
جناب عمران خان اور ویژن
کرونا کے آنے سے قبل ہی عمران خان کا وژن تھا کہ پاکستان میں ٹورازم کو بڑھایا جائے جس کے لیے بہت تیزی سے کام ہو رہا تھا اور انویسٹمینٹ پاکستان آنا شروع ہو گئی تھی۔ پھر کرونا کیوجہ سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک تک کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرا پڑا جبکہ پاکستان نے عمران خان کی سرپرستی میں بہترین حکمت عملی اپنائی اور پاکستانی معیشت کو سنبھالا۔
لیکن اندرونِ وبیرونِ ممالک کے طاقتوروں نے عمران خان کو ہٹایا اور پاکستانی معیشت کو تباہ کر دیا جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے عمران خان کے وژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی ٹورازم کو بڑھایا جس کے لیے ویزا پالیسیاں تک تبدیل کیں اور اپنی معیشت کو سنبھالا بلکہ اس میں خاطرخواہ اضافہ کیا جسکی ایک حالیہ مثال برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی ہے جس کے GDP میں 118 عرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عمران خان کے بعد کی حکومت اب تک مختلف ممالک کے دورے کر رہی اور پیسے مانگ رہی اور عمران خان کا پاکستان میں ٹورازم لانے کا وژن جس کو دنیا نے اپنایا اور کہاں نکل گئی تو یہ موجودہ سیٹ اپ کی مہربانی سے پاکستان میں ٹورازم آنے کی بجائے پاکستانی اپنا ملک ہی چھوڑ کر دوسرے ممالک کو ہجرت کر رہے لیکن پاکستانی اشرافیہ یا حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو شاید اس صورتحال کا احساس ہی نہیں ہے۔
جناب عمران خان اور ویژن
کرونا کے آنے سے قبل ہی عمران خان کا وژن تھا کہ پاکستان میں ٹورازم کو بڑھایا جائے جس کے لیے بہت تیزی سے کام ہو رہا تھا اور انویسٹمینٹ پاکستان آنا شروع ہو گئی تھی۔ پھر کرونا کیوجہ سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک تک کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرا پڑا جبکہ پاکستان نے عمران خان کی سرپرستی میں بہترین حکمت عملی اپنائی اور پاکستانی معیشت کو سنبھالا۔
لیکن اندرونِ وبیرونِ ممالک کے طاقتوروں نے عمران خان کو ہٹایا اور پاکستانی معیشت کو تباہ کر دیا جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے عمران خان کے وژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی ٹورازم کو بڑھایا جس کے لیے ویزا پالیسیاں تک تبدیل کیں اور اپنی معیشت کو سنبھالا بلکہ اس میں خاطرخواہ اضافہ کیا جسکی ایک حالیہ مثال برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی ہے جس کے GDP میں 118 عرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عمران خان کے بعد کی حکومت اب تک مختلف ممالک کے دورے کر رہی اور پیسے مانگ رہی اور عمران خان کا پاکستان میں ٹورازم لانے کا وژن جس کو دنیا نے اپنایا اور کہاں نکل گئی تو یہ موجودہ سیٹ اپ کی مہربانی سے پاکستان میں ٹورازم آنے کی بجائے پاکستانی اپنا ملک ہی چھوڑ کر دوسرے ممالک کو ہجرت کر رہے لیکن پاکستانی اشرافیہ یا حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو شاید اس صورتحال کا احساس ہی نہیں ہے۔
خیبر پختونخواہ میں واپڈا نے حکومتی نمائندوں کے خلاف FIR کروانے کی درخواست دی ہے کہ انہوں نے کارِسرکار میں مداخلت کی ہے جس سے چھبیس لاکھ چالیس ہزار کا نقصان ہوا ہے۔ جس پر وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ہمارے کسی بھی الیکٹڈ نمائندے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نا کیا جائے۔
کیونکہ وفاق سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے اور سیاسی سکورنگ حاصل کرنے کے لئے چاہتا کہ وہاں کے لوگ اپنے منتخب نمائندوں کے خلاف ہو جائیں کیونکہ انکو اس صوبے سے ووٹ نہیں ملے جو کہ البتہ کہیں سے بھی نہیں ملے۔
اسی طرح 2008 سے 2013 کے دوران جب پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت تھی تو شہباز شریف نے سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے مینار پاکستان پر کیمپ لگا لیا تھا تاکہ لوگوں کو یہ پیغام جائے کہ لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے ناکہ پنجاب گورنمنٹ۔
جبکہ اس دور میں لوڈشیڈنگ کا واقع مسئلہ تھا اور پورے پاکستان میں تھا لیکن شہبازشریف سیاسی اسکورنگ کے کیے کیمپ پر بیٹھ کے ہاتھ والا پنکھا جھلایا کرتے اور عوام سے کہتے دیکھو تم ہی نہیں میں بھی گرمی میں بیٹھا ہوں