صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے سرکاری ٹیچرز کی تضحیک بعد دنیا بھر سے مزمتی بیانات کا سلسلہ شروع
اساتذہ کے حوالے سے وزیر تعلیم پنجاب کا یہ بیان بلاشبہ انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت ہے
اس قسم کے بیانات نہ صرف اساتذہ کی تذلیل کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں استاد اور شاگرد کے تقدس کو بھی مجروح کرتے ہیں
**1. استاد کا مقام و مرتبہ**
اساتذہ کسی بھی قوم کے "ماسٹر پلر" (Master Pillars) ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف علم کے محافظ ہیں بلکہ نسلِ نو کی اخلاقی، علمی اور ذہنی آبیاری کرنے والے معمار بھی ہیں۔ ایسے افراد کے بارے میں عمومی نوعیت کے الزامات تراشی کرنا پورے شعبہ تدریس کی توہین ہے
**2. ایک عوامی نمائندے کی ذمہ داری**
ایک وزیر تعلیم، جو کہ ایک پبلک فگر ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور الفاظ کے چناؤ میں انتہائی محتاط رہے گا۔ جب ایک حکومتی عہدیدار اساتذہ جیسے محترم طبقے کے لیے "پنکھے اور ٹوٹیاں چوری کرنے" جیسے القابات استعمال کرتا ہے، تو یہ اس کے منصب کی وقار کو کم کرتا ہے اور اس کی اپنی اخلاقی و انتظامی بصیرت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
**3. عمومی الزام تراشی کا نقصان**
کسی بھی پیشے کے چند افراد کی غلطی کو پوری برادری سے منسوب کرنا ایک غیر منطقی اور غیر منصفانہ عمل ہے
ایسی گفتگو سے:
* **اساتذہ کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے:**
جو اساتذہ پوری دیانتداری سے قوم کو سنوارنے میں لگے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
**4. تنقید کا طریقہ کار**
اگر محکمہ تعلیم میں کوئی مسائل یا بدعنوانی ہے، تو اس کے لیے احتساب کا قانونی اور ادارہ جاتی نظام موجود ہونا چاہیے۔ "Below the belt" طعنہ زنی اور تضحیک آمیز رویہ مسائل کا حل نہیں
بلکہ یہ محض ایک غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
میں جب عمرے پر گئی تو میں نے اپنی پہلی کلاس ٹیچر کے لیے نفل عمرہ کیا اور پھر ہر استاد کے لیے طواف کیے،دعائیں کی۔۔میرے دل میں آج بھی ان کی عزت ہے میں M.phil پاس کرکے بھی اپنی کلاس ون کی ٹیچر کا شکریہ ادا کر کے کہ آئی کہ بنیاد ان کی ہے۔محنتی،قابل،ایماندار ہیں ہمارے استاد ہمیشہ سے
اپیل یہ کہ سب شئیر کریں 👈👈👈
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب کی پوسٹ:
"تنخواہ سرکاری سکول سے لینا اور اپنے بچے پرائیویٹ سکول میں پڑھانا؟"
سر، سوال یہ نہیں کہ کوئی سرکاری ملازم اپنے بچے کو کہاں پڑھاتا ہے
اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے ہی تعلیمی نظام پر کتنا اعتماد کرتی ہے
پنجاب میں ایسے سرکاری سکول بھی ہیں جن کی بلڈنگز کرائے کی ہیں۔ اور ان بلڈنگز کا کرایہ اساتذہ اپنی تنخواہوں سے ادا کرتے ہیں۔
کوئی شرم ھوتی ھے
کوئی حیا ھوتی ھے۔
اور ووٹ چور کہتے ہیں کہ ٹیچرز چور ہیں
#RemoveEducationMinisterPunjab
وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا ہے سرکاری استاد سکول سے جاتے ہوئے ٹوٹیاں اور پنکھا اتار کر لے جاتا ہے
مجھے استاد کا تو نہی پتہ مگر وزیر تعلیم کو بتائیں ان کے ساتھی وزیر تو باقاعدہ سرکاری رہائش گاہ سے چمچے کانٹے لے گے گھروں سے بسیں برآمد ہوئیں ترکی والا ہار نکلا