مولانا کل بھی اینٹی اسٹبلشمنٹ تھے اور آج بھی اپنے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کل ن لیگ اور پیپل پارٹی اچکزئ وغیرہ مولانا کے سائے میں کھڑے تھے اور آج پی ٹی آئ مولانا کے سائے میں کھڑی ہے ——— مولانا کل بھی اپنے اصول پر قائم ��ھے کل جو موقف تھا آج بھی وہی موقف ہے —— سو یہاں اگر قابل طنز و تنقید ہے تو سائیڈ بدلنے والے لوگ نہ کہ مولانا فضل الرحمن !
مولانا دانشمندی اور استقامت کا نام ہے ❤️
@Murshid_222
#جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور
بدامنی اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ حکومتی رٹ ختم ہوگئی ہے
پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے
پولیس آزاد ہوگئی ہے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں
کانسٹیبل نظام اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے
ڈی آئی جی بنوں کی سکیورٹی ایک کانسٹیبل نے کلوز کردی
مولانا فضل الرحمن
مولانا صاحب کا 14 منٹ کا یہ کلپ ٹوئٹر پر کم و بیش ہر صحافی نے مختلف عنوانات سے اپلوڈ کیا ہے
نون لیگیے اور عسکری ٹاؤٹ اس کلپ کی بنیاد پر مولانا کے خلاف بدترین ہرزہ سرائی کر رہے ہیں اور تحریک انصاف سے منسلک صحافی حیران ہیں کہ اس بدترین ہارڈ سٹیٹ میں کوئی اتنا کھل کر حقائق پر کیسے بول سکتا ہے
مولانا صاحب کا مدعا صاف ہے کل اگر تحریک انصاف کو دھاندلی کرکے جتوایا گیا تھا تو جس طرح وہ غلط تھا ٹھیک اسی طرح بدترین دھاندلی کر موجودہ کٹھ پتلیوں کو اس قوم پر مسلط کیا گیا جانا بھی غلط ہے
تاریخ گواہ ہیکہ مولانا نے ضیاء الحق سے لیکر عاصم منیر تک ہر ایک کی غلط پالیسوں پر ڈٹ کا حق علم بلند کیا
مولانا جہاں کل کھڑے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں بس فرق یہ ہیکہ کل مولانا یوتھیوں کی نظر میں غدار تھے تو آج مولانا پٹواریوں اور عسکری ٹاؤٹوں کی نظر میں غدار ہیں
باقی ممکن ہو تو 14 منٹ کا یہ کلپ بھی آپ سن لیں اور سننے کے بعد اس کلپ کو تاریخ کے حوالے کر دیں
جنگی سازو سامان میں آپ ایٹم بم بنائیں،
ہم دفاعی قوت کے منکر نہیں لیکن اگر میں بطور سیاسی کارکن فوج کے ادارے میں مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق حاصل نہیں،
قائد جمعیت مولانا فضل
اگر انہیں پھر سے شوق ہوا ہےتو یہ شوق پورا کرلیں یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں، ان کے کالے چینلز اور دیہاڑی داروں کو چھٹی کا دودھ یاد دلائیں گے ۔
ان شاءاللہ العزیز
تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں، بلوچستان کے علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے، کشمیر میں، راولاکوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں، لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں، جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟
یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں، کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں، آپ بڑے طاقتور ہیں، لیکن ہم، مجھے یاد ہے اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو، جب دسمبر 1971ء میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا: ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے اور لڑیں گے، اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے، اگلے دن ہتھیار پھینک دیئے
یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے ہیں۔ ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو؟ کیوں مزے لے رہے ہو، جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے۔
اور آج 2026ء ہے۔ 1979ء میں جب افغانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی، اب آپ بتائیں کہ پینتالیس، چھیالیس سال ہو رہے ہیں، ایک ہی خطے کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے۔ اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں اپنے ارادوں سے آگاہ تو کر دیجیے۔ ہم تو سہ رہے ہیں اور سہتے رہیں گے۔
چلتا رہے گا معاملہ، چند روز اور
میری جان، فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں
اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
ان حالات سے ہم نے لڑنا ہے، لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔
ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔
مولانا صاحب نے تباہی پھیر دی
تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔
بلوچ علاقوں میں خونریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے۔
پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔
کشمیر میں، راولا کوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں، لوگ بیٹھے ہیں۔ یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیا مقاصد ہیں؟
رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔
جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟
کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟
یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں، کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں۔
آپ بڑے طاقتور ہیں، لیکن مجھے یاد ہے، اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو،
جب دسمبر 1971ء میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا، اور کہا ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کار��انوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے، اور لڑیں گے، اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے۔ اگلے دن ہتھیار پھینک دیے۔
تو یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے ہیں۔
ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو؟ کیوں مزے لے رہے ہو جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے؟
اور آج 2024ء [صحیح تاریخ: 2024ء] ہے، 1979ء میں جب افغانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی، اب آپ بتائیں کہ 45، 46 سال ہو رہے ہیں، ایک ہی خط کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے۔ اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
تو پھر ہمیں اپنے ارادوں سے آگاہ تو کر دیجیے۔
ہم تو سہہ رہے ��یں اور سہتے رہیں گے، چلتا رہے گا معاملہ۔
چند روز اور میری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
تو ان حالات سے ہم نے لڑنا ہے، لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں۔
ایک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصہ دہر کی جھلسی ہوئ�� ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے، پر یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے، پر یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے!
مولانا فضل الرحمن صاحب کی آج پشاور ورکرز کنونشن کی تقریر کے بعد “انہوں نے” اپنی منس��ک میڈیا ٹیم، چینلز اور اپنے “بےنامی یوٹیوب چینلز” کو مولانا صاحب کی کردارکشی کی ھدایات جاری کردی ھیں، پھر گھسی پٹی کہانیاں دھرائی جائینگی پھر گھسے پٹے الزامات لگائے جائینگے پھر گالیاں دی جائینگی پھر مخصوص چہرے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ مولانا صاحب کی کردارکشی کے لیے میدان میں اترینگے لیکن اللہ کے فضل سے جمعیت علماءاسلام کے تمام کارکنوں نے پہلے بھی آپ کا وار ناکام بنایا تھا ان شاءاللہ اب بھی اپنی جماعت اور قائد کے دفاع کے لیے تیار ھیں، اگر آغاز آپ کرینگے تو اختتام ھم کرینگے ان شاءاللہ۔
نوجوان نسل، سوشل میڈیا اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک کم عمر لڑکی کو روتے ہوئے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ گھر واپس نہیں جانا چاہتی بلکہ رجب بٹ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ ویڈیو میں موجود خواتین اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم وہ اپنے مؤقف پر بضد دکھائی دیتی ہے۔
اس واقعے کو محض ایک وائرل ویڈیو سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ یہ منظر ہمیں اس بڑے سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے بعض کرداروں اور ان کے طرزِ زندگی سے کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
آج والدین کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف بچوں کو موبائل فون دینا یا نہ دینا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اس موبائل کے ذریعے کیا دیکھ رہے ہیں، کن لوگوں کو اپنا آئیڈیل سمجھ رہے ہیں اور کس قسم کے رویوں کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ سولہ، سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں جذبات، شخصیت اور سوچ ابھی تشکیل کے مراحل میں ہوتے ہیں، اس لیے غیر ذمہ دارانہ اور متنازع مواد کے اثرات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح کے مواد کو لاکھوں لوگ دیکھتے، فالو کرتے اور پسند کرتے ہیں، اسی سے اس کے معاشرتی اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی سوشل میڈیا شخصیت کو نوجوان نسل اپنا رول ماڈل یا مینٹور سمجھنے لگے تو اس کے مواد اور رویے کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ہمیں صرف بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کے بجائے ڈیجیٹل تربیت، والدین کی نگرانی، مثبت متبادل اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ایسے مواد اور شخصیات کے بارے میں اجتماعی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو نوجوان ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سب سے مؤثر راستہ یہ ہے کہ والدین اور معاشرہ ایسے قابلِ اعتراض مواد کو غیر ضروری توجہ دینے سے گریز کریں، جبکہ وہ برانڈز اور ادارے بھی اپنی تشہیری مہمات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں جو ایسی شخصیات کو پروموٹ کرتے ہیں۔
ماضی میں بھی عوامی ردِعمل نے بعض سوشل میڈیا شخصیات کو اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس لیے تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر شخصیات کی تضحیک کے بجائے مواد، رویے اور اس کے نوجوان نسل پر ممکنہ اثرات پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔
یہ صرف ایک لڑکی یا ایک یوٹیوبر کا معاملہ نہیں؛ یہ ہمارے گھروں، ہماری تربیت اور آنے والی نسل کے فکری مستقبل س�� جڑا ہوا سوال ہے۔
میرا تو بس اس حد تک چلتا ہے کہ میں لیڈر آف دی اپوزیشن سے کہوں کہ وہ ایک اے پی سی بلا لیں، اور اگر کوئی رکاوٹ ہے ان کے سامنے تو پھر ہمیں اجازت دیں، ہم بلا لیں گے۔ لیکن کم از کم کوئی ایک فورم ایسا ہونا چاہیے کہ جس پر مختلف لوگ بیٹھ کر اپنی رائے دیں، اپنی گفتگو کریں اور ملک کے جو حالات ہیں، زمینی حقائق ہیں، اس کو سامنے رک��تے ہوئے اس کا تجزیہ ہونا چاہیے۔
اور بہتر یہ ہے، جو میں نے تجویز کیا تھا، کہ پارلیمنٹ کا یا قومی اسمبلی کا ایک اِن کیمرا اجلاس بلا لیا جائے اور حکومت باقاعدہ تمام ایوان کو یہ بتائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
میرے مغربی سرحدات بند ہیں، مشرقی سرحدات میرے بند ہیں، چین کے ساتھ ہمارا کاروبار بند ہے، ہم نے ان کی انویسٹمنٹ ضائع کی ہے، تو آج ہم ان کو درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر جو ہے، وہ ہمیں معاف کر دو۔ وہ ہماری درخواست کو مسترد کر رہا ہے کہ نہیں، معاف نہیں کریں گے ہم۔
ایران جن حالات سے دوچار ہے، اس میں وہ پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟
تو اس طرح پاکستان کو محصور بنا دیا ہے۔ ایک محصور ریاست میں اس وقت پاکستان کے عوام جو ہے، وقت گزار رہے ہیں۔ پتا نہیں کتنے کتنے میل ادھر سے بھی ٹرک کھڑے ہیں، ادھر سے بھی ٹرک کھڑے ہیں۔ پھل ضائع ہو گئے، سبزیاں ضائع ہو گئیں۔
اور جو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ یا ہمارے فاٹا کے علاقے کے جو تاجر لوگ ہیں، جن کے کاروبار کا انحصار صرف اور صرف افغانستان پر ہے، کوئی دوسرا طرف نہیں ہے، تو ان بیچاروں نے کون سا گناہ کیا ہے کہ ان بیچاروں کے سارے کاروبار ہی ٹھپ ہو گئے ہیں؟ وہ بیچارے دربدر پھر رہے ہیں، بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔
یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس پر ہمیں باقاعدہ پارلیمنٹ کو بھی بلانا چاہیے۔ اگر وزیراعظم صاحب پارلیمانی لیڈرز کو اِن کیمرا بلا کر ان سے بات کر سکتے ہیں تو پارلیمان کو بلا کر ان سے بات کیوں نہیں کر سکتے؟
اِن کیمرا رہے، محفوظ کرے، کوئی ریکارڈنگ اس کی نہ ہو، لوگوں کو آزادی سے بولنے دے، خود بھی کھل کر بات کرے ہمارے سامنے، تاکہ ایک سنجیدہ ماحول کے اندر جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کی بنیاد پر اس کو زیرِ بحث لایا جا سکے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
جب یہ ویڈیو دیکھی تو ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کوئی ستر سالہ بوڑھی ماں ہوگی، جسے اس کی دو بیٹیاں سہارا دے کر کوئٹہ پریس کلب لائی ہیں۔ مگر غور کیا تو سامنے ایک نوجوان لڑکی تھی، جو شاید سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر خیال سا آیا کہ آخر اتنی کم عمر لڑکی اس قدر نڈھال کیوں ہے، قدم اٹھانا بھی دشوار کیوں ہے؟
پھر جب اس کی پریس کانفرنس سنی تو دل مزید بوجھل ہوگیا۔ اسماء امان اللہ نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ 13 اگست کی شب تقریباً گیارہ بجے خدا بخش ولد بختیار احمد، اس کے ماموں کا بیٹا جاوید ولد عبدالصمد، ماموں کا نواسہ سراج ولد احمد حسین اور رفیق ولد یوسف محمد یوسف دی��ار پھلانگ کر اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے بقول، ملزمان نے اس پر اور اس کی والدہ پر تشدد کیا، گھر سے سونا، چاندی، بالیاں اور دیگر زیورات کے علاوہ 65 ہزار روپے بھی لے لیے، بھائی کے میٹرک سند دیگر دستاویزات بھی ۔ اسے مارا پیٹا اور پھر گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اسماء کے چہرے پر تشدد کے نشانات اس کی فریاد کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔
اس نے بتایا کہ اسے جوائنٹ روڈ، کوئٹہ ریلوے کالونی میں احمد حسین کے گھر لے جایا گیا، جہاں اس نے مدد کی اپیل کی اور ان کی وردی کا واسطہ بھی دیا، مگر اس کے مطابق کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہاں اس کا سابق منگیتر خدا بخش مبینہ طور پر زبر��ستی نکاح کرنا چاہتا تھا۔ اس کی رضامندی نہ ہونے پر مولوی نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا تو وہ مزید مشتعل ہوگئے۔
اسماء کے مطابق اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس نے بات نہ مانی تو اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے اسے کسی ویرانے پہاڑ میں قتل کرکے پھینک دیا جائے گا۔ اس دوران، اس کے بقول، جاوید نے اس کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ بعد ازاں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے گاڑی میں ڈال دیا گیا۔
کولپور کے مقام پر ماشاءاللہ ہوٹل کے قریب گاڑی روکی گئی۔ اسماء کے مطابق وہاں اس کے اغوا کاروں نے چائے پی، اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ آگے ایف سی کی چیک پوسٹ ہے، اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ اسے دھمکایا گیا کہ اگر اس نے شور مچایا تو اس کی ماں اور بہن کو نقصان پہنچایا جائے گا اور اسے ایف سی کے حوالے کرکے اس کی عزت خراب کروائی جائے گی۔
مگر شاید اس بے بس لڑکی کی قسمت میں ابھی زندگی باقی تھی۔
جیسے ہی گاڑی ناکہ بندی پر پہنچی، اسماء نے چیخ چیخ کر ایف سی اہلکاروں سے مدد مانگی۔ اس کے پاؤں نن��ے تھے، تشدد کے باعث کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کے مطابق ایف سی اہلکاروں نے فوراً اسے چپل دی اور سر پر چادر اوڑھائی۔
دوسری جانب اغوا کاروں نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر بچنے کی کوشش کی کہ وہ اسے علاج کے لیے لے جا رہے ہیں اور اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ مگر اسماء نے اہلکاروں کے سامنے اپنی فریاد دہراتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ہوش و حواس میں ہے، اسے اغوا کرکے لے جایا جا رہا ہے، اس کے گھر پر ح��لہ کیا گیا، زیورات اور رقم لے لی گئی اور وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ نہیں جا رہی۔
بالآخر ایف سی اہلکاروں نے اسے ان کے قبضے سے آزاد کرایا۔
آج اسماء اپنی والدہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب پہنچی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ابھی تک خفیہ مقام پر رہ رہی ہے، مگر خوف اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ اسے ان لوگوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان محمد طاہر سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کر رہی ہے۔
ایک اسماء جتک کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، اسے انصاف نہیں ملا، اس کے خاندان کو تحفظ نہیں ملا، کہ ایک اور اسماء اپنی فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گئی۔
آخر کب تک ہما��ی بیٹیاں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستانیں لیے پریس کلبوں کے دروازے کھٹکھٹاتی رہیں گی ؟
میں تو لیڈر آف اپوزیشن کو کہونگا کہ اے پی سی بلائیں، اگر وہ نہیں بلا سکتے تو ہمیں بتائیں ہم بلایئں گے،
پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر حقائق سامنے لائے جائیں
اگر اسماء جتک کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندوں کو سزا ملتا ان کی والد کے قاتل گرفتار ہوتے تو آج کسی اور کو یہ جرات نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی عزت پامال کریں یا کسی سے زبردستی نکاح کرنے کی کوشش کرے۔
جب اسماء جتک کو انصاف نہیں ملا ان درندوں کو ریاست نے تحفظ فراہم کیا، تو ریاستی بندوق بردار اور بھی متحرک ہو گئے ایک اور اسماء بلوچ کو اغوا کر کے ان سے زبردستی نکاح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بلوچستان میں ایسے بہت سے درندوں کو ریاست کی طرف سے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کچھ بھی کریں ان سے کوئی نہیں پوچھتا اور یہاں بھی ان کا کہنا تھا کہ ایف سی والے ہمارے دوست ہیں اور پولیس میں تو یہ لوگ خود ملازم تھا۔
@SabihaBaloch_@ShaleeBaloch
اے پی سی بلائیں، ملک کے حالات پر کھل کر بات ہو
رکاوٹ ہے تو ہمیں اجازت دیں، ہم خود اے پی سی بلائیں گے
پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلا کر حقائق سامنے لائے جائیں
حکومت بتائے، پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے ؟ مولانا کی صحافیوں سے گفتگو
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کیوں دبائی جا رہی ہے ؟ اگر حکومت عوام کی نمائندہ ہے تو تنقید سے خوف کیوں؟
آئین چلے گا یا طاقت کا نظام؟ فیصلہ کون کرے گا ؟
حکومت پر تنقید بھی سنسر؟ مولانا فضل الرحمٰن کا سوال