کتاب کا عنوان: “کھچا تروئی”📖
کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک ادبی کتاب تھی۔ بڑی نفیس، باوقار اور اپنے لفظوں پر نازاں۔ پھر قسمت اسے بےادبوں کی محفل میں لے گئی۔
وہاں کسی نے کتاب کو پڑھنے کے بجائے اپنے ترلے لکھ دیے، کسی نے ہر صفحے پر سفارش کا حاشیہ چپکا دیا، کسی نے تعریف کے نام پر قصیدے گھسیڑ دیے اور کسی نے دوستی نبھانے کے لیے اسے ردی کے جذبات میں لپیٹ دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب بیچاری ادب سکھانے آئی تھی مگر خود کھچاتروئی کا شکار ہو گئی۔
کبھی ایک صفحہ کسی کے ترلوں میں پھنسا، کبھی دوسرا کسی کی خوشامد میں الجھا۔ اتنی کھچاتروئی ہوئی کہ آخرکار کتاب نے آئینہ دیکھ کر کہا:
“میں کتاب کم اور اجتماعی درخواست زیادہ لگ رہی ہوں!”
اب حال یہ ہے کہ جب کوئی اسے کھولتا ہے تو ادب نہیں ملتا، بلکہ سفارش، تعلقات، گروہ بندی، خوشامد اور ذاتی مفادات کا مکمل انسائیکلوپیڈیا برآمد ہوتا ہے۔
اور یوں “کھچاتروئی” ادب کی نہیں، اُن لوگوں کی داستان بن گئی جنہوں نے کتاب کو پڑھنے کے بجائے اپنی اپنی طرف کھینچ کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا۔ 🤣
I am attaching a screenshot and the account details of the individual @_iMAKsays responsible for making a violent threat. The statement contains references to shooting a person and causing another individual to live in fear, which raises serious safety concerns.
This conduct may fall under Sections 503, 506, and 507 of the Pakistan Penal Code (PPC) and relevant provisions of PECA 2016. I respectfully request that the individual be identified, investigated, and appropriate legal action be taken in accordance with Pakistani law.
The account details and evidence are attached for review.
@NCCIAOFFICIAL@NadraPak@GovtofPakistan@usembislamabad@OfficialDPRPP@TararAttaullah@CCD_Punjab@OfficialDGISPR@FBI@POTUS
نیازی عُرف فاروق عزیز اعوان کی کوہوسٹ @MahrukhAli5555 اسلام آباد کی اسکاٹ گرل پر شک تھا کہ یہ پیچھے سے کھیلتے ہیں لیکن ہم آگے سے کھیل کر تجھے لٹکائے گے اب حوصلہ رکھنا اور اگر کوئی اس کی حمایت میں آیا، تو پھر میرا اُس کے ساتھ بھی سیدھا معاملہ ہوگا.
#عيد_الأضحى
نیازی عُرف فاروق عزیز اعوان کی کوہوسٹ @MahrukhAli5555 اسلام آباد کی اسکاٹ گرل پر شک تھا کہ یہ پیچھے سے کھیلتے ہیں لیکن ہم آگے سے کھیل کر تجھے لٹکائے گے اب حوصلہ رکھنا اور اگر کوئی اس کی حمایت میں آیا، تو پھر میرا اُس کے ساتھ بھی سیدھا معاملہ ہوگا.
#عيد_الأضحى
بلی سو چوہے کھا کے حج کو چلی.😉
جو میرے کسی دوست کی طرف اور اُس کی فیملی کی طرف انکھ اُٹھائے گا اُسے میں کہیں بھی جینے نہیں دوں گا طیب تو پھر میرا بھائی ہے باقیوں کی بھی خیر نہیں.
حج مبارک راکھی ساون😉✌️
#٢٥_ايار
سارے راز ایک طرف اور کالے کرتوت ایک طرف 🤭 افریقی کے مرنے کے بعد ذہنی مریضہ مزید نفسیاتی ہوگئی ہے ہر وقت پاگل خانہ سوار رہتا ہے سر پر احمد بشیر کو بھی تو پاگل خانے سے لائی تھی اگر کوئی کسی کالے کو جانتا ہو تو ضرور بتائے کمینٹ میں عمر کی کوئی قید نہیں بس رنگ پکا ہونا چاہیے 😅
This individual name Masood Ahmed Khan @_iMAKsays is openly confessing to obtaining private data, identities, and personal pictures of Pakistani citizens through contacts inside Pakistan and releasing them publicly while issuing threats online. Such actions are a serious violation of privacy, cyber laws, and human rights.
Immediate action must be taken against both the individual involved and any officials or insiders assisting in leaking citizens’ data. No one should be above the law, and open threats against people must not be ignored.
We request urgent investigation and strict legal action to prevent further abuse and protect innocent citizens.
@usembislamabad@FIA_Agency@CCD_Punjab@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK@OfficialDGISPR@NadraPak@NCCIAOFFICIAL@MaryamNSharif@TararAttaullah
جو یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم کچھ بھول گئے ہیں…
یاد رکھیں، ہم خاموش ضرور ہیں، مگر کچھ بھولے نہیں۔
حساب بھی ہو گا، اور جواب بھی ملے گا اور انشاءاللہ بھرپور ملے گا۔
یہاں بھی… اور وہاں بھی۔
باقی، آپ خود سمجھدار ہیں۔ 🩶
پرانے زمانے کی بات ہے، کسی ملک پر راجہ غضنفر اور رانی چمپا کی حکومت تھی۔ راجہ غضنفر دل کے انتہائ برے انسان ، اور انہیں اپنی آواز اور اپنی گفتگو پر حد سے زیادہ غرور تھا۔ وہ گھنٹوں رعایا کے سامنے تقریریں کرتے اور غریب عوام سر جھکا کر سنتی رہتی۔
جب سے مملکت میں "ایکس سلطنت" (ٹویٹر) کا رواج ہوا، راجہ صاحب نے دربارِ عام برخاست کر دیا اور محل کے شاہی کمرے میں بیٹھ کر روزانہ رات کو "شاہی سپیس" لگانا شروع کر دی۔
اس سپیس کے ہوسٹ خود راجہ غضنفر تھے، اور انہوں نے اپنی چہیتی رانی چمپا کو سلطنتِ عالیہ کا "کو ہوسٹ" (Co-Host) مقرر کر رکھا تھا
رانی چمپا جب کو ہوسٹ کی کرسی پر براجمان ہوتیں، تو ان کے نخرے دیکھنے والے ہوتے۔ راجہ صاحب مائیک پر بیٹھ کر کہتے:
"ہماری رعایا گواہ رہے، اس سال ہم نے پیاز پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے!"
رانی چمپا فوراً اپنا مائیک ان میوٹ کرتیں اور انتہائی شاہانہ انداز میں بولتیں:
"جی راجہ جی، بالکل درست فرما رہے ہیں آپ! آپ کی دور اندیشی کی تو جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں آپ کی اس بات میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گی کہ پیاز کے ساتھ ٹماٹر بھی سستے ہونے چاہئیں تاکہ ہماری ہانڈی اچھی بنے۔
ایک دن راجہ صاحب سپیس میں بیٹھے اپنی رام لیلا سنا رہے تھے- اور رانی ہمیشہ کی طرح "جی بالکل، رائٹ پوائنٹ راجہ جی" کہہ کر داد دے رہی تھیں۔
اچانک رانی چمپا کو یاد آیا کہ انہوں نے تو راجہ صاحب کے کہنے پر آج دیسی گھی کے لڈو تیار کروائے ہیں، جو باورچی خانے میں پڑے ہیں۔ وہ مائیک میوٹ کرنا بھول گئیں اور راجہ صاحب کی لائیو بونگیوں کے دوران ہی اونچی آواز میں بولیں:
"ارے او لونڈی! وہ جو صبح بڈھے راجہ کے لیے دیسی گھی کے لڈو بنائے تھے، وہ جلدی سے لاؤ، کہیں راجہ کے بولتے بولتے پھیپھڑے ہی باہر نہ آ جائیں!"
ساری سپیس میں سناٹا چھا گیا۔ نیچے بیٹھی سندریوں ، وزیروں اور کوتوالوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے۔ راجہ غضنفر، جنہیں اپنی فٹنس پر بڑا ناز تھا، لائیو سپیس میں خود کو "بڈھا راجہ" سن کر غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ اپنی بےعزتی ہوتے دیکھ کر انہوں نے غصے میں آؤ دیکھا نہ تاؤ، رانی کو خاموش کرانے کے لیے اپنے شاہی انگوٹھے سے سکرین پر ایک بٹن دبا دیا۔
مگر غصے میں ان کا انگوٹھا "میوٹ" کے بجائے "Remove as Co-Host" پر لگ گیا!
اگلے ہی سیکنڈ میں ایک ہولناک منظر پیش آیا۔ رانی چمپا، جو اب تک شاہی دربار کی کو ہوسٹ اور نگرانِ اعلیٰ تھیں، ایک جھٹکے کے ساتھ سکرین کے سب سے نچلے حصے میں، عام لسنرز کے سمندر میں جا گریں۔ ان کا مائیک چھن چکا تھا اور ان کے نام کے آگے کو ہوسٹ کا نشان غائب ہو چکا تھا۔
رانی نے موبائل سکرین کو دیکھا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر ان کی آواز صرف محل کے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر رہ گئی، سپیس تک نہ پہنچی
راجہ صاحب نے سکرین پر دیکھا کہ رانی چمپا مائیک مانگ رہی ہیں، مگر اب راجہ کے اندر کا مردِ حر جاگ چکا تھا۔ انہوں نے رانی کی ریکویسٹ کو ایسے نظرانداز کیا جیسے وہ کوئی سپیم (spam) میسج ہو🤣🫣
اگلے دن راجہ غضنفر نے شاہی دربار میں ایک نیا قانون نافذ کیا
سلطنت کا کوئی بھی عہدہ عارضی ہو سکتا ہے۔ جو رانی کل تک کمنٹری کر رہی تھی، وہ آج نیچے بیٹھ کر صرف سن رہی ہے۔
جو راجہ گانا سنا کرتا تھا- کہ ” راجہ کو رانی سے پیار ہو گیا” وہ اب گانا سنتا ہے- “ اوے راجو پیار نا کریو ۔ دل ٹوٹ جاتا ہے 😁”
شکریہ !
میرے دوست میرا فخر ہیں ✨
آج کی اس مادی اور نفسا نفسی کی دنیا میں، جہاں مخلص رشتے نایاب ہو چکے ہیں، سچے اور وفادار دوستوں کا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔ میرے دوست محض میری ضرورت یا وقت گزاری کا ذریعہ نہیں، بلکہ وہ میرا مان، میری طاقت اور میرا فخر ہیں۔ وہ میری زندگی کے اس سفر کے سب سے خوبصورت ہمسفر ہیں جن کے دم سے میری زندگی میں رونق اور سکون ہے۔ میں خدا کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے ایسے دوستوں سے نوازا جن پر میں بلا جھجک اور فخر سے ناز کر سکتا ہوں۔
اچھے دوست انسان کی زندگی کو مثبت رخ دیتے ہیں۔ میرے دوستوں کی صحبت نے مجھے ہمیشہ اچھائی کی طرف راغب کیا ہے۔ جب بھی میں کسی ذہنی الجھن کا شکار ہوتا ہوں، ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ صرف میرے رازدار ہیں بلکہ میری زندگی کے ہر اہم فیصلے میں ایک بہترین مشیر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ ایسا مخلص حلقہ احباب ملنا کسی نعمت سے کم نہیں، اور اس نعمت پر جتنا فخر کیا جائے وہ کم ہے۔
معاشرے میں جہاں مخلص اور ہمدرد لوگ پائے جاتے ہیں، وہاں بعض ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو انسانیت کے لبادے میں چھپے "آستین کے سانپ" ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ رہ کر، ہمارا ہی نمک کھا کر ہمارے ہی خلاف سازشوں کے جال بنتے ہیں۔ ایسے شخص کی مثال اس دیمک کی طرح ہے جو اندر ہی اندر اس درخت کو چاٹ جاتی ہے جس کا وہ سایہ لیتی ہے۔
ایسا شخص جب محفل میں سامنے بیٹھتا ہے تو اس کی زبان سے شہد ٹپکتا ہے۔ وہ آپ کی ہر بات پر اس طرح سر تسلیم خم کرتا ہے جیسے آپ اس کے 'مائی باپ' ہوں اور وہ آپ کا سب سے بڑا وفادار۔ اس کا مقصد صرف آپ کا اعتماد جیتنا ہوتا ہے تاکہ وہ آپ کے قریب رہ کر آپ کی کمزوریوں اور آپ کے رازوں تک رسائی حاصل کر سکے۔ وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کی دنیا آپ ہی سے شروع ہوتی ہے اور آپ ہی پر ختم۔
جیسے ہی یہ شخص آپ کی محفل سے اٹھ کر باہر نکلتا ہے، اس کا نقاب اتر جاتا ہے۔ وہ آپ کے مخلص دوستوں کے پاس جا کر آپ کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا وار یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو آپ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نصیحت کے لبادے میں کہتا ہے کہ "ان کی محفل سے دور رہو، وہاں خیر نہیں
ایسے شخص کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کی ہر ایک حرکت، ہر ایک سازش اور ہر ایک دوغلی بات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہماری خاموشی کو نادانی نہ سمجھو- ہمارا ایمان ہے- اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے- اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے- یہ پگڑی اچھال کر ذلیل کرنا اپ کے بس کی بات نہیں میرے پیارے میرے بیٹے-
مخلص دوستوں کی پہچان یہی ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے بھی ڈھال بن کر کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ منافق صرف اپنے مفاد کی خاطر تعلق کا ناٹک کرتا ہے۔ ایسے کرداروں سے دوری ہی ذہنی سکون کا واحد راستہ ہے۔
طیب تارڑ۔🖊