کیسٹائیل کی ملکہ ازابیلا زندگی میں دو مرتبہ نہائی،
اک بار جب وہ پیدا ہوئی
دوسری بار جب اس کی شادی ہوئی
وہ 1474 میں سپین کی ملکہ بنی اور 1504 میں فوت ہوئی
اس کا شوہر بادشاہ فرڈینینڈ زندگی میں اک بار نہایا
سیکس کے بعد غسل جنابت کیا ہوتا ہے انہیں معلوم ہی نہیں تھا
ملکہ ازابیلا کے سر میں لاکھوں جوئیں پڑ گئیں تھیں اس کے سر کی کھال ادھڑنے لگی اور وہ جوؤں کی وجہ سے ہی مر گئی
اس زمانے میں جوؤں کو خدا کے موتی کہا جاتا تھا اور ایسی موت قابل رشک تھی
پوپ کیلیمنٹ پنجم پیچش سے مرگیا،
وہ پاخانہ پیشاب کے بعد ہاتھ بھی نہیں دھوتا تھا، اس کی آنتوں میں شوزش ہو گئی،
وہ الٹیاں اور دست کرتے کرتے مر گیا،
انگلینڈ کے ڈیوک آف نورفوک نے بھی مذہبی بنیادوں پر نہانے سے انکار کر دیا تھا
ساری زندگی گندہ رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر پھوڑے نکل آئے ان میں پیپ پڑ گئی نوکر اسے ڈھیر ساری شراب پلا کر نشے میں اس کے زخم صاف کرتے
اور اسی بیماری میں وہ مارا گیا
پندرہویں صدی میں انگلینڈ میں وگ پہننے کا فیشن عام تھا،
لوگ نہاتے نہیں تھے، جوؤں کی وجہ سے بال کٹوا لیتے اور وگ پہنتے
نہ نہانے کی وجہ سے آتشک کی بیماری پھوٹ پڑی، یہ بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے
سیکس کرنے کے ہفتوں بعد بھی نہ نہایا جائے تو مرد یا عورت کے جنسی اعضاء پر اک دانہ نکل آتا ہے
چھے مہینے بعد پورا جسم ایسے دانوں سے بھر جاتا ہے،
کچھ عرصے بعد ہڈیوں میں بھی دانے نکل آتے ہیں
1580 یورپ میں لاکھوں افراد سیکس کے بعد نہ نہانے کی وجہ سے مارے گئے
کنگ لوئ�� 1638 میں پیدا ہوا، 1715 میں فوت ہوا،
ستتر سال میں وہ صرف دو بار نہایا اور وہ بھی جب ڈاکٹروں نے اسے نہانے پر مجبور کیا
دنیا بھر سے آنے والے بادشاہ وزیر سفیر کوئی بھی کنگ لوئی سے گلے نہیں ملتا تھا،
لوگ ہاتھ ملاتے بھی دور بھاگتے تھے
کنگ لوئی میں سے ریچھ جیسی ب��بو آتی تھی
یورپ میں دانت صاف کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا،
امیر کبیر عورتیں پیلے دانتوں پر فخر کرتی تھیں اور اگر کسی عورت کے دانت سفید ہوتے تو وہ شرم سے مسکراتی بھی نہیں تھی
راستے اور گلیاں تنگ بنائی جاتی تھیں،
برسلز میں بعض گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ دو افراد اک ساتھ نہیں گزر سکتے تھے
گھروں کا گندہ پانی گلیوں کے بیچ سے گزرتا تھا بارشوں میں یہ گلیاں نالے کا سا منظر پیش کرتیں
پورے فرانس میں کوئی باتھ روم نہیں تھا،
آپ کا کیا خیال ہے فرانس کی خوشبوئیں کیوں مشہور ہیں؟؟
یہ لوگ ٹٹی پیشاب کر کے پچھواڑہ بھی نہیں دھوتے تھے. بس خوشبو لگا لیتے،
ٹشو پیپر تو اٹھارہویں صدی میں ایجا�� ہوا
اس سے پہلے یورپ میں کپڑے سے گاف صاف کی جاتی تھی. یہ کپڑا صرف امیر لوگ افورڈ کر سکتے تھے
غریبوں کے پاس ٹوئی صاف کرنے کا کپڑا بھی نہیں تھا
اسی طرح امیر لوگ ہر چھے مہینے سال بعد انڈر وئیر تبدیل کر لیتے لیکن غریب اک ہی انڈر وئیر سالوں تک استعمال کرتے
ملکہ الزبیتھ جس کی گوری چمڑی اور لال بال ہمیں لبھاتے ہیں، اپنے بالوں کو رنگ کرنے کے لیے کیمیکل میں پیشاب ملاتی تھی
پیشاب میں موجود ایمونیا بالوں کو جلدی رنگنے میں مدد دیتا،
پرانے وقتوں میں پیشاب سے کپڑے بھی دھوئے جاتے ایمونیا کو بطورِ بلیچ استعمال کیا جاتا تھا
سینیٹری پیڈز Always ultra تو ابھی ایجاد ہوا عورتوں کے پاس ماہواری کے دوران رکھنے کے لیے کپڑے نہیں ہوتے تھے
انہیں گندے کپڑوں کو پانی سے کھنگال کر دوبارہ استعمال کیا جاتا تھا
گندگی کی وجہ کئی عورتوں کو انفیکشن ہو جاتا
اب آپ پاکستان آ جائیں،
صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہمارے گھر گلیاں بازار گندے پڑے ہیں
ہر شخص پان ماوا نسوار سگریٹ یا چھالیہ کھا رہا ہے، مہینوں دانت صاف نہیں کرتے
کراچی شہر کی کوئی دیوار کوئی کونا ایسا نہیں جو پان گٹکے کی پیک سے سرخ نہ ہوا ہو
شہر ہوں یا دیہات کچرے کا ڈھیر لگا ہوا ہے
ہمیں تو شکرگزار ہونا چاہیے تھا کہ رسول اللہ کی امت میں پیدا ہوئے،
صفائی کو نصف ایمان قرار دیا
ہمارے گھر گندے، گلیاں اور رستے گندے، بازار گندے اور منڈیاں گندی ترین
ہر گلی کے موڑ پر کچرے کا ڈھیر ہمارے ایمان کا منہ چڑا رہا ہے، ہم کہیں بھی بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں،
کہیں بھی پان تھوکتے،
سگریٹ پھینکتے ہیں، ہماری مساجد کے واش رومز نہایت بدبودار اور غلیظ ہیں،
ہمارے وضو خانوں میں نسوار جا بجا ملے گی،
صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں،
بنیادی اخلاقیات ضروری ہیں. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے صرف نام مسلمانوں والے ہیں
ہمارے ظاہر باطن گند بھرا ہوا ہے
وائس چیئرپرسن اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب بیرسٹر امجد ملک کی صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے جاتی عمرہ میں خصوصی ملاقات،اوورسیز پاکستانیوں کے امور اور ادارہ جاتی معاملات پر تبادلہ خیال
For those unaware, SpaceX has already shifted focus to building a self-growing city on the Moon, as we can potentially achieve that in less than 10 years, whereas Mars would take 20+ years.
The mission of SpaceX remains the same: extend consciousness and life as we know it to the stars.
It is only possible to travel to Mars when the planets align every 26 months (six month trip time), whereas we can launch to the Moon every 10 days (2 day trip time). This means we can iterate much faster to complete a Moon city than a Mars city.
That said, SpaceX will also strive to build a Mars city and begin doing so in about 5 to 7 years, but the overriding priority is securing the future of civilization and the Moon is faster.
آپ کو یاد ہوگا کہ شمائل ندوی صاحب سے مناظرے میں جاوید اختر صاحب مسلسل یہ اعتراض دہراتے رہے کہ اگر خدا ہے تو وہ ان سب برائیوں کو روکتا کیوں نہیں؟
جبکہ ایپسٹین فائلز جیسے لیکس ان سوالات کے جواب میں اسلامی موقف کی مکمل تائید کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ ��راصل Problem of Evil نہیں بلکہ Causes of Evil کو ڈسکس کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔
ہم اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ اللہ کا عذاب دنیا میں کیوں آ رہا ہے، خدا ان آفات کو کیوں نہیں روک رہا، جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ وہ محض کسی خفیہ جزیرے پر کی جانے والی عیاشیوں سے ہی واقف نہیں، بلکہ ان غلط ارادوں کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے جو کسی بدبخت کے دل میں قیام کرتے ہیں۔
یہ دنیا اس قدر سادہ نہیں ہے جتنا لوگ سمجھتے ہیں، اور اس دنیا کے لوگ اتنے باخبر بھی نہیں جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لوگ جنہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں، وہ نہ صرف چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ریپسٹ نکلتے ہیں ب��کہ ان کے جسموں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ان کا گوشت کھانے جیسے جرائم کے مرتکب بھی پائے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ دنیا ایسے لوگوں کو انبیاء علیہم السلام کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے، اور اپنے ان آقاؤں کو طاغوت بنا لیتی ہے۔ نبیوں کی پاکیزہ سیرتیں، جو پوری دنیا کے سامنے ہوتی ہیں، ان پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر تو اعتراض کرتے ہیں، لیکن جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر ہزاروں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی استحصال پر خاموش رہتے ہیں۔
جس Scam کو خدا بار بار ایکسپوز کرچکا ہے اسکے پیغمبر ایکسپوز کرچکے ہیں اسی اسکیم کا بار بار شکار ہونے والے لوگ واقعتا معصوم ہیں؟
اگر ایسی دنیا بھی تباہی کی مستحق نہیں، تو پھر کوئی چیز بھی سزا کے لائق نہیں۔ کیا خدا نے بار بار نہیں فرمایا کہ یہ سب برائیاں تمھارے اپنے اعمال کے سبب ہیں؟ کیا خدا کا راستہ چھوڑنا بذات خود سب سے بڑا سبب نہیں؟
آپ آگے کی تفصیلات پڑھنے کے بعد یہ جان لیں گے کہ خدا کیوں اس قدر حلم والا ہے، اس نے کیوں ایک مقررہ وقت پر بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ کیوں اس نے بار بار یہ بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حال جانتا ہے، کیوں فرمایا ہے کہ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا نہیں، اور کیوں یہ اعلان کیا ہے کہ قیامت کے دن سب کی کارگزاری کھول کر رکھ دی جائے گی۔
جیفری ایپسٹین کے ساتھ جن جن لوگوں کی تصاویر منظرِ عام پر آ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بل گیٹس کو کون نہیں جانتا؟ یہ وہ افراد ہیں جو دنیا کو لیڈ کرتے ہیں، جن کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
جو لیڈرز خود چھوٹے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوں، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ انہیں فلسطین میں ہونے والے قتلِ عام پر ترس آئے گا؟ یہ تو خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔
بل گیٹس، جو عرصۂ دراز تک دنیا کے سب سے امیر آدمی رہے، متعدد ویکسینز کے اسپانسر بھی ہیں۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ کم عمر روسی لڑکیوں کے ساتھ ج��سی بداعمالیوں کی لت کے باعث وہ جنسی مسائل کا شکار ہو گئے تھے۔ ایسے لوگوں سے آپ یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کو خلوص کے ساتھ مفت ویکسین فراہم کریں گے؟
ایلان مسک، جو ایکس (سابق ٹوئٹر) کے مالک ہیں اور جن کی ایک ایک پوسٹ کروڑوں لوگوں تک پہنچتی ہے، ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ایک دوست کی بیوی کے ساتھ افیئر میں بھی پکڑے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے والد اپنی ہی سوتیلی بیٹی سے دو بچوں کے باپ ہیں۔
رچرڈ ڈاکنز، جو الحادِ جدید کے بانی ہیں اور جن کی کتاب The God Delusion جدید ملحدین کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اہلِ ایمان کے لیے مذہبی کتابوں کی، ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
لارنس کراس، مشہور ملحد اور مناظر، بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جبکہ وہ کھلے عام مناظروں میں incest یعنی محرم رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق کو جائز قرار دے چکے ہیں۔
اسٹیفن ہاکنگز جیسے حالیہ دنیا کے سب سے معروف ملحد سائنسدان بھی اسی فہرست میں ہیں۔
اس کے علاوہ مسلمانوں کے "خیر خواہ" شیخ محمد زید کی تصویر بھی دو شیزاؤں کے ساتھ، الطاف بھائی کی زبان میں، “ایک پپی ادھر، ایک پپی اُدھر” والی کیفیت میں منظرِ عام پر آ چکی ہے۔
ملکہ الزبتھ کے تیسرے بیٹے پرنس اینڈریو کی ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ تصویر بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں وہ اس لڑکی کے مخصوص مقامات کی طرف ہاتھ بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
سابق ام��یکی صدر جو بائڈن کو بھی کئی مرتبہ چھوٹے بچوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا ہے۔
یہ صرف وہ جانی اسکینڈلز ہیں جو بچوں کے ساتھ ہیں ورنہ بل کلنٹن کی اپنی 19 سالہ نوکرانی مونیکا لیونسکی اور جان کینیڈی کی میڈلین منرو کے ساتھ رنگ رلیاں ایک الگ موضوع ہے۔
جاری ہے 👇👇👇
امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے۔
چین پر 15 ٹریلین ڈالر۔
جاپان پر 10 ٹریلین ڈالر۔
جرمنی پر 3 ٹریلین ڈالر۔
برطانیہ پر 3 ٹریلین ڈالر۔
فرانس پر 3.5 ٹریلین ڈالر۔
زمین پر تقریباً ہر بڑی ریاست قرض میں ڈوبی ہوئی ہے۔
عالمی قرضہ مجموعی طور پر 317 ٹریلین ڈالر ہے۔
317 ٹریلین ڈالر۔
یہ رقم عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 330 فیصد کے برابر ہے۔
دنیا میں جتنی بھی سالانہ پیداوار ہو��ی ہے، وہ کل قرض کے برابر بھی نہیں بنتی۔
اگر پوری دنیا تین سال تک کچھ بھی خرچ نہ کرے تو تب جا کر یہ قرض ادا ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھتا۔
اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟
اگر دنیا پر 317 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو پھر 317 ٹریلین ڈالر کے اثاثے کس کے پاس ہیں؟
جب دنیا کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کی ذمہ داریاں ہیں تو وہ اثاثے کس نے رکھے ہوئے ہیں؟
قرض ایک صفر جمع صفر کا کھیل ہے۔
ہر قرض لینے والے کے مقابلے میں ایک قرض دینے والا ہوتا ہے۔
اگر امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو کسی کے پاس امریکہ کے خلاف 36 ٹریلین ڈالر کے دعوے موجود ہیں۔
اگر عالمی قرض 317 ٹریلین ڈالر ہے تو کسی کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثے ضرور ہیں۔
وہ کون ہے؟
اس سوال کا جواب انسانی تاریخ کے سب سے ��ڑے دولت کے ارتکاز کے نظام کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نہ جنگ کے ذریعے ہوا، نہ چوری سے،
بلکہ ایک ایسے نظام کے ذریعے جہاں اکثریت قرض لیتی ہے اور اقلیت قرض دیتی ہے،
جہاں سود ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے،
اور جہاں قرض ریاضیاتی طور پر کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا،
لہٰذا وہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور دولت کو اوپر کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔
یہاں ہم بتائیں گے کہ اصل میں 317 ٹریلین ڈالر کا عالمی قرض کس کے پاس ہے،
یہ نظام کیسے قرض تو پیدا کرتا ہے مگر اسے ادا کرنے کے لیے پیسہ پیدا نہیں کرتا،
یہ حادثہ نہیں بلکہ دانستہ ڈیزائن کیوں ہے،
کون سے مخصوص ادارے اور افراد دائمی قرض سے فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور یہ نظام آخرکار کیوں لازماً ٹوٹے گا۔
اس کو سمجھنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں ہے،
بلکہ یہ دیکھنے کا معاملہ ہے کہ عالمی قرض کا نظام کس طرح دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹتا ہے،
اور اس ارتکاز کو قدرتی اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ ہم بتائیں کہ قرض کس کے پاس ہے،
آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید نظام میں قرض اصل میں ہوتا کیا ہے۔
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض ذاتی ادھار کی طرح کام کرتا ہے۔
آپ بینک سے 10 ہزار ڈالر لیتے ہیں۔
بینک کے پاس پہلے سے 10 ہزار ڈالر ہوتے ہیں جو وہ آپ کو دے دیتا ہے۔
جب آپ واپس کرتے ہیں تو بینک کو اس کے 10 ہزار ڈالر اور اس پر سود مل جاتا ہے۔
جدید مالی نظام اس طرح کام نہیں کرتا۔
جب کوئی حکومت بینک سے 10 ہزار ڈالر قرض لیتی ہے تو بینک کو اصل رقم اور سود واپس ملتا ہے،
لیکن جب حکومت بانڈ جاری کر کے قرض لیتی ہے تو پیسہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا۔
قرض لینے کا عمل ہی پیسہ پیدا کرتا ہے۔
مرکزی بینک یا کمرشل بینک حکومتی بانڈ خریدتے ہیں
اور یہ رقم محض کھاتوں میں اندراج کے ذریعے، یعنی ہوا سے�� پیدا کی جاتی ہے۔
امریکی حکومت کو ایک ٹریلین ڈالر چاہئیں۔
وہ ٹریژری بانڈ جاری کرتی ہے۔
فیڈرل ریزرو اعلان کرتا ہے کہ وہ 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدے گا۔
کمرشل بینک باقی 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کو یہ 500 ارب ڈالر کہاں سے ملتے ہیں؟
یہ اس کے پاس ہوتے ہی نہیں۔
وہ کمپیوٹر میں نمبر ٹائپ کر کے یہ پیسہ بنا لیتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کے بیلنس شیٹ میں 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
لیکن صرف اصل رقم پیدا کی جاتی ہے۔
سود پیدا نہیں کیا جاتا۔
اگر حکومت ایک ٹریلین ڈالر 5 فیصد سود پر قرض لیتی ہے
تو اسے ایک ٹریلین کے علاوہ ہر سال 50 ارب ڈالر سود بھی دینا ہوگا۔
لیکن نظام میں صرف ایک ٹریلین ڈالر پیدا ہوئے تھے۔
یہ 50 ارب کہاں سے آئیں گے؟
یا تو مستقبل میں مزید قرض لے کر،
یا پھر موجودہ رقم پر ٹیکس لگا کر۔
یہ ایک ریاضیاتی جال ہے۔
کل قرض ہمیشہ کل رقم سے زیادہ ہوتا ہے
کیونکہ قرض پر سود واجب الادا ہوتا ہے مگر وہ رقم کبھی پیدا ہی نہیں کی جاتی۔
اس نظام کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل نئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے
تاکہ پرانے قرض کا سود ادا ہو سکے۔
یہ خرابی نہیں ہے۔
یہی اس کا ڈیزائن ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ قرض آخرکار کس کے پاس ہے۔
جواب چار بڑی اقسام میں ہے۔
پہلی: مرکزی بینک۔
دوسری: ادارہ جاتی سرمایہ کار۔
تیسری: غیر ملکی حکومتیں۔
چوتھی: انتہائی امیر افراد۔
پہلی قسم: مرکزی بینک۔
فیڈرل ریزرو کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا امریکی حکومتی قرض ہے۔
بینک آف جاپان کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا جاپانی قرض ہے۔
یورپی مرکزی بینک کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا یورپی قرض ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا کے پاس تقریباً 3 ٹریلین ڈالر ہیں۔
جاری ہے 👇