یہ ہے دنیا کا سب سے بڑا سمندری جہاز ابراہم لنکن اس نے امریکہ سے نومبر میں اپنے سفر کا اغاز کیا اور ایران جنگ میں حصہ لیا تقریبن 286 دن مسلسل پانی میں بغیر کسی بندرگاھ کے وقت گذارے اس وقت تھائی لینڈ پہنچا ہے اس وڈیو میں کنٹینر دیکہائے جارہے ہیں جو کہ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا ایندھن اسٹور کرنا ہوتا ہے جبکہ ابراہم لنکن خود نیوکلیئر کے ذریعے بجلی پیدا کرکے چلتا ہے ۔
اس میں 5000 امریکی فوجی سوار تھے اور مسلسل پانی میں رہنے کی وجہ کئی فوجیوں کی ڈپریشن میں جانے کی بھی اطلاعات ہیں اس کے واش روم و دیگر بہت ساری خرابیاں آگئی تھی یہ جہاز ایران جنگ کے دوران مسلسل اپنی جگہ تبدیل کرتا رہا ۔
اور یہی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ ایکیورٹ لوکیشن نا ہونے کی وجہ اس پر ایران نے میزائل نہیں کئے بعض رپورٹ کے مطابق یہ بھی سامنے آیا کے ایران نے اس پر میزائل داغے تھے۔
اس جہاز کی کچھ زنگ آلودہ تصاویر بھی شیئر ہوئی تھی جسکی تصدیق نہیں ہوسکی ۔
۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں 18 سالہ بدحکمرانی کے خلاف کراچی کی چارج شیٹ تیار ہے—اور اس چارج شیٹ کا ہر صفحہ سوال کرتا ہے کہ آخر تین کروڑ شہریوں کا قصور کیا ہے؟2008 سے سندھ پر مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ خزانہ، پولیس، پانی، ٹرانسپورٹ، بلڈنگ کنٹرول، اسپتال، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی بجٹ—سب اس کے اختیار میں رہے۔ پھر بھی کراچی پانی ٹینکروں سے خریدتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کو ترستا ہے، ٹوٹی سڑکوں پر رینگتا ہے اور اسٹریٹ کرائم کے خوف میں جیتا ہے۔کے فور دہائیوں بعد بھی ادھورا، سیف سٹی نامکمل، ریڈ لائن شہریوں کے لیے عذاب، نکاسیٔ آب تباہ اور غیر قانونی تعمیرات کا جنگل پھیلتا جارہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجوں کا معاملہ نظامِ صحت پر مزید سنگین سوال اٹھاتا ہے۔آج On My Radar میں کراچی پیش کررہا ہے پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کے خلاف اپنی مکمل Charge Sheet۔اس دھماکہ خیز OMR کو دیکھنے کے لیے YouTube لنک ضرور کلک کریں https://t.co/63orientDx
جناب اسپیکر بات سنیں جب شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں پنجابیوں کو گولی ماری جاتی ہے تو اُس وقت بلوچستان سے کوئی آواز نہیں اٹھتی ان کی زبانوں کو لقوہ مار جاتا ہے ہمارے پاس اعدادوشمار موجود ہے ۔ خواجہ آصف 🔥
ایم این اے (PMLN) بابر نواز خان نے مشال یوسف زئی کو دھو دیا کہتے ہیں بی بی میں تمہاری طرح کپڑے دھو دھو کر خیرات کی نشست پہ سینٹ کا ممبر نہیں بنا میں الحمدللہ ہری پور سے ایوب خاندان کو جو 70 سالوں سے مسلط ہےوہ بدترین شکست دے کرعوامی مینڈیٹ سے ایم این اے منتخب ہوا ہوں مشال بی بی کا رونا چیک کریں 😭💬
جو عمران خان اپنے فائدے کے لئے مولانا فضل الرحمان جس کو ڈیزل کہتا تھا محمود اچکزئی جس کا مذاق اڑایا کرتا تھا پرویز الٰہی جسکو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اگر اسکو ریلیف نظر آیا تو وہ ن لیگ کیساتھ بھی بیٹھ جائے گا یہ ایک ہوا کھڑا کیا ہوا ہے وہ بہت ضدی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے وہ یوٹرن لیتا ہے جہاں اسکا مفاد ہو حماد حسن۔۔
فیصل نصیر انکل نے آتے ہی حامد میر اختر مینگل ماہرنگ کے ناراض بھائیوں کا ٹکا ٹک بنانا شروع کر دیا ہے بھوسڑی والوں نے ناکہ لگایا تھا وہی پر تندور بنا دیا
شاوا شہزادے تُن کے رکھ “ 16 ایف سی اہلکاروں کی شہادت کا بدلہ شروع ہے 🙌🏻🙌🏻
بریکنگ نیوز: انقلابیوں نے بہت ہمت کر کے امریکہ کے دو بحری جہازوں پر اپنے بہترین میزائلوں سے حملہ کیا. امریکہ کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن جواب میں امریکہ نے علاقے کی نئی "سپرپاور" کے تین بڑے آئل ٹینکرز تباہ کر دیئے.
امریکہ نے آئل ٹینکرز تباہ کر کے انقلابیوں کو کھلی دھمکی دی کہ اگر اب ہمارے جہازوں پر حملہ کیا تو ناکہ بندی مزید سخت کر دیں گے.
اس تباہی کے بعد انقلابیوں نے مزید کسی امریکی بحری جہاز پر حملہ نہیں کیا اور اس دھمکی کے بعد واضح ہو گیا کہ انقلابی خوف کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل پر حملہ نہیں کرتے.
انقلابی صرف چھوٹے مسلمان ملکوں پر حملہ کرتے ہیں جو صرف دفاع کرتے ہیں لیکن جوابی حملہ نہیں کرتے. اب انقلابیوں میں واقعی اگر کوئی دم خم ہے تو کم از کم تین امریکی بحری جہازوں کو ضرور سمندر برد کریں....
اگر نہیں کر سکتے تو آئندہ بڑھکیں نہ ماریں اور کمزور مسلمان ملکوں پر تو حملہ بلکل بھی نہ کریں کیونکہ کمزوروں پر حملہ کرنے والے بہادر نہیں بلکہ گیڈر ہوتے ہیں
خارگ: ایران کا ایک تیل بردار جہاز غرق کر دیا، دو ناکارہ بنا دیے، کارروائی بیلسٹک میزائلوں سے امریکی جنگی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی کوشش پر کی۔ ضرورت پڑی تو ایران کے پاس محدود تعداد میں موجود آئل ٹینکروں کے پورے بیڑے کو تباہ کر دیں گے، سینٹ کام
یہ حملے اس لیے اہم ہیں کہ امریکی ناکہ بندی کے سبب ایران نے ساحلی علاقوں میں کئی جہازوں (آئل ٹینکروں) میں تیل کا بڑا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ امریکی فوج نے ان جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے
یار من حافظ صاحب نے کمال کا ون لائنر کہا تھا
’’اگر انڈیا کے پاس اجیت دوول ہے تو ہمارے پاس بھی فیصل نصیر ہے۔‘‘
اس ایک جملے پر میں ایک عرصے تک غور کرتا رہا، پھر جب بھارت کی ایک ایک چال وقت کے ساتھ کھل کر سامنے آنا شروع ہوئی اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے سامنے انڈین دراندازیوں اور شرارتوں کا چرچا ہوا تو اس خاموش اسپائی ماسٹر کی حکمتِ عملی اور اسٹریٹجک سوچ کا قائل ہوتا چلا گیا۔
آج دل کچھ بوجھل تھا، یار من سے بات ہوئی تو وہ اپنی مخصوص معصومانہ مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے
’’بندے کو اگر کام آتا ہو تو وہ کہیں بھی جائے، اپنی کارکردگی سے جھنڈے گاڑ کر دکھا سکتا ہے۔‘‘
نیکٹا کیا تھی اور کیا رہی، یہ سب جانتے ہیں، مگر نیکٹا اب کیا ہوگی؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا
اجیت دوول کو عہدے نے مؤثر نہیں بنایا اصل چیز اسکی صلاحیت تھی جس نے عہدے کو اثر میں بدلا اسی طرح کسی شخص کی آزمائش بھی اس کے منصب سے نہیں، اس میدان سے ہوتی ہے جو اسے اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے ملتا ہے۔
تاریخ میں بعض لوگ عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں، اور بعض کے ہاتھ میں آنے والے عہدے اپنی پہچان بدل لیتے ہیں۔
کام کا بندہ جہاں کھڑا ہو، وہیں سے لکیر کھنچنا شروع ہوجاتی ہے، شرط صرف یہ ہے کہ اسے کام کرنے کا میدان ملے
آفتاب نذیر
🚨 مصدق ملک نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک انتباہ دیا:
"اگر معاہدوں اور عالمی انصاف کی کوئی حیثیت نہ رہے تو پھر صرف جنگل کا قانون رہ جائے گا، جہاں طاقتور ہی غالب آئے گا۔"
دنیا کو یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کسی طاقتور کے سامنے جھکنے والا نہیں
آپریشن سندور میں یہ ثابت ہو چکا ہے۔اس لیے جنگل کا قانون نہیں چلے گا—پاکستان اپنے حقوق کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ 🇵🇰🔥
ملک ریاض کا منصوبہ اور پاکستانی قرضے ختم ؟؟؟؟
تقریبا 2003ء میں پنڈی میں کہا جاتا تھا
کہ ملک ریاض بحریہ ٹاون نے حکومت کو آفر کی ہے.
کہ نالہ لئی بحریہ ٹاون کے حوالے کر دیا جائے تو وہ پاکستان کا سارا قرضہ اتار سکتا ہے ۔
ظاہر ہے ہمیں یہ گپ لگتی تھی۔۔ ہمارا خیال تھا کہ ملک صاحب شاید کسی روز ترنگ میں آ کر کچھ کہہ ہی گئے ہوں.
مگر عملی طور پر یہ ناممکن تھا۔
مگر جو اس پر یقین کرتے تھے.
ان کے پاس پورا اک پلان تھا ۔۔ کہ یہ کیسے ممکن ہے. یہ پلان تھا بھی قابل عمل۔۔
یہ بڑا لمبا چوڑا پروجیکٹ تھا. بعد میں شیخ رشید کی جانب سے لئی ایکسپریس وے کا منصوبہ انہی خطوط پر بنایا گیا تھا.
ملک ریاض اور شیخ رشید کے منصوبے میں فرق یہ تھا. کہ ملک صاحب نے لئی کے دونوں اطراف بڑے بڑے شاپنگ مالز. اپارٹمنٹ بنانے تھے. ان کے سامنے سے روڈ گزارنا تھا. اور لئی کے دونوں اطراف کو بزنس سیینڑ بنانا تھا.
جبکہ شیخ صاحب کا منصوبہ دونوں اطراف روڈ کا تھا .
شیخ صاحب کا منصوبہ کوئی خاص نہیں تھا.لئی کے دونوں اطراف کچا روڈ ویسے بھی ہے. جس میں رکاوٹیں ہیں۔ یہی رکاوٹیں دور کر کے روڈ پختہ ہونا تھا.
اور پھر لو جی بن گیا لئی ایکسپریس وے.
ملک ریاض کامنصوبہ اگرچہ گپ تھا ۔۔مگر یہ تھا بڑا جدید. اور یہی اب نالہ لئی کی تباہ کاریوں سے بچنے کا حل رہ گیا ہے.
ملک ریاض کے منصوبے کے حامیوں سے جب پوچھا جاتا تھا.
کہ بھیا. دونوں اطراف پہ مارکیٹیں بنا لو گئے. تو ظاہر ہے نالہ لئی کی چوڑائی کم ہو گئی. . چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے برسات میں تو اطراف میں بنی ان مارکیٹوں پر تباہی پھر جانی ۔۔ آپ کا بزنس سینٹر تو وڑ جانا.
تو وہ نہایت سنجیدگی سے اس کا حل یہ دیتے تھے ۔۔
کہ نالہ لئی.میں آج تک پانی کی جو بلندی ہے. وہ چھبیس فٹ ہے ۔۔۔ چاہے جتنی بھی طغیانی آئے ۔۔ پانی چھبیس فٹ تک بلند ہوتا ہے.
اب پانی لئی کے کناروں سے باہر نکل کر شہر میں اس لیے پھیلتا ہے کہ مسلسل گند اور کچرہ اس میں پھینکنے سے اس کا گراونڈ لیول بلند ہو چکا ہے.
اس کے علاوہ اس کے کناروں پر قبضے کر کے. اس کی چوڑائی کو بھی کم کر دیا گیا ہے. .
اب جو ملک ریاض کا منصوبہ ہے. اس سے تو مزید چوڑائی کم ہونی ہے ۔۔مطلب پانی کی سطح مزید بلند ہوگی.
لیکن منصوبے کے تحت چوڑائی کم ہونے کو گہرائی ذیادہ کر کے مینج کیا جانا تھا۔
لئی کی گہرائی کو پچاس فٹ سے بھی ذیادہ کیا جا سکتا ہے. اور اسطرح اس کے پانی کو کناروں کے اندر اندر ہی رکھا جا سکتا ہے.
گہرائی ذیادہ ہونے پر شہر کے مکانات کو نقصان کو بھی وہ لئی کےکناروں اور نچلی سطح کو پختہ ختم کر دیتے تھے. .
یہ منصوبہ ہی رہا. . کبھی بات آگے نہیں بڑھی ۔۔۔
شیخ صاحب نے جو لئی ایکسپریس وے منظور کرایا تھا. وہ بھی اس وجہ سے قابل عمل نہیں ۔۔کہ اخراجات بہت ذیادہ ہیں. حکومت اتنا فنڈ نہیں دے سکتی ۔۔
ملک ریاض کی اس مبینہ آفر اور منصوبے کو گپ ہی قرار دیا جاتا ہے. .
لیکن یقین کیجیے ۔۔ لئی کا حل اب یہی رہ گیا ہے. .
کہ اس کی گہرائی کو ذیادہ کیا جائے اور یہ اب ناممکن نہیں.
لاہور میں جب شہر پچاس فٹ نیچے سے اک نئی اور بڑی سیوریج لائن کا منصوبہ بن سکتا ہے. جس میں رکاوٹ یہ ہے کہ اس سے اندورن پرانے لاہور کے مکانات کو ہونے والے نقصانات سے کیسے بچا جائے ۔۔
پنڈی میں تو یہ آسان ہے. . کہ یہاں شہر کو کھوکھلا کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ لئی موجود ہے ۔بس اسے گہرا کرنا ہے. .
ملک ریاض کا منصوبہ نہ سہی. . لئی ایکسپریس وے پر تو سوچا جا سکتا ہے. .
اس کے علاوہ پنڈی کی منیجمنٹ چاہے جتنے جتن کر لے لئی کا مسئلہ یوں ہی رہنا ہے.
کیونکہ لئی پر سب سے ذیادہ دباو پنڈی نہیں بلکہ اسلام آباد کے نالے ڈالتے ہیں۔ اور اسلام آباد کا رویہ اس حوالے سے نہایت خود غرض ہے. ۔سی ڈی اے نالوں کے حوالے سے جتنی بھی پلاننگ کرتا ہے. وہ صرف اس پر ہوتی ہے کہ پانی کو اسلام آباد کی حدود سے کیسے نکالا جائے. . اسلام آباد کی حدود سے نکلنے کے بعد پانی کیا کرتا ہے. یہ سوچنا سی ڈی اے کا کام نہیں.
اور سی ڈی اے اسلام آباد کے اندر کتنی ناقص پلاننگ کرتا ہے. اس کا انداز اسلام آباد کے چھوٹے نالوں کی طرف سے ہونے والی تباہی سے ہی لگایا جا سکتا ھے۔
کیا آپ جانتے ہیں چین کا تھری گورجز ڈیم اتنا وسیع و عریض ڈھانچہ ہے کہ جب اس کا ذخیرہ پانی سے بھر جاتا ہے تو یہ زمین کی گردش کو معمولی سا سست کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں دن کا دورانیہ تقریباً 0.06 مائیکرو سیکنڈ بڑھ جاتا ہے۔
فزکس کے اصولوں کے مطابق، جب اس ڈیم میں 42 ارب ٹن پانی سمندر کی سطح سے 175 میٹر کی بلندی پر جمع ہوتا ہے، تو زمین کی کمیت کا مرکز تبدیل ہونے سے اس کی اپنے محور پر گھومنے کی رفتار پر اثر پڑتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کے سائنسدانوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانی کے اس بے پناہ وزن کی وجہ سے زمین کا جغرافیائی قطب بھی تقریباً 2 سینٹی میٹر سرک گیا ہے، یعنی انسانوں کا بنایا ہوا ایک ڈیم بھی زمین کی گردش پر معمولی سا اثر ڈال سکتا ہے۔ واقعی حیران کن بات ہے!
شفا یوسفزئی نے PTI اور عمران خان کا پھاڑ کر دو کر دیا ہے 😂
اخے PTI الگ ہے اور عمران خان الگ ہے 🤷♂️😂🙆🏻♂️
کسی نے درست کہا تھا کہ یوتھیوں کے دماغ میں گوبر بھرا ہے جبکہ یہ اپنے پچھواڑے سے سوچتے ہیں 🧠 🍑