Six United Nations human rights Special Procedures mandate holders have officially communicated to the Government of Pakistan (Ref: AL PAK 4/2026) that its decision to designate the Azad Jammu and Kashmir Joint Awami Action Committee as a terrorist organization under the Anti-Terrorism Act may violate international law. They warned that the civic, labor, and rights coalition was unjustifiably targeted and proscribed in retaliation for its political advocacy and public demonstrations rather than genuine terrorist conduct, citing severe violations of due process, the Minnesota Protocol, and the International Covenant on Civil and Political Rights following a violent crackdown that lead to the deaths of at least 96 protesters.
تھریڈ 🧵
اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا انتباہ:
جے اے اے سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے حکومتِ پاکستان کو بتایا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کو اس کی سیاسی، مزدوروں کے حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق مہمات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چھ انسانی حقوق کے ماہرین نے حکومتِ پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون سے متصادم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس تنظیم کو اس کی سیاسی، مزدوروں کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں کے ردِعمل میں نشانہ بنایا گیا ہو۔
جنیوا میں موجود اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے 14 صفحات پر مشتمل ایک مراسلے (حوالہ: AL PAK 4/2026) میں کہا ہے: ’’ہمیں تشویش ہے کہ یہ درجہ بندی دہشت گرد تنظیموں کو فہرست میں شامل کرنے سے متعلق بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہو، اور یہ کہ جے اے اے سی کو اس کی سیاسی، مزدوروں کے حقوق اور انسانی حقوق کی وکالت کے ردِعمل میں بلاجواز فہرست میں شامل کیا گیا ہو، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔‘‘ یہ خط حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ پر عام کیا گیا۔
4 ستمبر 2026ء کو جاری ہونے والے اس خط پر انسدادِ دہشت گردی کے دوران انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے بین سول، من مانی حراست سے متعلق ورکنگ گروپ کی چیئر رَیپورٹر گانا یودکیوسکا، اور ماورائے عدالت، سرسری یا من مانی ہلاکتوں سے متعلق خصوصی نمائندے مورس ٹیڈبال بِنز کے دستخط ہیں۔ دیگر دستخط کنندگان میں آزادیِ اظہار کے خصوصی نمائندے لیوپولدو مالڈوناڈو گوتیئرز، پُرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ جینا رومیرو، اور انسانی حقوق کے محافظوں سے متعلق خصوصی نمائندہ اینڈریا بولانیوس ورگاس شامل ہیں۔
#RightsMovementAJK @UNHumanRights@UN_SPExperts@BBCWorld@Reuters
1/8
United Nations human rights experts have told the Government of Pakistan that its decision to proscribe the Azad Jammu and Kashmir Joint Awami Action Committee (JAAC) as a terrorist organization may violate international law. They suggest the group was targeted because of its political, labour and human rights campaigning. UN experts warn terror listing of JAAC violates international law https://t.co/Vo7KjkE6IM via @voicepkdotnet
#RightsMovementAJK
🚨 Kashmir is now firmly on the international human rights agenda.
Six UN Special Rapporteurs have raised serious concerns with the Government of Pakistan over the situation in Pakistan-administered Jammu & Kashmir, questioning the decision to designate the Joint Awami Action Committee (JAAC) a terrorist organisation.
Their communication, AL PAK 4/2026, seeks answers regarding reported killings of 96 protesters, more than 70 arrests and restrictions imposed on 205 individuals under the Fourth Schedule.
The UN experts have demanded explanations, investigations into alleged human rights violations and accountability for those responsible.
Demanding political, economic and democratic rights is not terrorism. Peaceful protest must be protected, not criminalised.
The Government of Pakistan must respond transparently and respect its international human rights obligations. The people of Kashmir deserve justice, freedom and accountability.
📄 The UN communication document is linked in this post. Read the original document and examine the questions raised by the UN experts.
https://t.co/F5qc5S74Ul
@UNHumanRights@UN_SPExperts@UNinPak@amnesty@hrw@RSF_inter@EUPakistan@ukinpakistan
#RightsMovementAJK #JAAC #KashmirBleeds
@AJEnglish@Ali_Mustafa@worqas@DropSiteNews@BBCWorld@mehdirhasan@zeteouk@zeteo_news@ABC@amnestysasia@amnesty@Imran_HussainMP
UN Experts warn Pakistan’s terror listing of JAAC may violate international law.
Six UN human rights experts (incl. Special Rapporteur Ben Saul) wrote to Islamabad (AL PAK 4/2026) expressing concern that designating the Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee as a terrorist organisation may not meet international standards and may be retaliation for its political, labour & human rights advocacy.
JAAC is a civil society coalition of traders, lawyers & activists in Azad Kashmir campaigning on governance, services & rights since 2023. Listed under the Anti-Terrorism Act on 5 June 2026 after calling a strike.
Experts flag possible misuse of counter-terror powers against freedom of expression, assembly & association, plus reports of excessive force (at least 96 protesters killed since June).
They have asked Pakistan for the basis of the listing, safeguards, investigations into deaths, and interim measures.
Letter now public on OHCHR Special Procedures site.
#RightsMovementAJK
3/3
پاکستان حکومت سے آٹھ اہم سوالات کے جوابات طلب
اقوام متحدہ کے چھ خصوصی ماہرین نے پاکستان حکومت سے آٹھ نکات پر تفصیلی وضاحت طلب کی ہے، جن میں عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی قانونی اور حقیقی بنیاد، اس فیصلے کے لیے استعمال ہونے والے شواہد، اپیل اور عدالتی نظرثانی کے طریقہ کار، آزادی اظہار اور پُرامن احتجاج کے تحفظ، مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تحقیقات، مبینہ غیر قانونی گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور فورتھ شیڈول میں شامل 205 افراد کے خلاف کارروائی کی قانونی وجوہات شامل ہیں۔
مراسلے میں پاکستان حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسانی حقوق کے تحفظ، معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے سرگرمیاں جاری رکھنے اور انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر کام کرنے کی ضمانت دینے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
60 روز میں جواب اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے مراسلے میں واضح کیا ہے کہ پاکستان حکومت کا جواب موصول ہونے پر اسے بھی اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکتا ہے، جبکہ جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں مراسلہ 60 روز مکمل ہونے پر عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا اور بعد ازاں انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بھی شامل کیا جائے گا۔
مراسلے کے اختتام پر پاکستان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے، ان کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے بچانے اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری عبوری اقدامات کیے جائیں۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنایا جائے۔
سی این آئی نیوز کے رپورٹنگ ٹیم کے مطابق اقوام متحدہ کے چھ خصوصی ماہرین کا یہ مشترکہ مراسلہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی پیش رفت ہے۔ اس میں صرف عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر سوال نہیں اٹھایا گیا بلکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع، گرفتاریوں، شہری آزادیوں اور 205 افراد پر عائد مبینہ پابندیوں کے بارے میں بھی پاکستان حکومت سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان حکومت ان تحفظات اور آٹھ سوالات کے جواب میں کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
بشکریہ : سی این آئی نیوز
#cniurdu #cninewsnetwork #jaac #DGISPR #govpakistan #UNHRC_TakeAction
آزاد کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے چھ خصوصی ماہرین کا پاکستان حکومت کو ہنگامی مراسلہ، عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے، 96 مظاہرین کی ہلاکتوں اور 205 افراد پر پابندیوں سے متعلق جواب طلب
جنیوا (سی این آئی نیوز) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چھ خصوصی ماہرین نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے، احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ ریاستی طاقت کے استعمال، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان حکومت کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
4 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے اس اہم مراسلے کا حوالہ نمبر AL PAK 4/2026 ہے، جس میں پاکستان حکومت سے آزاد کشمیر کی صورتحال، عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی اور احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے آٹھ اہم سوالات کے جوابات طلب کیے گئے ہیں۔
مراسلے پر اقوام متحدہ کے چھ خصوصی مینڈیٹ ہولڈرز کی جانب سے دستخط کیے گئے ہیں، جن میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ، من مانی حراست، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادی اظہار، پُرامن اجتماع اور انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ سے متعلق خصوصی ماہرین شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دینے کا فیصلہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت نہ رکھنے کا خدشہ رکھتا ہے۔ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ کمیٹی کو اس کی سیاسی، مزدوروں اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا ہو۔
1/3
2/3
عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر سوالات
مراسلے کے مطابق 5 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے فرسٹ شیڈول میں شامل کرتے ہوئے کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔ حکام کی جانب سے کمیٹی پر دہشت گردی، انتشار پھیلانے، عوام کو خوف زدہ کرنے اور عدم تحفظ پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس اقدام کی قانونی اور حقیقی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت کے نمائندے ماضی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کرتے رہے، حتیٰ کہ اکتوبر 2025 میں مظفرآباد معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 28 مئی 2026 کو چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے دفتر کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو 30 مئی کے اجلاس میں شرکت کی تحریری دعوت دی گئی تھی، جس کا موضوع قانون ساز اسمبلی میں غیر ریاستی مہاجرین کی نشستیں تھا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ انتخابی عمل کے آغاز اور 27 جولائی 2026 کو ہونے والے انتخابات کے تناظر میں کیوں کیا گیا۔
مظاہروں کے دوران 96 شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر
مراسلے میں موصول ہونے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جون 2026 میں احتجاجی مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 96 مظاہرین جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 6 اہلکار ہلاک ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے تقریباً چار ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور مبینہ طور پر براہِ راست فائرنگ کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
مراسلے میں یہ تشویشناک الزام بھی شامل ہے کہ بعض مقتولین کے اہل خانہ کو اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے کے لیے ایسی دستاویزات پر دستخط کرنے پڑے جن میں انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ پُرامن مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آتشیں اسلحے کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور جان لیوا طاقت صرف اس صورت میں استعمال کی جا سکتی ہے جب کسی دوسری انسانی جان کو لاحق فوری خطرے سے بچانے کے لیے اس کا استعمال ناگزیر ہو۔
70 سے زائد گرفتاریاں، صحافی بھی متاثر
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی کارروائیوں کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان، حامیوں اور صحافیوں سمیت کم از کم 70 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ بعض افراد کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات بھی قائم کیے گئے۔
اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی بندش، کرفیو، ہسپتالوں کی بندش اور زخمی مظاہرین کو طبی سہولیات سے محروم رکھنے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
205 افراد فورتھ شیڈول میں شامل، بینک اکاؤنٹس اور پاسپورٹس منجمد کرنے کا الزام
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے مراسلے میں ایک اور اہم معاملے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 205 افراد، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مراسلے کے مطابق ان افراد کے سرکاری شناختی دستاویزات منسوخ یا معطل کیے جانے، بینک اکاؤنٹس اور پاسپورٹس منجمد کرنے اور اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے کی پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی پابندیاں متاثرہ افراد کی بنیادی سہولیات، طبی علاج، معاشی سرگرمیوں اور آزادانہ نقل و حرکت کے حقوق کو متاثر کر سکتی ہیں۔
آزادی اظہار اور پُرامن احتجاج کو دہشت گردی سے جوڑنے پر تحفظات
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان کو یاد دلایا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدے برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کا فریق ہے، جس کے تحت شہریوں کو آزادی اظہار، پُرامن اجتماع، تنظیم سازی، زندگی، آزادی اور سیاسی عمل میں شرکت کے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں قانون کے مطابق، ضروری اور متناسب ہونی چاہئیں۔ سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور پُرامن احتجاج کرنے کو بغیر ٹھوس قانونی جواز کے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ماہرین نے پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی بعض دفعات پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ دہشت گردی کی تعریف واضح اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے سے قبل قابلِ اعتماد شواہد، شفاف قانونی طریقہ کار اور مؤثر عدالتی نظرثانی کا حق فراہم کرنا ضروری ہے۔
@JavaidSardar suggested three reciprocal steps to break the deadlock, a must read.
PaJK’s Catch-22: Three Reciprocal Steps to Break the Deadlock https://t.co/8ky83LUgBt #
برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ، جسے منی میرپور بھی کہا جاتا ہے، میں آج مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس مظاہرے کی ایک خوبصورت اور قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ برطانیہ میں پروان چڑھنے والی کشمیریوں کی تیسری نسل بھی بھرپور انداز میں شریک تھی۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے بھمبر سے تاؤبٹ تک اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کو ایک مشترکہ شناخت، شعور اور مقصد کے تحت متحد کر دیا ہے۔
سچے جذبوں کی قسم فتح حق کی ہو گی
#RightsMovementAJK
@Imran_HussainMP@ImranRiazKhan@AzazSyed@HamidMirPAK@QasimKhanSuri@MoulanaOfficial@NationAfrica@DailyMirror
The conflicting statements from Iftikhar Gillani, Prime Minister of AJK, and SSP Bagh regarding the tragic incident in Bagh raise serious questions.
One day, the incident is described as a gas-cylinder explosion; the next day, responsibility is attributed to JKJAAC. Why are the explanations changing? What is the actual story behind this tragedy?
The public deserves the truth, not contradictory statements. We demand an independent, transparent and impartial investigation, with all evidence made public and those responsible held accountable.
Stop misleading the public. Kashmiris deserve answers and justice.
@UNHumanRights@amnesty@hrw@UN_SPExperts@UNinPak@RSF_inter
#RightsMovementAJK #Bagh #KashmirBleeds
@AJEnglish@Ali_Mustafa@worqas@DropSiteNews@nytimes@amnesty@amnestysasia@washingtonpost@BBCWorld@TurgayEvren1@theRealKiyosaki@KenRoth
بہت اہم، مدلل اور بروقت تحریر۔ سیاسی اختلاف کو کردارکشی اور خاندانوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ عوامی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق احترام، مکالمے اور قانون کا راستہ اپنائیں آپ نے موجودہ سیاسی صورتِ حال، عوامی حقوق، تیرہویں ترمیم اور سیاسی رواداری کے مسئلے کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اس وقت جب اختلافات کو ہوا دے کر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ہمیں واقعی اتحاد، سنجیدہ مکالمے اور ایک دوسرے کے احترام کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عوام کے حقوق اور اجتماعی مفاد کے معاملے میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ایسی تحریر یہ سمجھنے میں واقعی مدد گار ھے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے ہمیں اپنے مشترکہ مقصد پر توجہ دینی چاہیے۔ بہت خوب لکھا آپ نے