جیت ان شاءاللہ قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان حفظہ اللہ کےنام کرینگےاورہرقسم کی دھاندلی کو ناکام بنائینگےکارکنوں سے درخواست ہیں کہ ماچس کی ڈبہ اورکتاب کے نشان میں لوگوں کوفرق واضح کرےخاص کر بزرگوں کو بتاۓ اگر ان کو فرق واضح نہیں ہوتا تو ان کو نمبر میں بتاۓ 👇+
ہم کوئی غلام ہیں جو امریکہ کہے مان لیں ، واہ خان صاحب واہ
امریکہ دھاندلی پر دباؤ ڈالے ، واہ خان صاحب واہ
زرداری سے بات چیت نہیں ہوسکتی واہ خان صاحب واہ
زرداری سے مل کر حکومت بنائیں گے واہ خان صاحب واہ
خان نے پتے دکھانے شروع کردیے اور ایک ہی چال میں امریکہ اور زرداری کو ہرا دیا
اس ملک میں آئین کی بالادستی اگر کوئی لاسکتا ہے تو وہ صرف مرد قلندر مولانا فضل الرحمن ہی ہے، باقی سارے اپنے سروسز فراہم کروانے والے لائن میں کھڑے ہوچکے ہیں
#ایوان_نہیں_میدان
@AYousufpk ہم مولانا فضل الرحمان نہیں ۔
ہم ان کے سپاہی ہ��ں ۔
مولانا فضل الرحمان کے بننے کیلئے کہیں قربانیاں دینی پڑتی ہے ۔
ن لیگی مریم نواز بن سکتی ہے ۔ فیس سرجری کرکے ۔ 🫰😁
#ایوان_نہیں_میدان
پوری میڈیا انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا جو کہتی تھی کہ مولانا کا سیاست ختم ۔
لیکن کل یہ سب ایک ہی پریس کانفرنس کا انتظار کر رہے تھے ۔
معلوم یہ ہوا کہ مولانا مغربی میڈیا پلس ان کی ایجنٹی میڈیا کے ذہنوں پر مولانا صاحب اچھی طرح سوار ہے۔
جن کو اترانے دن رات لگے ہیں #ایوان_نہیں_میدان
@syed_bacha عدنان بھائی الیکشن کمیشن نے ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیوں دی تھی ۔ جب بندہ ملکی سالمیت کا غدار ہیں ان کو وفاداری سرٹیفکیٹ کیوں دیا۔ ؟
#ایوان_نہیں_میدان
کلیجہ چیر دینے والے الفاظ:
"میں نے 27 سال میں سیاست شروع کی, جب میرا ایک بال بھی سفید نہیں تھا, اب 72 سال کا ہوگیا ہوں, اور ایک بال بھی کالا نہیں,
ہماری وفاداری اور حب الوطنی کا مذاق اڑایا گیا"....💔😢
#ایوان_نہیں_میدان
ہمیں فلسطین اور قبلہ اول کیساتھ کھڑے ہونے کی سزا مل رہی ہے ،
2018 میں ایک لاڈلہ تھا اور اب لاڈلے چار ہوچکے ہیں ۔ ایک لاڈلہ سندھ میں ایک بلوچستان ، ایک پنجاب اور ایک پختونخوا میں بٹھایا ۔ پہلے ایک لاڈلا تھا وه ان سے سنبھالا نہیں گیا اور اب 4 لاڈلے بٹھائے۔ ایک لاڈلا ان کے گلے پڑا ہے ۔ اب آپ بتائیں کے اسٹبلشمنٹ کا 9 مئی کے حوالے سے بیانیہ تھا ٹھیک تھا یا 8 فروری کے نتائج درست ہیں
اینکر پرسن طلعت حسین صاحب ��یساتھ
#ایوان_نہیں_میدان
جےیو آئی کے مرکزی مجلس عاملہ نے 8 فروری 2024 کے انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر مسترد کردیا ہے ۔ انتخابی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے ۔الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے ۔جے یو آئی الیکشن کمیشن کے اس بیان کو مسترد کرتی ہے جسمیں الیکشن کو شفاف قرار دیا گیا ہے ۔
جے یو آئی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے اور جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، لگتا ہے اب فیصلے ایوان کی بجائے میدان میں ہونگے ۔
جے یو آئی پارلیمانی کردار ادا کرے گی تاہم اسمبلیوں میں ہماری شرکت تحفظات کے ساتھ ہوگی ۔
مرکزی مجلس عاملہ نے جے یو آئی پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ وہ جماعت کی پارلیمانی سیاست بارے فیصلہ دے کہ جے یو آئی مستقل پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہوتاکہ عوامی جدوجہد کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل اسمبلیوں کے انتخابات ممکن ہوسکیں ۔
چاروں صوبائی مجالس عمومی کے اجلاس صوبوں کے مرکزی مقامات میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں بارے انہیں اعتماد میں لیا جائے ۔
جے یو آئی سمجھتی ہے کہ جے یو آئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی اسلام دشمن عالمی قوتوں کے ذریعے سے ہوئی ہے ۔
ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں امارت اسلامیہ کے استحکام اور پاکستان افغانستان پرامن تعلقات کے لئے کردار ادا کیا نیز جے یوآئی نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف حماس کے موقف کی حمایت کی ہے ۔
جے یو آئی نظریاتی قوت ہے ۔ملک کا یہ داخلی نظام اور بین الاقوامی مسائل کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوگی ۔نیز مشاورت کے بعد ملک میں اپنے مقاصد کے لئے تحریک چلائے گی ۔
کارکن اپنی تاریخ کو اپنی قربانیوں سے تابندہ رکھنے کے عزم کے ��اتھ تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے لئے تیار رہیں ۔
اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں تو پھر اس کا معنی ہے کہ فوج کا نو مئی کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، اور عوام نے ان کے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔
الیکشن کے نتائج اس بات کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ کامیاب یا ناکام امیدواروں سے ��شوتیں لی گئیں ہیں اور بعض کو تو پیسوں کے بدلے پوری صوبائی اسمبلیاں دی گئیں ہیں ۔
مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے ۔اب بھی اسلام آباد میں الیکشن کمیشن ہمارے امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت سے انکار کررہا ہے اور نوٹس جاری کئے بغیر درخواستوں کو خارج کررہا ہے ۔22 فروری کو جے یو آئی اسلام آباد ،25 فروری کو جے یو آئی بلوچستان ، 27 فروری کو جے یو آئی کے پی ، 3مارچ کو جے یو آئی سندھ جبکہ 5 مارچ کو جے یو آئی پنجاب کی مجالس عمومی کے اجلاس ہونگے ۔
بھر میں بھر پور تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہوں ،
کارکنان کمر بستہ ہو جائیں۔✌️
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اع��ان
جو جو تیار ہیں وہ اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کریں
#ایوان_نہیں_میدان
ملک بھر میں بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہوں ،
کارکنان کمر بستہ ہو جائیں۔
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اعلان
جو جو تیار ہیں وہ اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کریں۔
#ایوان_نہیں_میدان
ملک بھر میں بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہوں ،
کارکنان کمر بستہ ہو جائیں۔
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اعلان
جو جو تیار ہیں وہ اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کریں۔
#ایوان_نہیں_میدان